Jaag Kashmir News


Jaagkashmir.com urdu news dadyal mirpur azad kashmir

ڈڈیال (جاگ کشمیر www.jaagkashmir.com)

پاکستان کے بڑے تاریخی شہروں کا سفر 

سفر نامہ 

تحریر :وقاص علی چوہدری 

ان دنوں میں جو بھی صحافی اندرون ملک یا بیرون ملک جاتا ہے وہ واپسی پر سفر نامہ ضرور لکھتا ہے اس سے ہم نے یہ اندازہ لگایا ہے کہ جو غیر ملکی پاکستان آتے ہوں گے واپسی پر وہ یقینا ایک عدد سفر نامہ ضرور قلمبند کرتے ہوں گے اسی طرح سے راقم نے بھی سوچا کے پاکستان کے بڑے تاریخی شہروں کا سفر نامہ ضرور قلمبند کیا جائے جو ایک یاداشت بن جائے گزشتہ دنوں میں پریس کلب ڈڈیال کے صحافیوں کا اجلاس زیر صدارت صدر عبدالشا ہد چوہدری منعقد ہوا اجلاس میں پاکستان کے بڑے تاریخی شہروں میں تاریخی مقامات کا سفر طے کرنے کا فیصلہ کیا گیاتاریخی مقامات کے سفر طے کرنے کے لیے پریس کلب ڈڈیال کے صدر عبدالشاہد چوہدری ، جنرل سیکرٹری قاسم بٹ ، سابق صدر انور لطیف ڈار ، سابق صدر سہیل برکت ،محمد مستقیم ، اسد کالس ، نوشاز نومی ، وقاص چوہدری اور عقیل ملک جمعہ کے روز پاکستان کے بڑے شہروں لاہور ، سیالکوٹ اور فیصل آباد کے سفر کا آغاز ڈڈیال سے ہوا تمام لوگ خوش خوش تھے کہ اپنے علم میں اضافے کے لیے تاریخی مقامات کا مطالع کریں گے تمام دوستوں نے راستے میں فیصلہ کیا کے سب سے پہلے قائد صحافت مولانا ظفر علی خان کے مزار پر حاضری دیں ہماری گاڑیاں مولانا ظفر علی خان کے مزار پر رُکی مزار پر حاضری ، پھولوں کی چادر چڑھائی۔ تحریک پاکستان میں کلیدی کردار کے حوالے سے خراج عقیدت پیش کیا اس موقع پر پریس کلب ڈڈیا ل نے انگریز دور میں حصول پاکستان کے لیے اپنے قلم کو شمشیر بے نیام کی طرح استعمال کرنے پر زبر دست خراج عقیدت پیش کیا بعد ازاں بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان کی روح کو ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی اور آخر میں پریس کلب ڈڈیال کے صدر عبدالشاہد چوہدری نے مزید مطالعے کے لیے کتابیں خریدیں اور وہاں کے مقامی  بزرگوں سے گفتگو بھی کی سیالکوٹ شہر کی طرف بڑھے اور شہر میں قائم سیالکوٹ  پریس کلب پہنچے تو بھرپور استقبال کیا گیاوہاں کے منیجر گلزار احمد نے پریس کلب کی لائبریری اور مختلف دفاتر کا وزٹ کروایا گفتگو ہوئی ہمیں بتایا گیا کہ پاکستان کی آزادی لاکھوں قربانیوں کے نتیجے میں وجود میں آئی جس میں سیالکوٹ کے باسیوں نے کسی قربانی دے دریغ نہیں کیا اور مہلکتی ہوائوں کی وادی جموں کشمیر کو ہم سے بھارتی سیاسی سو رمائوں نے انگریزوں کی سازشوں سے چھین لیا سیالکوٹ میں آزاد ی کے بعد بہت کم صنعتیں تھیں اور اب سیالکوٹ میں صنعتوں کا جھال بچھا ہوا ہے چیمبر آف کامرس آج سیالکوٹ کی تعمیر وترقی میں اپنا ااہم کردار ادا کر رہی ہے اور چیمبر ہی کی بدولت سے آج سیالکوٹ میں ایک انٹر نیشنل ائیر پورٹ تعمیر کیا جا چکا ہے جس میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہ تھا اور ایک خطیر رقم سیالکوٹ چیمبر آف کامرس نے دی اور سیالکوٹ میں جنم لینے والے چند معروف شخصیات ڈاکٹر علامہ محمد اقبال مفکر پاکستان ، فیض احمد فیض پروفیسر اصغر سوادئی جو کہ پاکستان کا مطلب کیا کے خالق ہیں سیالکوٹ پریس کلب نے ہمارا شکریہ ادا کیا او ر ہمیں یقین دلایا کہ ہم بھی آزاد کشمیر کا ضرور دورہ کریں گے پھر ہم لوگوں نے سیالکوٹ انٹر نیشنل ائیر پورٹ کا وزٹ کرنے کا فیصلہ کیا اور نماز جمعہ ہم لوگوں نے ائیر پورٹ کے اندر قائم مسجد میں ادا کیا اور ائیر پورٹ کا دورہ کیا ہمیں بتایا گیا کہ پاکستان کے تمام ائیر پورٹس سے سب سے خوبصورت ائیر پورٹ یہ ہے اور اس کی سب سے بڑی رن وے ہے اور ہم نے دیکھا کہ واقع ہی یہ ائیرپورٹ خوبصورت ائیر پورٹس میں سے ایک ہے ائیر پورٹ کا دورہ کرنے کے بعد ہم لوگ اقبال منزل سیالکوٹ پہنچے وہاں پر آویزاں بورڈ پر ایک تاریخ لکھی ہوئی تھی جو یہ تھی کہ علامہ محمد اقبال کے آبائو اجداد تقریباً 1752ء میں کشمیر سے ترک وطن کر کے سیالکوٹ میں آباد ہوئے علامہ محمد اقبال  کے داد ا شیخ محمد رفیق نے یہ ایک منزلہ مکان جو کہ اس وقت ایک ڈیوڑھی ، ایک دالان ، دو کوٹھریوں اور چھوٹے صحن پر مشتمل تھا 1841ء میں ایک سو پچاس روپے کے عوض خریدا تھا اس مکان کی ڈیوڑھی سے منسلکہ کوٹھڑی میں علامہ محمد اقبال  کی پیدائش 9نومبر 1877ء بروز جمعہ ہوئی 1892ء میں ملحقہ دو منزلہ مکان خرید کر اس میں شامل کر دیا گیا اور 1895ء میں بازار چوڑیگراں کی جانب واقع دو دوکانیں خرید کر اس میں شامل کر دی گئیں 1910ء میں علامہ محمد اقبال  کے بڑے بھائی شیخ عطا محمد نے اس مکان کو از سر نو تعمیر کروایا اور اب اس کی تین منز لیں ہیں دوسری منزل میں ایک کمرہ والدہ اقبال کے لیے مخصوص تھا جس میں وہ بچیوں کو قرآن پاک پڑھایا کرتی تھیں اس عمارت میں ایک مہمان خانہ بھی موجود تھا اب اس مکان کا کل رقبہ تقریباً 9مرلہ ہے بازار کی طرف دوکانیں تھیں جو اب ریڈنگ روم میں تبدیل کر دی گئیں اس عمارت میں لکڑی کا ستعمال جگہ جگہ کیا گیا ہے اس گھر کو 1971ء میں حکومت پاکستان نے خرید کر محکمہ آثار قدیمہ کے سپرد کر دیا اس کے اندر جتنی چیزیں سجائی گئی ہیں وہ اس کے سابق مکینوں نے بطور عطیہ دی ہیں اس کے بعد سیالکوٹ کی کارو باری شخصیت ندیم سرور نے اقبال چاپ ہوٹل پر کھانا کھلایا اور مہمان نوازی کرنے پر ہم لوگو ں نے کا شکریہ ادا کیامحمد ندیم سرور نے پریس کلب ڈڈیال کے وفد کے ساتھ اپنے بھائی جرنلسٹ اور حیدر آباد سے آئے ہوئیشہری سیالکوٹ کے وزٹ پر ان سے ملاقات کروائی اور ہمیں سیالکوٹ کے مشہور کیک پیس خرید کر دیئے اوراور پھر ہم جناح ہائوس کی طرف بڑھے جناح ہائوس میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے قریبی ساتھی عمران ڈار کے بھائی سابق ٹکٹ ہولڈر عمر ڈار نے پریس کلب ڈڈیال کے عہدیدارن اور ممبران کا بھرپور استقبال کیا تحریک انصاف کے راہنما عمر ڈار نے مسلئہ کشمیر کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی اور آزاد کشمیر و پاکستان کے سیکٹروں پر بھارت کی طرف سے ہونے والی شدید گولہ بھاری کی بھرپور مذمت کی شہیدوں کی جرت کو سلام پیش کیا اس موقع پر عمر ڈار نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اداروں کو تباہ و برباد کر دیا ہمارے ساتھ الیکشن میں دھاندلی کی گئی جس ملک میں انصاف نہیں ملتا وہ معاشرے تباہ ہو جاتے ہیں پاناما لیکس کے حوالے سے انہوں نے کہا کہہمیں پاکستان کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹپر  پورا یقین ہے کہ وہ انصاف کرے گی اور انشاء اللہ جیت  پوری قوم کی ہوگی قوم کا پیسہ کھانے والے بچ نہیں سکتے ہیں آخر میں عمر ڈار نے یقین دلایا کہ آزاد کشمیر ضرور آئوں گا پریس کلب ڈڈیال نے ویلکم کہا اور اجازت لیکر  پھر ہم لاہور کی طرف دوبارہ سفر کا آغاز کر دیا اور رات کو لاہور پہنچے او ر وہاں کے مقامی ہوٹل میں ٹھہرے رات گزاری اور اگلے دن صبح اٹھے اور مشہور دوکان پھجے کے سری پائے پر پائے سے ناشتہ کیااور لسی پی۔ اور مینار پاکستان ، بادشائی مسجد اور شاہی قلعہ کا دورہ کیا دورے کے دوران راقم نے دیکھا اور خوشی بھی ہوئی وہاں پر وزٹ کرنے والوں میں سب سے بڑی تعداد سکول کے طلباء و طالبات کی تھی علامہ محمد اقبال  کے مزار سکیورٹی خدشات ہونے کی وجہ سے حاضری نہ دے سکے اور دور سے ہی ہم لوگوں نے علامہ محمد اقبال  کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی راقم نے لاہور کے بازاروں کا بھی سفر کیا مجھے لاہور اس لحاظ سے بھی اچھا لگا کہ یہاں کے لوگ اپنی بے پناہ خوشحالی اور حد درجہ ماڈرن ہونے کے باوجود بعض قدیم روایات کو بھی عزیز رکھتے ہیں اس میں سہر فہرست ٹرانسپورٹ کے ذرائع آتے ہیں جن میں قدیم سے ابھی تک سر مو تبدیلی نہیں کی گئی چنانچہ مجھے یہاں ایک ایسی سواری پر بیٹھنے کا اتفاق ہوا جس کے تین پہیے تھے اگلی نشست پر صرف ڈرائیور بیٹھتا تھا اور پچھلی نشست دو مسافروں کے لیے تھی اسے رکشہ کہا جاتا ہے اس میں سفر کرنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ اگلی نشست صرف ڈرائیور کے لیے ہی کیوں مخصوص کی گئی ہے اس تیز رفتار اور ہجوم میں زگ زیگ بناتی ہوئی  سواری کی اگلی نشست پر دراصل بیٹھ بھی وہی سکتا ہے کو کسی سرکس کا انتہائی ماہر فنکار ہو شیر کے منہ میں گردن ڈال سکتا ہولاہور پریس کلب کے فیملی ڈنر اینڈ میو زیکل نائیٹ پر ہم لوگوں کو مدعو کیا گیا پریس کلب ڈڈیال کے عہدیداران اور ممبران کے لاہور پریس کلب پہنچنے پر صدر میاںشہباز  ، نمائندہ جنگ تجمل گورمانی ،سیکرٹری جنرل شاہنواز رانا نے ہمارا بھرپور استقبال کیاکھانا کھانے کے بعد لاہور پریس کلب میں میو زیکل نائیٹ کے موقع پر جواد احمد کے علاوہ جوجی علی خان ، عینی طاہرہ ، حسن عباس (کامیڈین )طارق جیکسن ، اریشمہ ، امیر شوکت علی ، ہنی چوہدری ، شہروز مہدی اور دیگر فنکاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کر کے شائقین کے دل موہ لیئے پروگرام رات دیر تک جاری  رہا ۔ تقریب کے سیکرٹری شاہ نواز رانا نے پریس کلب ڈڈیال کی آمد پر الائونس منٹ کی اور شکریہ ادا کیا اور یقین دلایا جب بھی ہم لوگوں کو ڈڈیال بلائیں ہم حاضر ہو جائیں گے اگلے روز پریس کلب ڈڈیال کا وفد سیالکوٹ کے بعد لاہور میں دو دن گزارنے کے بعد آخری مرحلے پر حضرت علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش کے مزار پر حاضری کے بعد فیصل آباد کی طرف روانہ ہو گیا فیصل آباد گھنٹہ گھر پہنچیفیصل آباد کی اہم خصوصیت شہر کا مرکز ہے، جو ایک ایسے مستطیل رقبے پر مشتمل ہے، جس کے اندر جمع اور ضرب کی اوپر تلے شکلوں نے اسے 8 حصوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ اس کے درمیان میں، جہاں آ کر آٹھوں سڑکیں آپس میں ملتی ہیں، مشہورِ زمانہ گھنٹہ گھر کھڑا ہے۔ گھنٹہ گھر کے مقام پر ملنے والی آٹھوں سڑکیں شہر کے 8 اہم بازار ہیں، جن کی وجہ سے اسے آٹھ بازاروں کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔ گھنٹہ گھر سے شروع ہو کر بیرونی طرف پھیلتے ہوئے بازار اس جگہ کو برطانوی پرچم کی شکل دیتے ہیں، جو سر جیمزلائل نے اپنے ملک کی یادگار کے طور پر یہاں چھوڑا ہے۔گھنٹہ گھر کی تعمیر کا فیصلہ ڈپٹی کمشنرجھنگ کیپٹن بیک (Capt Beke) نے کیا اور اس کا سنگ بنیاد 14 نومبر 1903 کو سر جیمز لائل نے رکھا۔ جس جگہ کو گھنٹہ گھر کی تعمیر کے لئے منتخب کیا گیا وہاں لائلپور شہر کی تعمیر کے وقت سے ایک کنواں موجود تھا۔ اس کنوئیں کو سرگودھا روڈ پر واقع چک رام دیوالی سے لائی گئی مٹی سے اچھی طرح بھر دیا گیا۔ یونہی گھنٹہ گھر کی تعمیر میں استعمال ہونے والا پتھر 50 کلومیٹر کی دوری پر واقع سانگلہ ہل نامی پہاڑی سے لایا گیا1906کے اوائل میں گھنٹہ گھر کی تعمیر کا کام گلاب خان کی زیرنگرانی مکمل ہوا کہا جاتا ہے کہ گلاب خان کا تعلق اسی خاندان سے تھا، جس نے بھارت میں آگرہ کے مقام پر تاج محل تعمیر کیا تھا۔ گھنٹہ گھر 40 ہزار روپے کی لاگت سے 2 سال کے عرصے میں تعمیر ہوا۔ اس کی تکمیل پر ایک تقریب کا انعقاد ہوا، جس کے مہمانِ خصوصی اس وقت کے مالیاتی کمشنر پنجاب مسٹر لوئیس تھے۔گھنٹہ گھر میں نصب کرنے کے لئے گھڑی بمبئی سے لائی گئی۔ کہا جاتا ہے کہ لائلپور کا گھنٹہ گھر ملکہ وکٹوریہ کی یاد میں تعمیر کیا گیا، جو 80 سال قبل فوت ہو چکی تھیں۔ گھنٹہ گھر کی تعمیر سے پہلے شہر کے آٹھوں بازار مکمل ہو چکے تھے۔برطانوی پرچم یونین جیک پر مبنی فیصل آباد شہر کا نقشہ اس دور کے ماہرتعمیرات ڈیسمونڈ ینگ (Desmond Yong) نے ڈیزائن کیا، جو درحقیقت سرگنگا رام کی تخلیق تھا، جو اس دور کے مشہورآبادیاتی منصوبہ ساز (town planner)تھے آٹھ بازاروں پر مبنی شہر کا کل رقبہ 110 مربع ایکڑ تھا۔ گھنٹہ گھر کے مقام پر باہم جڑنے کے علاوہ یہ آٹھوں بازار گول بازار نامی دائرہ شکل کے حامل بازار کی مدد سے آپس میں جڑے ہوئے ہیں اس کے علاوہ یونین جیک کی بیرونی مستطیل آٹھوں بازاروں کے آخری سروں کو بھی سرکلر روڈ کی شکل میں آپس میں ملاتی ہے گھنٹہ گھر کی تعمیر کے وقت اس کے گرد 4 فوارے بنائے گئے تھے، جو کچہری بازار، امیں پور بازار، جھنگ بازار اور کارخانہ بازار کی سمت موجود تھے اور انہیں آٹھوں بازاروں میں سے دیکھا جا سکتا تھا، مگر مرورِ زمانہ کے ساتھ ساتھ ان میں سے 2 فوارے غائب ہو چکے ہیں۔ اب صرف کچہری بازار اور جھنگ بازار کی سمت والے فوارے قائم ہیںگھنٹہ گھر کا وزٹ کرنے کے بعد ہم لوگ فیصل آباد پریس کلب پہنچے وہاں پر سیکرٹری جنرل تنویر ، اور دیگر ساتھیوں نے ہمیں خوش آمد ید کہا کہ اورپورے پریس کلب کا دورہ کروایا ہم لوگوں نے باقی پریس کلب کا بھی دورہ کیا باقی شہروں سے فیصل آباد پریس کلب سب سے بڑا پریس کلب تھا جس کے اندر کانفرنس ہال ، جم ، لائبری ، آئی ٹی روم ،، مسجد  اور دیگر تمام تر سہولیات موجود تھیں جو صحافیوں کے لیے ہونی چاہیئے جب فیصل آباد پریس کلب کے ساتھ مسائل کے حوالے سے گفتگو ہوئی تو وہ مایوس دیکھائی دیئے انہوں نے کہا باقی تمام تر سہولتیں ہیں پر یہاں کے شہریوں کو انصاف کے لیے ہائی کورٹ بنچ فیصل آباد میں نہ ہونے کی وجہ سے لاہور کی عدالت میں جانا پڑتا ہے تاریخ کے وقت پوار دن ضائع ہوجاتا ہے پھر اگلی تاریخ کی فکر لگ جاتی ہے اگر یہاں پر ہائی کورٹ بنچ قائم کر دیا جائے تو یہاں کے شہریوں کا وقت کے ساتھ ساتھ اضافی اخراجات میں بھی کمی آئے گی۔ اپنے دورہ لاہور کے دوران میں نے ایک صحافی سے آزادی صحافت کے بارے میں بات کی تو اس نے کہا کہ اللہ کا فضل ہے پاکستان میں صحافیوں کو بہت سہولتیں حاصل ہیں میں نے اس کی تفصیل پوچھی تو اس نے کہا کہ حکومت مختلف رہائشی سکیموں میں ہمیں پلاٹ ادا کر تی رہتی ہے  نیز صحافیوں کے لیے غیر ملکی دوروں کا انتظام بھی کیا جا تا ہے  غرض یہ کہ اللہ کا فضل ہے ہمارے ہاں صحافت بہت آزاد ہے تاہم اس صحافی کی ان باتوں سے میری تسلی نہیں ہوئی کیونکہ مجھے معلوم ہوا کہ پاکستان میں صحافیوں کی معاشی حالت بھی تسلی بخش نہیں ہے ان میں سے تو بیشتر تو تنگی ترشی میں گزارہ کر لیتے ہیں لیکن کچھ ایسے بھی ہیں جنہیں اخبار کے علاوہ بھی کوئی دھندہ کرنا پڑتا ہے جنانچہ کوئی فیکٹری چلاتا ہے کسی نے پریس لگایا ہوا ہے اور کوئی ٹھیکداری کرتا ہے ہمارے سفر کی سب اہم بات یہ تھی کے سفر کو ہم لوگوں نے انجوائے کیا پریس کلب ڈڈیال کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری اور سابق صدر انور لطیف ڈار نے سفر کے دوران خوب لطیفے سنائے اور ہنسی مذاق کرتے رہے جس سے ہمارا یہ تینوں بڑے شہروں کا سفر آرام دہ گزرا رات دیر تک سفر کرتے رہے کئی گھنٹوں کا سفر طے کرنے کے بعد ڈڈیال اپنے شہر پہنچنے پر پریس کلب ڈڈیال کے ساتھیوں نے مطالعاتی دورہ کرانے پر صدر عبدالشاہد چوہدری اور سیکرٹری جنرل قاسم بٹ کا شکریہ ادا کیا اور امید کی آئندہ جو بھی پریس کلب ڈڈیال کا صدر و جنرل سیکرٹری منتخب ہو گا وہ اسی طرح سے مطالعاتی دورے کروائے گا 

 

 

 

 


Next News Previous News
By Waqas Ch
30/11/2016 128 views

Leave A Comment