Jaag Kashmir News


Jaagkashmir.com urdu news dadyal mirpur azad kashmir

سازششیںناکام ۔۔فاروق حیدر ہیٹرک میں کامیاب

چناری سے اعجاز احمد میر(جاگ کشمیر نیوز)

آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اکیس جولائی کے روز ہونے والے عام انتخابات میں مسلم لیگ ن کے صدر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے ہیٹرک کرتے ہوئے اپنے مخالف پیپلز پارٹی کے امیدوار صاحبزادہ محمد اشفاق ظفرکو چودہ ہزار تین سو گیارہ ووٹوںسے شکست دے کر حلقہ پانچ میں نیا ریکارڈ قائم کر دیا اس سے قبل ہونے والے انتخابات میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے سابق صدر صاحبزادہ محمد اسحاق ظفر مرحوم چار مرتبہ فاروق حیدر سے صرف چند سو ووٹوں کی لیڈ سے الیکشن جیتنے میں کامیاب ہوتے رہے ان کی وفات کے بعد ان کے فرزند پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے نائب صدر صاحبزادہ محمد اشفاق ظفر مسلم لیگ ن کے صدر راجہ فاروق حیدر کے مقابلہ میں الیکشن لڑتے رہے ضمنی الیکشن میں فاروق حیدر اشفاق ظفر سے چار سے پانچ ہزار ووٹوں سے کامیاب ہو کر دس سالوں بعد 2006ء میں مسلم کانفرنس کے ٹکٹ پر اسمبلی میں پہنچے اس کے بعد 2011ء میں ہونے والے انتخابات میں فاروق حیدر نے بحثیت صدر مسلم لیگ آزاد کشمیر الیکشن لڑا اور انیس بیس کے مقابلہ کے بعد چند سوسے ووٹوں سے کامیاب ہوئے حالیہ ہونے والے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے اشفاق ظفر نے مسلم لیگ ن کے صدر راجہ فاروق حیدر کو کافی ٹف ٹائم دیا لیکن فاروق حیدر نے دن رات ایک کرتے ہوئے اپنے حلقہ انتخاب کے ہر گائوں اور ہر ووٹر کے پاس پہنچ کر اپنی چند سو ووٹوں کی لیڈ کو ہزاروں میں بدل دیا اور اشفاق ظفر کے خلاف ہیٹرک کرنے میں کامیاب ہو گئے جبکہ ان کے مخالف پی ٹی آئی کے امیدوار چوہدری اسحاق طاہر تین ہزار چار سو نوے ،آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے کرنل (ر)محمد عارف زاہد عباسی دوہزار تین ،آزاد امیدوار ساجدالرحمن تیرہ سو گیارہ ،باقی آٹھ چھوٹی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اور آزاد امیدوار صرف چند سو ووٹ ہی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے لیکن اپنی اپنی ضماتیں بچانے میں کامیاب نہ ہو سکے اگر حلقہ پانچ کے دیگر گیارہ امیدواروں کے ووٹ بھی اشفاق ظفر کے حق میں پڑ جاتے تو پھر بھی راجہ فاروق حیدر حلقہ پانچ سے تقریبا پانچ ہزار ووٹوں کی اکثریت سے اشفاق ظفر سے با آسانی کامیاب ہو جاتے اسکی بنیادی وجہ فاروق حیدر مسلم لیگ ن کے صدر ہونے کے ساتھ ساتھ عوام کی نظروں میں مستقبل کے وزیراعطم تصور کیے جاتے تھے اور وہ اپنے حلقہ انتخاب کے ساتھ ساتھ مظفرآباد ،نیلم کے حلقوں میں بھی آئندہ بننے والے وزیراعظم تھے یہی وجہ تھی کہ عوام نے مظفرآباد ،ہٹیاں بالا اور نیلم کے اضلاع میں اپنے ماضی کے فیصلے کو تبدیل کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے امیدواروں کو کامیاب کروایا الیکشن مہم کے دوران یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ پیپلزپارٹی سات میں سے دو اور مسلم لیگ ن پانچ سیٹیںحاصل کرنے میں کامیاب ہو گی لیکن صورت حال یکسر تبدیل ہوئی اور پیپلز پارٹی کے حق میں آنے والی دو سیٹیں بھی مسلم لیگی امیدوار لے اڑے حلقہ پانچ کی طرح ضلع ہٹیاں بالا کے حلقہ چھ میں بھی فاروق حیدر کی بہترین حکمت عملی سے مسلم لیگ ن کے امیدوار ڈاکٹر مصطفی بشیر عباسی اپنے مخالف پیپلز پارٹی کے امیدوار چوہدری رشید اورمسلم کانفرنس پی ٹی آئی کے مشترکہ امیدوار دیوان علی خان چغتائی کو شکست دینے میں کامیاب ہوئے مسلم لیگ ن کے دونوں حلقوں سے کامیاب ہونے کے بعد ہزاروں کی تعداد میں کارکن سڑکوں پر نکل آئے اور فاروق حیدر،ڈاکٹر مصطفی بشیر کے حق میںریلیاں نکالیں مسلم لیگ ن کے صدر راجہ فاروق حیدر خان اور مسلم لیگ ن کے رہنماء ڈاکٹر مصطفی بشیر عباسی نے بھی کامیابی کے بعد اپنے اپنے حلقہ انتخاب کے مختلف علاقوں کے دورے کر کے عوام اور ن لیگی کارکنان کا شکریہ ادا کیا اور عوام سے کیے گئے تمام وعدے پورے کرنے ،خطہ کی تقدیر بدلنے کا عزم دہرایا ماضی میں ہونے والے حلقہ پانچ کے انتخابات پر اگر نظر ڈالی جائے تو کوئی بھی الیکشن خون خرابے کے بغیر نہیں ہوا لیکن اب کی بار چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر کی جانب سے فوج کی نگرانی میں کرائے گئے الیکشن اور مسلم لیگی امیدواروں کی کامیابی کے بعد چند ایک چھوٹے واقعات کے علاوہ انتخابات انتہائی پرامن ہوئے اب تک کی اطلاعات کے مطابق پیپلز پارٹی کے اشفاق ظفر سمیت کسی بھی امیدوار نے حلقہ پانچ ضلع ہٹیاں بالا میں دھاندلی کا کوئی الزام نہیں لگایا مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے صدر راجہ فاروق حیدر کو ہرانے کے لیے آزاد کشمیر کے دو سابق وزرائے اعظم مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان اور پی ٹی آئی آزاد کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری خاصے متحرک رہے لیکن ان دونوں کی جانب سے فاروق حیدر کو ہرانے کے لیے کی جانے والی تما م کوششیں ناکام ثابت ہوئیںبیرسٹر سلطان محمود چوہدری فاروق حیدر کو ہراتے ہراتے خود ہار گئے اور بیس سالوں بعد اسمبلی کی نشست سے محروم ہو گئے جبکہ سردار عتیق احمد خان بمشکل اپنی سیٹ کے ساتھ ساتھ صرف تین سیٹیں حاصل کر نے میں کامیاب ہو ئے جہاں فاروق حیدر کو ہرانے کے لیے سردار عتیق احمد خان اور بیرسٹر سلطان محمود چوہدری متحرک رہے اسی کے ساتھ ساتھ فاروق حیدر کے مخالف پیپلز پارٹی کے امیدوار صاحبزادہ اشفاق ظفر کو ہرانے کے لیے پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے صدر چوہدری عبدالمجید اور سیکرٹری جنرل چوہدری لطیف اکبر بھی ماضی کی طرح اپنا اثر رسوخ حلقہ پانچ ضلع ہٹیاں بالا میں استعمال کرتے رہے اشفاق ظفر کو ہرانے کے لیے اپنا اثر رسوخ استعمال کر نے والے پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے صدر چوہدری عبدالمجید بمشکل اپنی سیٹ کے ساتھ آزاد کشمیر سے ایک سیٹ اور سندھ حکومت کی مہربانی سے ایک سیٹ حاصل کرسکے جبکہ پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے سیکرٹری جنرل چوہدری لطیف اکبر اشفاق ظفر کو ہراتے ہراتے خود بھی اسمبلی سیٹ سے محروم ہو گئے الیکشن کے دوسرے روز مظفرآباد میں کی جانے والی پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل چوہدری لطیف اکبر کی پریس کانفرنس میں بھی دعوت کے باوجود مسلم لیگ ن کے صدر رراجہ فاروق حیدر خان کے مخالف پیپلز پارٹی کے امیدوار صاحبزادہ اشفاق ظفر سمیت متعدد ٹکٹ ہولڈر لطیف اکبر سے اختلافات کی وجہ سے شریک نہ ہوئے جسکی وجہ اکثریت کی جانب سے یہی سامنے آئی کہ پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے صدر چوہدری عبدالمجید اور سیکرٹری جنرل چوہدری لطیف اکبر اپنے امیدواروں کی حمایت کے بجائے انھیں ہرانے کے لیے کوشاں رہے مسلم لیگ ن کے صدر راجہ فاروق حیدر خان کی حلقہ پانچ اور مسلم لیگ ن کی آزاد کشمیر بھر سے بھاری اکثریت سے کامیابی کے بعد اب انکی ذمہ داریوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے انھیں اب کسی جماعت کے نمائندے کے بجائے تمام جماعتوں سے تعلق رکھنے والے عوام کا نمائندہ بن کر عوام کی خدمت پر توجہ دینا ہو گی اگر وہ بھی پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے حکمرانوں کی طرح چند مخصوص لوگوں کے نمائندے بنے رہے تو پھر 2021ء میں ہونے والے انتخابات میں مسلم لیگ ن کا حشر بھی پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں سے بدتر ہو گامسلم لیگ ن کے صدر راجہ فاروق حیدر کا حلقہ انتخاب جو 2005ء کے قیامت خیز زلزلہ میں شدید ترین تباہی سے دو چار ہوا گیارہ سال گذرنے کے بعد بھی اس حلقہ اور ضلع ہٹیاں بالا کے عوام کے مسائل جوں کے توں ہیں حلقہ پانچ کی آٹھ یونین کونسلوں میں آج بھی اکثر علاقوں میں لوگ پتھر کے زمانے کی زندگی گذارنے پر مجبور ہیں کئی علاقوں میں آج بھی عورتیں سروں پر گھڑے اٹھائے دور دراز سے پینے کے لیے پانی لاتی ہیں ،کہیں لوگ آج بھی سڑک، ہسپتال،سکولوں سمیت دیگر زندگی کی بنیادی ضروریات سے محروم ہیں اگر فاروق حیدر نے سیاسی اختلافات کو نظر انداز کر کے حلقہ اور آزاد کشمیر کے عوام کی بلاتخصیص خدمت کی اور

 ان کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنے کا وعدہ پورا کر لیا تو وہ بھی اپنا نام آزاد کشمیر کی تاریخ میں سنہری حروف میںلکھوانے میں کامیاب ہو جائیں گے اور اگر وہ بھی چوہدری عبدالمجید اور لطیف اکبر کی طرح چند مخصوص لوگوں کے نمائندے بنے رہے ،اپنی ہی چند مخصوص لوگوں کو نوازتے رہے اپنے ہی پارٹی امیدواروں کے خلاف حکومت بچانے کے لیے اپوزیشن کے ساتھ ملے رہے تو پھر پیپلز پارٹی ،چوہدری عبدالمجید اور چوہدری لطیف اکبر کا انجام ان کے سامنے ہے اب فیصلہ مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے صدر راجہ فاروق حیدر کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اب عوامی لیڈر بن کہ ابھرتے ہیں یا پھر چوہدری عبدالمجید اور چوہدری لطیف اکبرجیسی طرز سیاست و حکمرانی کر کہ 2021ء میں ہو نے والے انتخابات میں پیپلز پارٹی کی طرح مسلم لیگ ن کا آزاد کشمیر سے بوریا بستر گول کرواتے ہیں کیونکہ اکیس جولائی کے روز ہونے والے انتخاب کی مہم کے دوران اب فاروق حیدر کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ ووٹر اب سیاست دانوں سے بھی زیادہ ہوشیار ہو چکا ہے اور ووٹرز کو بیوقوف بنانا انتہائی مشکل ہے ؟

 


Next News Previous News
By Waqas Ch
27/07/2016 264 views

Leave A Comment