Jaag Kashmir News


Jaagkashmir.com urdu news dadyal mirpur azad kashmir

ڈڈیال (سروے رپورٹ /وقاص چوہدری سے )    

متاثرین منگلا ڈیم عظیم قربانیوں کے باوجود نت نئی پریشانیوں میں مبتلا ۔نیو ٹائون ڈڈیال میں ٹوٹی پھوٹی سڑکیں ،بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ ،تعلیمی عمارتیں ، گرائونڈ ، پارک ، کمیونٹی ہال ، سُپر مارکیٹیں ، محضر صحت پانی ، سیوریج کا نظام درہم برہم ، بسوں کا اڈہ ، ڈسپنسری پر قبضہ ، مساجد نامکمل ، فون سروس بندقبرستانوں سمیت دیگر تمام شعبے واپڈا،سابقہ حکومتوں اور کمشنر امور منگلا ڈیم کی نااہلی کی بھینٹ چڑھ گئے رہی سہی کسر محکمہ برقیات نے نکال دی بند میٹروں کے لاکھوں کے بل متاثرین منگلا ڈیم کے ہاتھوں میں تھما دیئے واپڈا کیجانب سے متاثرین منگلا ڈیم کو ایک ایک آنسو کی قیمت دینے کے وعدے ایک بار پھر نقش بر آب ثابت ہوئے تارکین وطن آزاد کشمیر کے لیڈروں کو فنڈز نہ دیںمتاثرین کی مدد کریں سابق صدر ریاست سردار یعقوب خان ڈڈیال کی گلیوں سڑکوں اور دیگر کے لیے منظور ہونے والا 9کروڑ روپے ایکسپریس وے پر لگا دیئے احتجاج پر مزید یہاں سے جانے والے 8کروڑ روپے بچا لیے گئے 8کروڑ کو ڈڈیال متاثرین منگلا ڈیم پر خرچ کیا جائے جو آج بھی واپڈ ا کے پاس پڑا ہواہے تھب گریٹر واٹر سکیم بجلی کی ٹرانسمیشن لائنوں پر کروڑوں روپے ہضم ۔اپریزنگ کے بعد ٹرانسفارمر ، بجلی کے پول غائب ۔ عوام پتھر کے زمانے سے بھی بدتر زندگی گزارنے پر مجبور حکومتوں کی خاموشی لمحہ فکریہ متاثرین منگلا ڈیم معاوضے کے لیے در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور متاثرین منگلا ڈیم نے میرپور پنڈی کی مین سڑک بند کر کے علامتی دھرنا دے دیا واپڈا کے خلاف شدید نعرے بازی ۔ٹرانسپورٹروں کو شدید مشکلات ۔ کوئی پرسان حال نہیں نیو ٹائون کے باسی کسی مسیحا کے منتظر صحافیوں کی جانب سے ہونے والے سروے کے دوران متاثرین منگلا ڈیم نمائندہ سابقہ حکومت خلاف پھٹ پڑے واپڈا کو بدعائیں موجودہ حکومت سے امیدیں وابستہ کر لیں کرپشن میں ہڑپ کی گئی رقم پر انکوائری کمیٹی بنا کر ذمہ داران ملازمین کو نشان عبرت بنایا جائے تفصیلات کے مطابق سب ڈویثرن ڈڈیال میں دیگر نیوٹائون کی طرح نیوٹائون ڈڈیال کے باسی بھیپچھلی حکومت کی طرح  موجودہ حکومت سے بھی سخت نالاں ہیں گزشتہ روز ڈڈیال کے صحافیوں کی جانب سے نیو ٹائون ڈڈیال کے سروے کے دوران متاثرین منگلا ڈیم نے مسائل کے انبار لگا دیئے سروے کے دوران چوہدری افتخار ، چوہدری تاسب،چوہدری زبیر، وقاص عابد ، امیر زمان ، مقصود ، چوہدری برکت ، چوہدری نذیر ، محمد رائوف ، محمد اشفاق ، سعید اکبر ، محمد اشرف ، محمد ایوب ، مشتاق احمد ، ڈاکٹر زمان ، اظہر چوہدری ،سیکرٹری عبداللہ خان ، محمد فضل ، منشی نذیر ، خواجہ فیضان ، ارشاد احمد ، خادم حسین ، طاہر محمود ، ایاز احمد ، ظفیر احمد ، عبدالرزاق ، جاوید اقبال ، افتخار حسین ، محمد بنارس ، خواجہ لیاقت ، پروفیسر سرفراز خان ، ممتاز خان اور دیگر نے صحافیوں کو بتایا کہ ہمارے ساتھ واپڈا اور حکومت سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہے ہیں اور ہمیں زندگی کے ہر شعبہ ہائے میں نظر انداز کیا جا رہا ہے محکمہ تعلیم ہو یا محکمہ صحت ، محکمہ واٹر سپلائی ہو یا محکمہ شاہرات محکمہ برقیات ہو یا دیگر شعبے سارے محکمے شتر بے مہار بند ہوئے ہیں نیو ٹائون میں کالجز و سکول کی حالت یہ ہے کہ عمارتیں نامکمل ہیں بچیاں بچے طویل سفر طے کر کے اور غریب لوگ تین ہزار روپے ٹرانسپورٹ پر خرچ کر کے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں واپڈا کی ستم ظریفی یہ ہے کہ نیوٹائون ڈڈیال میں تین مساجد کے فنڈ ز منظور ہونے کے باوجود مسجدیں تعمیر نہیںکر رہے ہیں ہم لوگ اپنی مدد آپ کے تحت مساجد تعمیر کرنا چاہتے ہیں واپڈ ا ہمیں NOCہی نہیں جاری کر رہا ہے واپڈا ادھورے پروجیکٹ پر لگے پرافٹ پر عیاشیوں میں مصروف ۔ نوجوانوں کے کھیلنے کے لیے گرائونڈ صرف نام کا ہے نوجوان نسل بے راہ روی کا شکار ہونے لگی ملک و قوم کا مستقبل تباہی کے دھانے پر پہنچ گیا جو دوکانیں منگلا ڈیم اپر ریزنگ کی نظر ہوئیں کوڈ لگنے کے باوجود آج تک ان دوکانداروں کو پلاٹ الاٹ نہیں کیے گئے اور نہ ہی انھیں معاشی خسارہ دیا گیا  سیوریج کا نظام درہم برہم قومی خزانے سے ان عمارتوں کے لیے اربوں روپے منظور کیے گئے لیکن سکولوں کی عمارتیں اور دیگر عمارتیں ہیں کہ مکمل ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی ہیں اور کرپشن کی نظر ہو رہی ہیں ۔

ڈڈیال (سروے رپورٹ )

نیوٹائون ڈڈیال میں کالج و سکول کی عمارتوں کی حالت یہ ہے کہ کروڑوں روپے عمارتوں کے لیے منظور ہو گئے ستم ظریفی یہ ہے کہ متاثرین منگلا ڈیم کے بچے ان اداروںمیں پڑھنے کی بجائے یہاں پر جنگلی اور پالتو جانوروںنے قبضہ کر رکھا ہوا ہے   کروڑوں روپے سے بنائی جانے والی عمارتوں کی کھڑکیاں ٹوٹ پھوٹ کا شکارعمارتوں کی دیواروں میں بڑی بڑی دراڑیں پڑ گئیں  ہر کمرے میں گندگی گوبر کے ڈھیر اور زہریلی مکھیوں کے جھتے لگے ہوئے ہیں دن میں بھی اندر جانے سے ڈر لگتا ہے نیوٹائون کے متاثرین چار سال گزر جانے کے باوجود تمام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں گرلز کالج اور بوائز سکول کی عمارتیں بھوت بنگلوں کا منظر پیش کرنے لگی ہیںجانور بلا روک و ٹوک سکول کی عمارت میں گھسے رہتے ہیں  ان قیمتی عمارتوں میں جہاں بچوں کی درس گاہ ہونی چاہیے وہاں گائے بھینس بکریوں اور گدھوں کی رہائش گاہ بنی ہوئی ہیں حکومتی ارباب اختیار محکمہ تعلیم اور واپڈا  کی عدم دلچسپی کے باعث متاثرین کے بچے دور دراز کے سکولوں اور کالجوں میں جانے پر مجبور ہیں ڈسپنسری کی بلڈنگ میں واپڈا نے اپنے دفاتر بنا لیئے ہیں لوگو ں کو طبعی امداد کے لیے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال یا پرائیویٹ ہسپتالوں میں جانا پڑتا ہے جدید دور میں ٹائون کے اندر موبائیل سروس ہی نہیں موبائیل کمپنیوں کے ٹاور لگانے کا مطالبہ کیا گیا نیوٹائون کی مین سڑک مکمل طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور نیو ٹائون کے سیکٹر اے ۔بی ۔سی میں سڑکیں بارش کے بعد کیچڑ میں لت پت لوگوںکا  پیدل چلنا مشکل ہو گیا ہے سیکٹر بی میں تین رہائشی مکانوں کے مڈل میں بارش کے بعد سڑک تالاب کا منظر پیش کرنے لگتی ہے پانی اندر چلا جاتا ہے جس سے نقصان ہوتا ہے اور اندر اور باہر جانے کا راستہ بھی بند ہو جا تا ہے نیو ٹائون کے اندر متعددبرساتی نالے نامکمل ہیں جو رہائشی مکانوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں کئی مکانات تعمیر ہونے کے بعد بیٹھ گئے اور مزید نالہ برد ہونے کے خطرات منڈلا رہے ہیں زرہ سی بارش سے پہاڑیاں سرکنے لگتی ہیں لوگوں نے لینڈ سلائیڈنگ کے ڈر سے مکانوں کی تعمیر کرنا بھی چھوڑ دی ہے متاثرین منگلا ڈیم کے پر زور مطالبے کے باوجود پیپلز پارٹی کی سابقہ حکومت کام کروانے میں ناکام رہی نیوٹائون کے مکینوں نے وزیر اعظم آزاد کشمیر سے امیدیں وابستہ کر لیں ہیں نیو ٹائون ڈڈیال کے مکینوں کا مطالبہ ہے کہ وزیر اعظم آزاد کشمیر کا کام ادھوار چھوڑ کر فرار ہو جانے والے ٹھیکداروں اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچاننے والے عناصر کو کٹہرے میں لایا جائے ادھورا کام چھوڑ کر فرار ہوجانے والے ٹھیکداروں کا محاسبہ کیا جائے متاثرین منگلا ڈیم کو ان کا حق دلوایا جائے واپڈا کے ذمہ داران کو بھی کٹہرے میں لایا جائے ۔

ڈڈیال (سروے رپورٹ )

نیوٹائون ڈڈیال کے نوجوانوں نے بتایا کہ سائنسدانوں کا ایک قول ہے کہ جس ملک میں کھیل کے میدان آباد ہوتے ہیں وہاں کے ہسپتال ویران ہو جاتے ہیں یہ صرف تقاریروں میں ہی اچھا لگتا ہے اصل حقائق اس کے برعکس ہیں نیوٹائون کے تینوں سیکٹر میں کھیلنے کا کوئی میدان ہی نہیں ارباب اختیار سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمیں ہر سیکٹر میں کھیل کے لیے گرائونڈ دیئے جائیںاور اگر ایسا نہ ہوا تو نوجوان نسل پر منفی اثرات پڑیں گے یہ نہ ہو کے نوجوان جنہوں نے ملک و قوم کا مستقبل سنبھالنا ہے وہ منشیات کی لعنت یا کسی اور برائی میں مبتلا ہو جائیں  خداراہ ہمارے مطالبات کو پورا کیا جائے ۔

ڈڈیال (سروے رپورٹ )

نیو ٹائون ڈڈیال کے باسیوں نے ایک بڑے پیمانے پر ہونے والی کرپشن کو بے نقاب کر دیا کہا کہ تھب گریٹر واٹر سپلائی سکیم جو منظور کی گئی وہ ناکام ہو گئی واٹر سپلائی سکیم اور بجلی کی ٹرانسمیشن لائنوں کے نام پر کروڑوں روپے کرپشن کی نظر ہو گئے جہاں سے متاثرین نے ہجرت کی وہاں سے بھی بڑے پیمانے پر ٹرانسفارمرز ،بجلی پول اور تاریں خرد بُرد ہو گئیں جن پر ہائی لیول پر انکوائری کی جائے نیوٹائون میں متاثرین منگلا ڈیم پانی کی بوند بوند کو ترس گئے ہیں پانی کی فراہمی میں پبلک ہیلتھ کی انتظامیہ کا غیر ذمہ دارانہ مظاہرہ روز مرہ کی ضروریات کے لیے پورا نہیں ہو رہا صاف پانی نہیں ملتا ہم لوگوں نے لاہور کی لیبارٹری میں پانی چیک کروایا لیبارٹری کے مطابق نیوٹائون میں استعمال ہونے والا پانی صحت کے لیے نقصان دہ ہے اس سے خطرناک بیماریاں جنم لیںگی  نیو ٹائون ڈڈیال میں پانی کی کمی کو پورا اور صاف پانی کے لیے ٹائو ن کے اندر نئے ٹیوب ویل نصب کیے جائیں ۔

ڈڈیال (سروے رپورٹ )

نیوٹائون ڈڈیال کے باسی سابقہ حکومت تحصیل و ضلعی انتظامیہ سمیت واپڈا کے خلاف پھٹ پڑے ٹائون کے اے ۔بی اور سی سیکٹروں میں قبرستان نامکمل چار دیواریوں کے لیے فنڈز منظور ہونے کے باوجود چار دیواری مکمل نہ ہو سکی سیکٹر Aمیں قبرستان کا رقبہ جو کہ متاثرین کو الاٹ کیا گیا اس پر کام نہ ہو سکا پہاڑی پر نعشوں کو کیسے دفنائیں واپڈا اور حکمران ہم لوگوں پر رحم کریں قبرستانوں کی زمینوں پر لینڈ مافیاقابض ہو گئے   قبضہ چھڑوانے کیے کوئی اقدامات نہیں کیے جا رہے ہیں سیکٹر cمیں قبرستان کے لیے 35کنال زمین الاٹ کی گئی جہاں پر 20کنال پر پٹھان قابضین ہیں اپنے گھر بنائے ہوئے ہیں ان کے آگے واپڈا ، ضلعی انتظامیہ و تحصیل انتظامیہ کو اس طرف توجہ دلانے کے باوجود بے بس نظر آ رہے ہیں پارک کے لیے جو جگہ الاٹ کی گئی وہ ایک بڑی پہاڑی ہے آج تک پارک بنانے کے لیے کوئی انتظامات نہیں کیے گئے اسی طرح سے دیگر عمارتیں کمیونٹی عمارت ، سُر مارکیٹ اور تھانہ پولیس کی بلڈنگ نامکمل ہے اور بھوت بنگلے کا منظر پیش کر رہی ہیں واپڈ ا کے چیئرمین خدا کا  خوف کرتے ہوئے ہمارے ان جائز مطالبات پر فوری عمل در آمد کریں تاکہ ہم لوگ سُکھ کا سانس لے سکیں 

 

 

 

 

 

 

 


Next News Previous News
By Waqas Ch
10/01/2017 136 views

Leave A Comment