Jaag Kashmir online news from Dadyal, Dudyal, Mirpur and Azad Kashmir
Jaag Kashmir online news from Dadyal, Dudyal, Mirpur and Azad Kashmir Sat, 25 Feb 2017

فون پر صرف uc browser میں کھولیں

Use UC Browser to open on mobile.

News from Dadyal, Mirpur and all Azad Kashmirحلقہ نمبر چھ وادی لیپہ فتح کی کنجی کون؟؟تحریر سید عدنان کاظمی

وقاص چوہدری نے یہ خبر 2016-08-06 کو pm01:26 پرcol کی کیٹیگری میں پوسٹ کی اور ابھی تک اس کو 96 قارئین نے پڑھا ہے۔
 

Jaagkashmir.com urdu news dadyal mirpur azad kashmir

                                                         آرٹیکل۔۔۔۔۔۔(جاگ کشمیر نیوز )

                                 عنوان۔۔حلقہ نمبر چھ وادی لیپہ فتح کی کنجی کون؟؟۔۔۔،مردقلندرانجینئررفاقت حسین اعوان

                                                              تحریر۔۔سیدعدنان کاظمی

                                                       فون نمبر:03473346398

حلقہ نمبر 29مظفرآباد 6وادی لیپہ آزادکشمیر کی سیاست میں ہمیشہ نمایاںمقام رکھتا ہے ،حلقہ نمبر چھ میں کئی سیاسی شخصیات نے جنم لیا جن میں منشی علی گوئرخان،شہیدمنیراعوان،چوہدری راج محمد اپنے اپنے دور میں حلقہ کی عوام کی اسمبلی میں بھرپورنمائندگئی کی اور عوام کی فلاح بہبود کے لیئے ہرسطح پرآوازاٹھائی اس کے علاوہ سیاسی سماجی شخصیات سردارحمیداللہ خان،صاحبزادہ جہانگیراختر نے بھی حلقہ میں مسائل کے حل کے لیئے ہرممکنہ کوشش کی حلقہ نمبر چھ میں برادریوں کے تناسب کے لحاظ سے گجر،اعوان،عباسی،مغل،بڑی برادریاں ہیں جبکہ حلقہ میں دوسری برادریاں بھی آباد ہیں حلقہ چھ کا شمار نیلم کے بعد مشکل اوردشوارگزارعلاقوں میں ہوتا ہے اس حلقہ میں سب سے بڑا مسئلہ رابطہ سڑکوں ،تعلیمی اداروں،صحت کے مراکز،اوربے روزگاری کا ہے،اسی حلقہ سے ایک سیاسی شخصیت جسے مخالفین اور اتحادیوں نے جیت کی کنجی کا خطاب دیا ہے اور یقینا وہ جیت کی کنجی اپنے آپ کو ثابت کرچکے ہیں ان کے سیاست میں قدم رنجا فرمانے کے بعد وہ جس بھی کسی امیدوارکی حمایت کرتے ہیں وہ بھاری اکثریت سے الیکشن جیت جاتا ہے اوران کی برکت کہیں یا قسمت وہ جس بھی جماعت کا ساتھ دیں وہ خوش قسمتی سے حکومت بھی بنا لیتی ہے حلقہ نمبر چھ کی اس عظیم انسان دوست شخصیت کا نام ممبر کشمیرکونسل انجینئررفاقت حسین اعوان ہے  اس حلقہ سے چوہدری محمد رشید2006میں ممبر اسمبلی منتخب ہوئے اور2011 میں انہوں نے دوبارہ پی پی کے ٹکٹ سے الیکشن میں حصہ لیااور اس بار ان کا مقابلہ مسلم کانفرنس کے دیوان علی خان سے تھا اس کانٹے دار الیکشن میں ممبرکشمیر کونسل انجینئررفاقت حسین اعوان نے ڈنکے کی چوٹ پر چوہدری محمدرشید کا ساتھ دیا اور انہیں بڑی لیڈ سے فتح دلوائی ،انجیئررفاقت حسین اعوان پی پی کے مرکزی راہنمائوں میں سے تھے مگر وہ حلقہ کی عوام کی خدمت کرنا چاہتے تھے جس کے لیئے انہوں نے کروڑوں روپے کے منصوبہ جات کا آغازکشمیرکونسل سے کیا اور عوامی مسائل کے حل کے لیئے متعلقہ وزیر کو باورکرواتے رہے اور حلقہ کی بھرپورترجمانی کرتے رہے عوامی مسائل حل نہ ہونے پر انہوں نے پی پی سے عوام کی پرزورمطالبے اور عوام کی خاطر پی پی سے راہیں جداکرنے کا فیصلہ کیا ،ان کے اس فیصلہ کو ان کی برادری اور چاہنے والوں نے من وعن تسلیم کیا یہ آزادکشمیر کی سیاسی زندگی کا پہلا فیصلہ تھا کہ جب کسی گروپ نے کسی جماعت میں شمولیت اختیار کی اس کے ہزاروں کارکنوں نے ایک آواز پر لبیک کہا اور اپنے محبوب قائد کے ساتھ کھڑئے ہوگئے بیرسٹرسلطان محمود،سرادرعتیق احمدخان سمیت دیگر جماعتوں نے اس فتح کی کنجی کو پانے کے لیئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا مگر فتح کی کنجی ان کے ہاتھ نہ لگ سکی اسی دوران مسلم لیگ(ن)بھی حلقہ نمبر چھ سے الیکشن میں اتری تھی ڈاکٹرمصطفے بشیر عباسی ان کے امیدوار تھے جو نوجوان ہونے کے ساتھ ساتھ بڑی جہدوجہد میں مصروف عمل  تھے ،اس دوران امکان ظاہر کیا جارہا تھا کہ اگر صدرمسلم لیگ(ن)راجہ فاروق حیدرخان مظفرآبادڈویژن کی ساتوں نشستیں جیت لیتے ہیں اورمسلم لیگ جیت جاتی ہے تو وزارت عظمی کا تاج ان ہی کے سر سجے گا وزارت عظمی مظفرآباڈ دویژن میں آنے اور ہٹیاں بالا ضلع کو ملنے کی اطلاعات جب رفاقت اعوان کو ملتی رہی تو انہوں نے انتہائی سیاسی دانشمندی کے بعد یہ سوچ کر مسلم لیگ میں شمولیت کا فیصلہ کیا کہ میں اپنے حصے کا کام کرو اورحلقہ چھ کی سیٹ جتوا کرراجہ فاروق حیدرخان کودیں  تاکہ وہ اس منصب پر فائز ہوکر خطہ کی جہاں تقدیر بدلیں گئے وہیں حلقہ نمبر چھ کا نقشہ بھی تعمیروترقی سے یکسر بدل جائے گا اہلیان لیپہ کے لیئے رفاقت اعوان نے جاندار آوازلیپہ ٹنل کئی باراٹھائی،مسلم لیگ(ن)کی جانب سے لیپہ ٹنل بنانے کی یقین دہانی کے بعد انہوں نے اہلیان لیپہ کی خاطر بھی بڑی قربانی دی ،ان کا مسلم لیگ(ن)میں شامل ہونے کا مقصد صرف اور صرف کارکنوں کا بہترین سیاسی مستقبل اور حلقہ کی فلاح وبہبوود تھی الیکشن سے کچھ دن قبل نومنتخب وزیراعظم راجہ فاروق حیدرخان ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئے جہاں پر رفاقت حسین اعوان نے اپنی سیاسی زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ راجہ فاروق حیدرخان کی عزت کی خاطربلامشروط مسلم لیگ(ن)میں شمولیت کی صورت میں کیا ان کی مسلم لیگ(ن)میں شمولیت کے بعد حلقہ میں سیاسی زلزلہ نے بھونچال مچا کر رکھ دی جس سے کئی بلندوبالا محلات آنکھوں دیکھتے دیکھتے زمین بوس ہونا شروع ہوگئے اور حلقہ سے فتح کی کنجی مسلم لیگ(ن)کے ہاتھ لگ گئی مخالفین ہاتھ ملتے رہ گئے اسی دوران کئی افواہیں چلائی گئی مگر رفاقت اعوان ایک بڑئے سیاسی ورکر ہیں  انہوں نے ڈاکٹرمصطفے بشیر کے ساتھ شانہ بشانہ چلتے ہوئے سیاسی عمل مکمل کیا اور مسلم لیگ(ن)کی بھرپور کمپین چلائی ،مخالفین کا کہنا تھا کہ یہ الیکشن ان کی سیاسی موت ہوگا مگر جسے اللہ عزتوں اور عظمتوں سے نوزانا چاہے اسے کون روکنے کا گمان کرسکتا ہے 21جولائی کی شام آزادکشمیر بھر کی عوام کی نظریں ورلڈ کپ میں پاک،بھارت میچ کے فائنل کے مصداق حلقہ چھ کے نتائج پر لگ گئی اورنتائج جب مکمل ہوئے تو حلقہ میں بڑئے بڑئے سیاسی برج الٹ گئے 10سے اور20سال سے حکمرانی کرنے والوں کو ڈاکٹرمصطفے بشیر نے انجیکشن لگادیا اور انجینئررفاقت اعوان نے بھی ان کی شکست کا نقشہ بنا کر پانچ سالہ تعمیروترقی وخوشحالی کے پروجیکٹ کا افتتاح کروا دیا ،اس بار مسلم لیگ(ن)کے امیدوارپانچ ہزار سے زائد ووٹ کی لیڈ سے الیکشن میں کامیاب ہوئے ،اور انہوں نے جیت کا سہرا رفاقت اعوان کے سر رکھ دیا ،اور اس دن سے موصوف کے سیاسی مخالفین پر حیرت سکتہ طاری ہوگیا اور جیت کی کنجی راجہ فاروق حیدرکو ملنے پر پشیمان ہوتے رہے ،حلقہ میں شاندار جیت میں ان کا کردار کسی سے ڈھکا چپھا نہیں اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس عظیم انسان دوست اور مردقلندرسیاسی شخصیت انجینئررفاقت حسین اعوان کو ان کی محنت کا پھل دیا جائے ،راجہ فاروق حیدرخان کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے ہمیشہ اپنے ساتھیوں کا خیال رکھا اور انہیں جائز مقام سے نوازا ،کارکن یہ امیدکرتے ہیں کہ موصوف کو وہ اعلی ترین سیاسی ایڈجسٹمنٹ سے نوازیں گئے ،کارکنان اورتمام برادریوں کا مشترکہ مطالبہ ہے کہ انجینئررفاقت حسین اعوان کو جماعتی خدمات کی بناء  ان کے شایان شان مقام سے نواز کر ان کی حوصلہ افزائی کی جائے اور گوہرنایاب اورفتح کی کنجی کو عوام کی خدمت جاری رکھنے کا سفر جاری رکھنے میں معاونت کی جائے۔۔۔۔۔۔۔۔

 

اگلی خبر پڑہیں پچھلی خبر پڑہیں

ایک ماہ کی مقبول ترین