Jaag Kashmir News


Jaagkashmir.com urdu news dadyal mirpur azad kashmir

ڈڈیال (سروے رپورٹ/وقاص چوہدری سے )

نیوٹائون ڈڈیال میں کالج و سکول کی عمارتوں کی حالت یہ ہے کہ کروڑوں روپے عمارتوں کے لیے منظور ہو گئے ستم ظریفی یہ ہے کہ متاثرین منگلا ڈیم کے بچے ان اداروںمیں پڑھنے کی بجائے یہاں پر جنگلی اور پالتو جانوروںنے قبضہ کر رکھا ہوا ہے   کروڑوں روپے سے بنائی جانے والی عمارتوں کی کھڑکیاں ٹوٹ پھوٹ کا شکارعمارتوں کی دیواروں میں بڑی بڑی دراڑیں پڑ گئیں  ہر کمرے میں گندگی گوبر کے ڈھیر اور زہریلی مکھیوں کے جھتے لگے ہوئے ہیں دن میں بھی اندر جانے سے ڈر لگتا ہے نیوٹائون کے متاثرین چار سال گزر جانے کے باوجود تمام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں گرلز کالج اور بوائز سکول کی عمارتیں بھوت بنگلوں کا منظر پیش کرنے لگی ہیںجانور بلا روک و ٹوک سکول کی عمارت میں گھسے رہتے ہیں  ان قیمتی عمارتوں میں جہاں بچوں کی درس گاہ ہونی چاہیے وہاں گائے بھینس بکریوں اور گدھوں کی رہائش گاہ بنی ہوئی ہیں حکومتی ارباب اختیار محکمہ تعلیم اور واپڈا  کی عدم دلچسپی کے باعث متاثرین کے بچے دور دراز کے سکولوں اور کالجوں میں جانے پر مجبور ہیں ڈسپنسری کی بلڈنگ میں واپڈا نے اپنے دفاتر بنا لیئے ہیں لوگو ں کو طبعی امداد کے لیے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال یا پرائیویٹ ہسپتالوں میں جانا پڑتا ہے جدید دور میں ٹائون کے اندر موبائیل سروس ہی نہیں موبائیل کمپنیوں کے ٹاور لگانے کا مطالبہ کیا گیا نیوٹائون کی مین سڑک مکمل طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور نیو ٹائون کے سیکٹر اے ۔بی ۔سی میں سڑکیں بارش کے بعد کیچڑ میں لت پت لوگوںکا  پیدل چلنا مشکل ہو گیا ہے سیکٹر بی میں تین رہائشی مکانوں کے مڈل میں بارش کے بعد سڑک تالاب کا منظر پیش کرنے لگتی ہے پانی اندر چلا جاتا ہے جس سے نقصان ہوتا ہے اور اندر اور باہر جانے کا راستہ بھی بند ہو جا تا ہے نیو ٹائون کے اندر متعددبرساتی نالے نامکمل ہیں جو رہائشی مکانوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں کئی مکانات تعمیر ہونے کے بعد بیٹھ گئے اور مزید نالہ برد ہونے کے خطرات منڈلا رہے ہیں زرہ سی بارش سے پہاڑیاں سرکنے لگتی ہیں لوگوں نے لینڈ سلائیڈنگ کے ڈر سے مکانوں کی تعمیر کرنا بھی چھوڑ دی ہے متاثرین منگلا ڈیم کے پر زور مطالبے کے باوجود پیپلز پارٹی کی سابقہ حکومت کام کروانے میں ناکام رہی نیوٹائون کے مکینوں نے وزیر اعظم آزاد کشمیر سے امیدیں وابستہ کر لیں ہیں نیو ٹائون ڈڈیال کے مکینوں کا مطالبہ ہے کہ وزیر اعظم آزاد کشمیر کا کام ادھوار چھوڑ کر فرار ہو جانے والے ٹھیکداروں اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچاننے والے عناصر کو کٹہرے میں لایا جائے ادھورا کام چھوڑ کر فرار ہوجانے والے ٹھیکداروں کا محاسبہ کیا جائے متاثرین منگلا ڈیم کو ان کا حق دلوایا جائے واپڈا کے ذمہ داران کو بھی کٹہرے میں لایا جائے ۔

ڈڈیال (سروے رپورٹ )

نیوٹائون ڈڈیال کے نوجوانوں نے بتایا کہ سائنسدانوں کا ایک قول ہے کہ جس ملک میں کھیل کے میدان آباد ہوتے ہیں وہاں کے ہسپتال ویران ہو جاتے ہیں یہ صرف تقاریروں میں ہی اچھا لگتا ہے اصل حقائق اس کے برعکس ہیں نیوٹائون کے تینوں سیکٹر میں کھیلنے کا کوئی میدان ہی نہیں ارباب اختیار سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمیں ہر سیکٹر میں کھیل کے لیے گرائونڈ دیئے جائیںاور اگر ایسا نہ ہوا تو نوجوان نسل پر منفی اثرات پڑیں گے یہ نہ ہو کے نوجوان جنہوں نے ملک و قوم کا مستقبل سنبھالنا ہے وہ منشیات کی لعنت یا کسی اور برائی میں مبتلا ہو جائیں  خداراہ ہمارے مطالبات کو پورا کیا جائے ۔

 


Next News Previous News
By Waqas Ch
10/01/2017 71 views

Leave A Comment