Jaag Kashmir News


Jaagkashmir.com urdu news dadyal mirpur azad kashmir

مقبوضہ کشمیر میں تاریخی تحریک آزاد ی ، آزادجموں کشمیر کے سیاسی رویے 

تحریر :قاضی محمد بشیر(جاگ کشمیر نیوز )

مقبوضہ کشمیر میں ہر مرد و زن خورد کلاں نے اپنے مستقل مستقبل کے لیے اب یا کبھی نہیں کے اصول پر ڈیڑھ ماہ سے جانداراور موثر تحریک جاری رکھی ہوئی ہے حکومت ہند اپنے تمام ظالمانہ اقدام کے بعد بھی بے بس ہے مرکزی بھارتی حکومت نے تحریک کو دبانے کے لیے مزید فورسز بھیج کر تحریک آزادی کشمیر کو مزید کچلنے کے لیے سخت ظالمانہ کاروائیاں کیں لیکن قابو نہیں پایا جا سکااور حریت کی جملہ قیادت کو بابند سلاسل کیا گیا کرفیو نافذ کیا گیا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

ادھرآزاد جموں وکشمیر میں سیاسی ڈرامہ بازی اختیار و اقتدار کے حصول نے حکمران جماعت کے ممبران اور اپوزیشن کی للچائی صورتحال ناقابل رشک ہے کرپشن فری معاشرہ کے قیام،انصاف پر مبنی گڈ گورننس کے نعرے تو وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر لگا رہے ہیں لیکن حکومتی اقدام اور شریک اقتدار شخصیات کے کرپٹ ماضی اور لوٹ کھسوٹ سے عوام اچھی طرح واقف ہیںبلکہ سرکاری اراضی جنگلات کے رقبہ جات متروکہ جائیداد فوج کے زیر قبضہ لوگوں کی اراضی کو بلا معاوضہ اپنے نام کرانے اور دھونس دھاندلی سے روپے کی جائیداد بنانے والے فاروق حیدر کی شفاف حکومت کا حصہ ہیںایسی صورتحال کے ہوتے ہوئے انصاف پر مبنی معاشرہ کرپشن فری حکومت کا قیام کیسے ممکن ہے۔

حکومت پاکستان خارجہ سیکرٹریوں کی سطح پر پاکستان و بھارت مزاکرات کی پیش کش کی ہے بھارت ہٹ دھرمی پرموجود ہے تاہم مذاکرات اچھا عمل اور اس عمل سے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں لیکن بدقسمتی سے نہ پاکستان کا وزیر خارجہ ہے اور نہ ہی کوئی پالیسی ۔

خودبھارت کی پارلیمنٹ میں اپوزیشن نے خطاب میں پاکستان سے مذاکرات کر کے مسائل حل کئے جائیں بھارت کو بڑے بھائی کا کردار ادا کرتے ہوئے پاکستان سے اچھے تعلقات قائم کرنے کے اقدام کرنے چاہئیں اصل دشمنی چین کا اظہار کیا گیا ہے بھارت "را "کے سابق سربراہ اے ایس دلت نے بیان دیاکہ پاکستان کے ساتھ کشمیر پر موثرگفتگو اور کشمیریوں سے مذاکرات کے ذریعہ مسلہ کشمیر کا حل تلاش کیا جائے سپریم کورٹ آف انڈیا کے سربراہ مسٹر ٹھاکر سنگھ نے بلوچستان کے ذکر پر وزیر اعظم ہند کو ملامت کی ہے

انڈین آرمی کے سابق سربراہ مسٹر سنگھ نے پرامن مذاکرات کے ذریعہ مسلہ کشمیر کے حل کی اہمیت بیان کی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے15اگست یوم آزادی ہند کے موقع پر مرکزی حکومت ہند کی طرف سے کشمیریوںکو معذور کرنے،اندھا کرنے اور مظالم کا ذکر کیا ہے مرکز کی جانب سے زیادتی کے ہوتے ہوئے امن ناممکن ہے۔

سابق وزیر اعلیٰ نیشنل کانفرنس کے صدر نے بھی مودی سرکار کی زیادتیوں قتل و غارت سے عوام پر قتل و غارت کے ہوتے ہوئے امن ناممکن ہے کا اظہار کیا ہے۔ایسے حالات میں پاکستان کی جانب سے کشمیر پر مذاکرات پاکستان کی جانب سے بہترین اقدام ہے ہے حکومت بھارت کے لیے اس کو قبول کر کے میںامن کے موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہئے

15اگست کو وزیر اعظم ہند مودی صاحب کا بیان اشتعال انگیزی نفرت اور جنگی ماحول تشکیل دینے کا ذریعہ معلوم ہوتا ہے بلوچستان میں سرعام مداخلت کے اعتراف سے سے گلگت و آزاد جموں و کشمیر کے حوالے سے اظہار خیالات افسوس ناک خبر ہے اور ایسی نمائندہ حکومت کے حکمران کی غلط بیانی اور حقیقت پسندی کے خلاف ہے۔پاکستان و بھارت اور کشمیری قیادت کو مسلہ کشمیر حل کرنا چاہیے ورنہ بیرونی طاقتیں جنگ مسلط کر دیں گی۔

حکومت پاکستان کو کشمیر پر واضح پالیسی اختیار کرتے ہوئے وزارت خارجہ کو فعال کرنے اور آزاد جموں و کشمیر میں غیر قانونی مداخلت اور حکومت و سیاسی ماحول کو غیر جانبدارنہ رکھنے کی پالیسی اختیار کرنے کی ضرورت ہے ن لیگ کو عوام کی نمائندہ حیثیت حاصل نہیں غیر ریاستی سیاسی ماحول کو تشکیل دینے سے باز رہنا چاہیے اقتدار کے لیے رشوت کوحکومت سازی کے عمل میں استعمال کرنے کے مکروہ دھندہ کو ختم کر کے آزاد جموں و کشمیر میں بھائی چارہ امن او امان، رواداری بھائی چارہ کی فضاء قائم کرنے سے آزاد جموں و کشمیر کی حقیقی سیاسی قیادت جماعتوں اور شخصیات کو اعتماد میں لیکر تحریک آزادی کے عمل کو موثر بنایا جائے۔

مصنوعی ن لیگی حکومت کے قیام سے ریاستی سیاسی قوت کو ختم کرنے کے معاندانہ طرز کیا ختم کیا جانے ، بلاوجہ آزاد جموں کشمیر کے اندر فرقہ بازی افراتفری اور تلخیوں کو نہ بڑھایا جائے۔

ایک ٹاسک فورس تشکیل دی جائے سردار عتیق احمد خان بیرسٹر سلطان محموداور دیگر سیاسی جماعتوں کی قیادت کو اس میں موثر رول ادا کرنے کے لیے حکومت آغاز کرے یہی سیاست کی جیت ہو گی قومی و ملی سوچ بیداربھی مسعود اختر خان کے صدر آزاد کشمیر منتخب ہونے سے مسلہ کشمیراور پاکستان کی خارجہ پالیسی میں جان پیداکی جائے خصوصی ٹاسک فورس کو سیاست بازی کے بجائے قومی و ملی جذبات مسلہ کشمیر کی سنگینی اور وقت کی ضرورت کے تحت خوش اسلوبی اور پورے اخلاس سے عالمی سطح پر منظم کیا جائے گروہی و جماعتی ، ذاتی مفاداتی اور پسند و ناپسند سے بالا تر ہو کر مقبوضہ کشمیر کے عوام کی قربانیوں و تمناؤں کے مطابق پاکستان کی تکمیل برصغیر میں امن ریاست کی بے چینی کو ختم کرنے کے لیے باہم اشتراک اور اتفاق سے صورتحال کا مقابلہ کیا جائے انتخابی تلخی ختم کر کے نئے جذبہ اعتماد اور یکجہتی سے امورانجام دینے اور صلاحیتوں کو برائے کار لانے کی ضرورت ہے حکومت اپنے کار سلطنت انجام کے ساتھ قومی اتحاد کا ماحول تشکیل دے اپوزیشن بھی پوسٹ سکورٹنگ کے بجائے صدق دل سے ساتھ دے

 


Next News Previous News
By Waqas Ch
22/08/2016 98 views

Leave A Comment