Jaag Kashmir online news from Dadyal, Dudyal, Mirpur and Azad Kashmir
Jaag Kashmir online news from Dadyal, Dudyal, Mirpur and Azad Kashmir Mon, 16 Jan 2017

فون پر صرف uc browser میں کھولیں

Use UC Browser to open on mobile.

News from Dadyal, Mirpur and all Azad Kashmirکرپشن سے انکار"Say No to Curruption"تحریر:راجہ اُسامہ سرفراز

وقاص چوہدری نے یہ خبر 2017-01-10 کو pm11:47 پرcol کی کیٹیگری میں پوسٹ کی اور ابھی تک اس کو 24 قارئین نے پڑھا ہے۔
 

Jaagkashmir.com urdu news dadyal mirpur azad kashmir

( مہمان کالم)کرپشن سے انکار"Say No to Curruption"

تحریر:راجہ اُسامہ سرفراز

بابا رحمت کے مطابق آج کل حکومت کی جانب سے چلائے جانے والے اشتہارات برائے کرپشن سے انکار "Say No to Curruption"  حکومت کی جانب سے سستی شہرت حاصل کرنے کی علاوہ کچھ بھی نہیں ہے جبکہ پاکستان میں جو معاشرتی نظام اور حکومتی دفاتر میں''فائل کے ساتھ سائل''کا جو نظام رائج ہے اس کو بدلے بغیر اس معاشرے میں سے اس طرح کی لعنت کو نکالنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔بابا رحمت کہتا ہے کہ میں نے ایک سرکاری دفتر میں کام کرنے والے  ایک چھوٹے ملازم سے پوچھا کہ اب تو حکومت کی جانب سے موبائل فونز  پر اور یوٹیلیٹی بلوں پر پیغامات آنے لگ گئے ہیں کہ "Say No to Curruption"  تو اب رشوت ستانی ختم ہو سکے گی تو موصوف نے ہنس کر جواب دیا کہ بابا جی اس کا مطلب وہ نہیں جو آپ سمجھ رہے ہواور نہ ہی اس سے رشوت ستانی ختم ہونی ہے بلکہ ان سے فرق پڑے گا تو صرف اتنا کہ رشوت لینے کا طریقہ بدل جائے گا اور کچھ حد تک ریٹ بھی بڑھ جائے گا۔اس کے مطابق کرپشن زدہ محکموں اور عہدوں پر چیکنگ اور آڈٹ کے لئے ٹیمیں تشکیل دینے سے کرپشن ختم نہیں ہوتی بلکہ عوام پر رشوت کا بوجھ بڑھا دیا جاتا ہے۔حکومت پنجاب نے جائیداد کے انتقال کے نظام کو کمپیوٹرائز کر دیاگیالیکن پٹواری،گرداوراورتحصیلدار کی خوشنودی حاصل کرنا اپنی جگہ قائم ہے۔سرکاری دفاتر میں ریٹ لسٹیں نصب ہو جانے کے باوجود متعلقہ اہلکاروں اور افسران بالا کی خوشنودی کے بغیر کوئی کام کروانا ابھی تک ناممکن ہے۔دوکانوں پر ریٹ لسٹیں آویزاں کر دینے سے سستی اور معیاری چیز خریدنا بھی ایک خواب ہے۔حکومت کی جانب سے لگائے جانے والے سستے بازاروں میں ایسی اشیاء حکومتی نرخوں پر میسر ہوتی ہیں جو کہ استعمال کے لائق ہی نہیں ہوتیں۔

باباجی کے مطابق اس طرح کے پیغامات دینے سے اگر کوئی فرق ممکن ہوتا تو جب سے پاکستانی کرنسی کی چھپائی ہو رہی ہے اس پر ایک تحریر ہمیشہ سے نظر آرہی۔''رزق حلال عین عبادت ہے''لیکن نہ تو یہ تحریر رشوت دینے والا پڑھتا ہے اور نہ ہی لینے والا۔تو اس قسم کے پیغامات سے کیا فرق پڑھ جائے گا۔حکومت اگر ایک سرکاری فرمان جاری کرتے ہوئے ہر پاکستانی کے ماتھے پہ  چھپائی کروا کر بھی یہ پیغام  Say No to Curruption  لکھوا دے تو بھی یہ لعنت ختم کرنا ممکن نہ ہے۔ملک پاکستان کے وجود میں آنے سے لے کر آج تک احتساب اگر ہوا ہے تو صرف غریب اور متوسط طبقے کا۔جہاں پر 50روپے چوری کرنے پر تو سر منڈوا کر گدھے پر بٹھا دیا جاتا ہے لیکن اربوں کھربوں کی کرپشن کرنے والوں کو بچانے کے لئے اس کے تمام ساتھی گیدڑ اگٹھے ہو جاتے ہیں اور نیب یا احتساب والے پلی بارگین کر کی چند لاکھ وصول کر کے اس کرپٹ شخص کو باعزت بری کر دیتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں تبدیلی کا نعرہ لگانے والے لاکھوں بلکہ کروڑوں ہو سکتے ہیں لیکن صرف تب تک ،  جب تک کہ اس تبدیلی سے ان کے اپنے معاملات خراب نہ ہوں۔کرپشن فری معاشرہ چاہنے والی ایک جماعت کے حمایتی بھی اپنے اپنے دفتر میں اور معاملات میں پوری طرح ڈٹ کر چوری اور کرپشن کرتے پائے جاتے ہیںاور توقع کرتے ہیں کہ پاکستان میں تبدیلی ضرور آئے گی۔  قیام پاکستان سے لے کر آج تک ہم نے چار سے پانچ نسلیں اس لعنت کے حوالے کردیں ہیں جس کی وجہ سے پاکستانی معاشرہ من حیث القوم ایک کرپٹ معاشرہ بن چکا ہے۔جھوٹ اس قوم میں رچ بس چکا ہے۔اس معاشرے اور ملک کی سلامتی اور ترقی  کے لئے اگر چند سو لوگوں کی قربانی دینا بھی پڑ جائے تو یہ سودا بالکل مہنگا نہیں ہو گا۔قیام پاکستان کے وقت بھی تو لاکھوں مسلمانوں کی قربانی دینی پڑی تھی۔ہزاروں بچے یتیم ہوئے،ہزاروں بہنوں کی عصمت دری ہوئی، مائوں نے بیٹے اور بچوں نے باپ کھوئے تھے،  لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے اور اپنی تمام تر جمع پونجی چھوڑ کر جان بچاتے ہوئے پاکستان آئے تھے۔

بابا رحمت نے حکومت سے التجاء کی ہے کہ اگر کرپشن کی لعنت سے واقعی جان چھڑانا چاہتے ہیں تو صرف ایک دفعہ اپنی حکومت کے آخری ایام اس بات کا عزم کرتے ہوئے تمام جماعتی/سیاسی اور ذاتی وابسطگیوں کو بالا طاق رکھتے ہوئے اپنے،اپنے ساتھی سیاستدانوں اور اعلیٰ عہدہ داروں سے احتساب کا عمل شروع کریں اور اس لعنت میں ملوث افراد کو عبرت کا نشان بناتے ہوئے اس کی سزا موت یا عمر قید کے علاوہ اس کے تمام منقولہ و غیر منقولہ جائیداد کو بحق سرکار ضبط کر دیئے جانے کے احکامات جاری فرمائے جائیں۔  آپ یقین جانیئے کہ صرف چند سو لوگوں کی قربانی دے کر ہم اپنے ملک کو آنے والی تباہی  سے بچا سکتے ہیں اور آپ کی حکومت رہے یا نہ رہے آپ رہیں یا نہ رہیں۔آپ کا نام ہمیشہ زندہ رہ جائے گا۔#

 

اگلی خبر پڑہیں پچھلی خبر پڑہیں
Click on image to Enlarge
Jaag Kashmir urdu news mirpur azad kashmir

ایک ماہ کی مقبول ترین