Jaag Kashmir online news from Dadyal, Dudyal, Mirpur and Azad Kashmir
Jaag Kashmir online news from Dadyal, Dudyal, Mirpur and Azad Kashmir Sat, 25 Feb 2017

فون پر صرف uc browser میں کھولیں

Use UC Browser to open on mobile.

News from Dadyal, Mirpur and all Azad Kashmirحضرت خواجہ عالم قبلہ حضرت صاحب اور تکریم انسانیت :تحریر حافظ محمد نوید

وقاص چوہدری نے یہ خبر 2016-12-30 کو pm07:02 پرcol کی کیٹیگری میں پوسٹ کی اور ابھی تک اس کو 52 قارئین نے پڑھا ہے۔
 

Jaagkashmir.com urdu news dadyal mirpur azad kashmir

www.jaagkashmir.com

حضور خواجہ عالم قبلہ حضرت صاحب  رحمتہ اللہ علیہ اور تکریم ِانسانیت 

تحریر : حا فظ محمد نوید

 

انسانیت کی معراج ، خدمت خلق اور تکریمِ انسانیت سے مشروط ہے۔ صوفیاء کے آستانے ہر دور میں دل کے نازک آبگینوں کا بھی خیال رکھتے رہے ہیں۔متقدمین صوفیاء کے بارے میں سُن رکھا تھا کہ خود بھوکے رہ کر دوسروں کی شکم پروری کا سامان کرتے تھے ۔مگر مرورِ زمانہ کے ساتھ جہاں سیاست ، معاشرت اور معیشت زوال کا شکار ہوئے وہاں تصوف کا ادارہ بھی متا ثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ مگر قبلہ حضرت صاحب گلہار شریف کی زندگی کے جس پرت کو کھولتے ہیں وہاں تکریمِ انسانیت ، خدمتِ خلق،برداشت ،تحمل ، رواداری ، مستحقین کی امداد اور خُدا کے ہر بندے کے لیے تڑپتا ہوا درد دل ملتا ہے۔ حضرت صاحب کی تکریم ِانسانیت اور خدمتِ خلق کے عکس  (Reflection)  کو نکاتی تناظر میں بیان کیا جاتا ہے۔

 عام مسلمانوں کی بھلائی:

آپ کے آستانے پر اپنے پرائے کی کوئی تمیز نہ تھی بلا تفریقِ رنگ ،نسل اور مذہب کے ہر کسی کی خدمت کی جاتی تھی ۔ کوئی بُھولا بِسرا نووارد آدھمکتا تو آپ خدمت کرنے  میں فخر محسوس کرتے ۔تبلیغی جماعت کا ایک فرد بنگلہ دیش سے کوٹلی ہم مسلکوں سے ملنے آیا۔مگر التفاتِ نظر نہ ہونے کے باعث پریشان ہوا حضرت صاحب نے انھیں دربار شریف میں ٹھہرایا اور مہمان نوازی فرمائی۔

قیدیوں کی خدمت:

آپ کی نظر سماج کے ہر طبقے پر یکساں تھی۔ 1990ء میں عیدِ قربان کے موقع پر داروغئہ جیل سے خادم کے ذریعے رابطہ کر کے قیدیوں کے لیے کھانے مہیا کرنے کی اجازت طلب کی۔عملہ سمیت 105افراد کے لئے گوشت کا پلائو اور زردہ پر مشتمل کھانا بھیجا۔

مساکین و فقراء کی خدمت:

معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کہ جن کو کوئی لائقِ التفات نہ سمجھتاآپ کی شفقت ایسے لوگوں پر فائق تر ہوتی ۔بابا  باسو جو نابینا اور بہرے ہو گئے تھے،ان کا دربار عالیہ کے علاوہ کوئی سہارا نہ تھا،آپ نے کمال کرم سے ان کے آپریشن کے دوران خود تیمارداری کا فیصلہ فرمایااور مائی صاحبہ  نے چالیس دن تک دربار عالیہ کے الگ کمرے میں ٹھہرا کر دیسی گھی استعمال کرایا اس طرح ان کی نظر بحال ہوئی۔

مظلوم کی مدد    :

مظلوم کا خاکہ اڑانے پر سخت تہدید فرماتے آپ ملائم الفاط سے مظلوموں کی حوصلہ افزائی فرماتے۔فرماتے'' کسی کا ایک پیسہ بھی نا حق نہیں رکھنا چاہیے ہو سکتا ہے۔ انسان پیسے کو معمولی سمجھے اور وہی پیسہ سب کچھ برباد کر دے''

مزید فرماتے کہ اللہ تعالیٰ کی غیرت گوارا نہیں کرتی کہ کسی ستم رسیدہ اور مظلوم کا خاکہ اڑایا جائے۔

علماء و طلبا کی خدمت:

اگر کوئی کسی عالم دین کی شکایت کرتا تو آپ دفاع کرنے کی کوشش کرتے۔علماء و طلبا کی مالی اعانت بھی فرماتے رہتے،علم کا محدود تصور نہ دیتے بلکہ فرماتے علم ایک اکائی ہے جس نوع کابھی ہو، مفید ہے بشرطیکہ دین غالب رہے۔آپ علمائے کرام کو گراں قیمت تحائف بھی ارسال فرماتے رہتے ۔ایک مرتبہ جامعہ نعیمیہ کے مفتی عزیز احمد بدایونی کے لئے ایک گرم کشمیری لوئی بھی ارسال فرمائی۔

مساجد کی تعمیر:

سماج کی اصلاح و تربیت کے لئے مسجد کی مئوثریت سے انکار ممکن نہیں۔آپ نے سینکڑوں مساجد تعمیر کرائیں،آباد کیا،زندگی بھر اپنا مسکن مسجد کے چھوٹے چھوٹے حجروں میں رکھا،پھر مدفن مسجد کے پہلو میں منتخب فرمایا۔آپ کی پہچان بھی یہی مساجد تھیں۔

شفا خانہ:

خدمت خلق کے جذبے کے پیش نظر کوٹلی ہائوسنگ سکیم میں ایک آنکھوں کا ہسپتال بھی بنوایا۔جہاں سینکڑوں لوگوں نے آپریشن کروایا۔فرمایا'' اس کی کامیابی کا انحصار اس سے وابستہ افراد کے اخلاص اور اللہ تعالیٰ کی تائید پر ہے''۔

درد آشنائی:

بیمار حال لوگوں کے جذبات کی قدر کرتے ،تکریم کا مظاہرہ کرتے ہوئے نرم گفتگو کرنے کا حکم فرماتے ۔  ایک بیمار کے متعلق پروفیسر اکبر داد صاحب کو  فریا کہ اسے نرمی سے پیغام پہنچائے پیغام رسانی کرتے ہوئے فرمایا''پیغام نرمی سے پہنچائیں وہ بیمار ہیں کہیں محسوس نہ کریں اور رنجیدہ نہ ہو جائیںدل بڑ ا نازک آبگینہ ہوتا ہے''۔

نذرانوں کی تقسیم:

    آپ  کے پاس لوگ لاکھوں روپے اور دیگر اشیاء بطور نذرانہ پیش کرتے مگر زوہد کا عالم یہ تھا کہ غروب آفتاب سے پہلے پہلے انکو کارہائے خیر کی مدّات میں تقسیم فرما کر متعلقہ افراد کے حوالے فرما دیتے اور خود خالی ہاتھ ہو جاتے حضرت صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے ساری زندگی تکریم انسانیت اور خدمت خلق کو شیوا بنائیے رکھا گویا آپ رحمتہ علیہ گرم لُو میں وہ ٹھنڈی اور گھنی چھائوں تھے جس کے سائے میں اپنے بیگانے سب سستا کر تازہ دم ہو جاتے تھے۔

   ہیں وہی لوگ جہاں میں اچھے 

            آتے ہیں جو کام دوسروں کے    (اقبال)

 

 

 

اگلی خبر پڑہیں پچھلی خبر پڑہیں

ایک ماہ کی مقبول ترین