Jaag Kashmir online news from Dadyal, Dudyal, Mirpur and Azad Kashmir
Jaag Kashmir online news from Dadyal, Dudyal, Mirpur and Azad Kashmir Sat, 25 Feb 2017

فون پر صرف uc browser میں کھولیں

Use UC Browser to open on mobile.

News from Dadyal, Mirpur and all Azad Kashmirفرمودات قبلہ حضرت صاحب رحمتہ اللہ علیہ گلہار شریف کوٹلی آزاد کشمیر :تفصیلات ضرور پڑھیئے

وقاص چوہدری نے یہ خبر 2016-12-30 کو pm07:18 پرcol کی کیٹیگری میں پوسٹ کی اور ابھی تک اس کو 123 قارئین نے پڑھا ہے۔
 

Jaagkashmir.com urdu news dadyal mirpur azad kashmir

                                               ( پیش کش حافظ محمد صدیق ساقی )

شیخ المشائخ حضور خواجہ عالم حضرت قاضی محمد صادق صدیقی نقشبندی المعروف قبلہ حضرت صاحب رحمةاللہ علیہ کے آٹھویں سالانہ عُرس ُمبارک کے موقعہ پر آپ رحمةاللہ علیہ کے پچاس فرامین ُمبارکہ قارئین کرام کی خدمت میں پیش کیے جاتے ہیں ،یہ فرامین آپ کی خدمت میں پیش کرنا میرے لیے باعثِ سعادت  ہے ۔حضور خواجہ عالم حضرت قاضی محمد صادق صدیقی نقشبندی المعروف قبلہ حضرت صاحب

رحمةاللہ علیہ نے اولیائے کرام کی تذکرہ نگاری کا ایک اصول بیان فرمایا ہے کہ عام رُجحان ہے کہ اولیائے کرام علیھم الرحمہ کا تعارف کرامات اورتصرّفات کے ذریعے کرایا جاتا ہے ،اس میں شک نہیں کہ اولیائے کرام کی کرامات برحق ہیں ہم ان کے قائل ہیں مگر اولیائے کرام کی عظمت کا  راز  ان کی تعلیمات،اخلاق اور کردار میںمُضمر ہے کیونکہ ان ہی میں بندگانِ خدا کی راہنمائی اور تعلق باِللہ کا سامان ہے

  جبکہ کرامات، اولیائے کرام کے مقام کی رفعت کو واضح کرتی ہیںاصل چیز دین پر عمل اور اسلامی کردار ہے ۔کرامات روحانی ارتقاء کا ثمرہ ہوتی ہیں ۔اس لیے اولیائے کرام کی سیرت وکردار کو بیان نہ کرنا جو  اُن کے روحانی ارتقاء کا باعث ہے محض کرامات کو بیان کرنا گھوڑے کے آگے تانگہ ُجوتنا ہے۔

.(1)  عرس شریف کی مجالس اولیائے کرام کی تعلیمات کو عا م کرنے کا ایک ذریعہ ہیں،ان تقریبات کی اصل روح یہ جذبہ ہے کہ بزرگوں کی تعلیمات لوگوں کے سامنے پیش کی جائیں، غیر شرعی امور سے انہیںآگاہ کرکے روکا جائے اور صحیح مسلمانوں کے خدّوخال ان کے سامنے پیش کیے جائیں اب تو اکثر یہ تقریبات ایک رسم کے طور پر رہ گئی ہیں ان کی روح کا خیال نہیں رکھا جاتا بلکہ لوگوں کی دلچسپی کا خیال رکھا جاتا ہے  لوگوں کی کشش کے زیادہ سے زیادہ اسباب مہیّا کیے جاتے ہیں تاکہ لوگ اس میں زیادہ تعداد میں شرکت کریں ہم اسے ایک خاص تقریب سمجھتے ہیں اور لوگوں کی اصلاح کے لیے اسے منعقد کرتے ہیںتاکہ ان کے ایمان اور ایقان میں تازگی پیدا ہو، اور ان کی توجہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہو جائے۔

(2) لوگ دُنیا داروں کی برسیاں مناتے ہیں یہ فعل کسی کو اجنبی محسوس نہیں ہوتا وہاں دُنیوی جاہ و جلال کا اظہار ہوتا  ہے مگر عرس بزرگان دین کی تعلیمات کو اُجاگر کرنے کی تقریب ہوتی ہے اس پر انگشت نمائی ہوتی ہے حالانکہ دونوں میں فرق اتنا ہے کہ برسی دُنیوی عظمت کے اظہار کا ذریعہ ہے اور عرس دینی اقدار کی تبلیغ کا ذریعہ ہے ۔

(3)  اولیائے کرام کے مزارات شریفہ کو پُختہ بنانے اور ان کے اوپر گبند کی تعمیر کرنے کا مقصد کوئی دوکان دار ی یا مذہبی فریضہ کی ادائیگی نہیں ہے بلکہ اسکی وجہ یہ ہے کہ جن نفوس قُدسیہ نے اپنی زندگیوں کامقصد اللہ تعالیٰ کی رضا کاحصول قرار دیا اور لوگ ان سے زندگی میںفیوض وبرکات حاصل کرتے رہے ان کے دنیا سے کُوچ کرجانے کے بعد فیوض وبرکات ختم نہیں ہوتے بلکہ ان کی قبور کے پاس بیٹھنے والوں کو وہی فیوض وبرکات حاصل ہوتے ہیں اورلوگ ان سے نفع اندوز ہوتے ہیں ان کے مزارات پُختہ بنانے اور ان پر گبند تعمیر کرنے سے ان کے آثار باقی رہتے ہیں اور لوگ ان سے فیض حاصل کرتے ہیں،ایک صاحب نے عرض کی کہ علمائے دیوبند نے کہا ہے  کہ یاد گار کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ قبر پر کتبہ لگا دیا جائے تاکہ نشان باقی رہے آپ نے فرمایا یہ کافی نہیں ہے اگر ایک زائر آئے  اس کا ارادہ ہو کہ مزار کے پاس بیٹھ کر ایک پارہ یا زیادہ قرآن  مجید کی تلاوت کرے لیکن اگر  قبر پر چھت وغیرہ نہ ہو سخت گرمی ہو یا سخت سردی ہو یا بارش ہو تو وہ وہاں کس طرح بیٹھ سکے گا وہ واپس چلا جائے گا  گبند یا عمارت نہ ہونے کی وجہ سے وہ اس سے محروم رہے گا ،نبیۖ کا ارشاد ہے کہ قرآن مجید کا ایک حرف پڑھنے سے دس نیکیاں ملتی ہیں  الم  پڑھنے سے تیس (نیکیاں) ملتی ہیں کوئی انتظام  وہاں موجود نہ ہوتو وہ کتنی نیکیوںسے محروم ہو گا ۔

(4)  گُلہار شریف ایک چوراہے پر واقع ہے یہاں قِسم قِسم  کے لوگ آتے ہیں وہ مختلف مشائخ کرام سے نسبت رکھنے والے ہوتے ہیں بلا امتیاز ان سب کا خیال رکھنا ضروری ہے جو ماحضر ہو کھا نے کے لیے پیش کرنا چاہیے رات بسر کرنے کیلئے موسم کے مطابق جگہ دینی چاہیے سب بزرگوں کا نام احترام سے لینا چاہیے دُرویش کے سائے کا احترام بھی ضروری ہے  نقشبندی، قادری،سہروردی اور چشتی تمام سلاسل کے اولیائے کرام  ہمارے مشائخ میں سے ہیں کیونکہ حضرت مجدد الف ثانی رحمة اللہ علیہ کو تما م سلاسل سے فیض حاصل تھا اسی طرح وہ بھی ہمارے پیران کرام سے ہیں اپنے سلسلہ شریف کی طرف دھیان رکھیں اگر آپ کی موجودگی میں کسی اور سلسلہ کے بزرگ آجائیںتو ان کا ادب بجا لائیں۔

(5)  اہل سنّت کا عقیدہ  پاسے کے سونے (گولڈ)کی مانندکھرا ہے جس میں کوئی کھوٹ نہیں اور یہی اللہ کے رسولۖ کا طریقہ ہے۔

( 6)  کامل توحید اولیاء اللہ کے پاس ہوتی ہے لوگ یوںہی توحید توحید کی رَٹ لگائے پھرتے ہیں ۔

(7)  انسا ن کی تخلیق کا مقصد وظیفہِ بندگی کی ادائیگی ہے اس طرح کے سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی اور کی طرف توجہ قطعاََ مبذول نہ ہونے پائے اور دُنیوی لذّات کو دیکھ کر بھی دل ان کی طرف مائل نہ ہو۔

(8)  انسا ن کو اللہ تعالیٰ نے صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے حیف ہے اگر انسان اپنی زندگی رجوعِ خلق وغیرہ خرافات میں ضائع کر دے۔

(9)  اسلام ہمیں بتاتا ہے کہ دُنیا فانی اور عارضی ہے اس کا حصول مقصد حیات نہیںیہاں نجات کی فکر کرنی چاہیے مگر ترک دُنیا کی راہ سے نہیں، انسان کی جسمانی ضروریات ہیں ان کا پورا کرناانسان پر لازم ہے دولت کمائو لیکن اسے زندگی کامقصد نہ بنالو بلکہ اصل مقصدکے حصول کی خاطر اسے خرچ کرو۔

(10)  اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے کوئی کام لینا چاہتا ہے تو اس کی مدد بھی فرماتا ہے ظاہر میں وہ بندہ ہوتا ہے اور دُنیا سمجھتی  ہے کہ فُلاں شخص یہ کام کر رہا ہے ورنہ حقیقت میں کارساز وہ خود ذاتِ باری تعالیٰ ہے۔

(11 ) اللہ والے ،حق تعالیٰ کی تقدیر ،فعل اور ارادے پر راضی رہتے ہیں وہ اپنے اعمال کے محاسبہ ،خوفِ حشر اورذکر و فکر میں مشغول رہ کرتسلیم ورضا کے خوگر ہوتے ہیں ان کی زبان پر شکوہ شکایت نہیں ہوتی، دُنیا داروں کے برعکس انہیں آلام و مصائب اِنعام سے بڑھ کرپسندیدہ ہوتے ہیں کیونکہ آلام و مُصائب میں نفس کی شرکت نہیں ہوتی ۔

(12)  اولاد کے بگاڑ میں والدین کے رویّے کا بڑا عمل ودخل ہوتا ہے وہ بچّوں کو معاملات کا کارِ مختار بنادیتے ہیں تما م رقم ان کے ہاتھوںمیں دے دیتے ہیں پھر انہیں(اولاد کو) محنت اور تکلیف اٹھانے کی کیا ضرورت ہے ؟

(13)  قرآن مجید اور مساجد سے محبت کرنے والا دنیا اور آخرت میںذلیل و رُسوا نہیں ہوتا۔

(14)  مساجد کی رونق بڑھانے کے لیے وعظ و تبلیغ کی مجالس منعقد کرنی چاہیں۔

( 15)  مسجد کی صفائی کرنا ثواب کا کام ہے  حضرت قبلہ عالم رحمةاللہ علیہ خود اپنے ہاتھ سے مسجد میں جھاڑو دیا کرتے تھے۔

(16)  نماز کی پابندی کرو  ، قرآن مجید کی تلاوت کرو اور درود شریف کی کثرت کرو کسی افتاد کے وقت اس کے حضور دوگانہ ادا کرو، اللہ تعالیٰ کی رحمت کو حرکت میں  لانے کے لیے ہمیشہ تواضع اور انکساری سے اس کی طرف متوجّہ رہو اور کشائش تک  صبر کادامن تھامے رکھو۔

(17)  دنیا کا بڑا آدمی اگر کسی کی تعریف کر دے تووہ شخص پھُولے نہیں سماتا  توجس کی تعریف خود نبی کریم ۖ نے فرمائی اس کے لیے خوشی کا کتنا عظیم مقام ہو گا  پھر فرمایا کہ نبی کریم ۖ کا ارشاد ہے ،،تم میں سے بہتر وہ شخص ہے جس نے قرآن مجید کا علم خود حاصل کیا اور دوسروںکوپڑھایا۔

(18)  والدین کی خوب خدمت کرو  والدین اولاد کو دعائیں دیتے ہیں مگر اولاد کو مزید دعائیں حاصل کرنے کے ڈھنگ اختیار کرنے چاہیں انکی خدمت کریں ان کو دبائیں اور ان کی ہر ضرورت کا خیال رکھیں تاکہ وہ مزید دعائیں دیں۔

(19)  والدین (اگر وفات پاچکے ہو ں تو ان) کے ایصال ثواب کے لیے صدقہ وخیرات اور نیک اعمال کرتے رہیں انہوں نے بڑی مشکل سے تمہاری پرورش کی، دعا کے وقت ان کو یاد رکھا کریں۔

(20)   اخلاص کے ساتھ عمل اگر تھوڑا بھی ہو ، وہ پہاڑوں جیسا ہوتا ہے اور بغیر اخلاص کے اعمال اگر پہاڑوں کے برابرہوں تو وہ لکڑیوں کے ڈھیر کی ماند ہوتے ہیں جن کو آگ آناََ فاناََ جلا کر خاکستر بنا دیتی ہے۔

(21)  اگر آپ دین دار ہیںتو یہ اللہ تعالیٰ کی دَین اور اس کا اِنعام ہے ہر وقت اس کا شکر ادا کرتے رہنا چاہیے کہ اس نے مسلمان پیدا فرمایا،اسلام کی تعلیمات پر چلنے کی توفیق دی اس پاک ذات سے ہمیشہ ثابت قدمی اور استقامت کی دعا کرتے رہیں، نیک اعمال کو اپنا کمال نہ سمجھیں، ہدایت اللہ تعالیٰ کی عطا ہے اسے من جانب اللہ سمجھ کر ا س کا شکر ادا  کریں۔

(22)  اللہ تعالیٰ اِخلاص کی قدر فرماتا ہے جو کام اس کی رضا کے حصول کے لیے اِخلاص اور نیک نیّتی سے کیا جائے اس میں خیر و برکت ہوتی ہے  

(23)  عمل وہی باقی رہتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کیا جائے کیو نکہ وہ ذات باقی ہے اور اس کی خوشنودی کے لیے کیا جانے والا کام بھی باقی رہتا ہے۔

(24 )  حکیم بیماری کے لیے نسخہ تجویز کرتا ہے  اس نسخے میں کئی ایک ادویّات شامل ہوتیں ہیں مگر پورے نسخے میں ایک دوا  جزوِ اعظم کے طور پر شامل ہوتی ہے اور اس کے نام پر اس نسخے کا نام تجویز کیا جاتا ہے جیسے شربت صندل ، معجون کچلا،تصوف میں خلوص کو جزو ِاعظم کی حیثیّت حاصل ہے۔

(25)  اس میں شک نہیں کہ بزرگوں کی خدمت میں کچھ نذرانہ پیش کرنا ادب کے قرینوں میں سے ایک قرینہ ہے مگر زمانہ میں اب تغّیر  آچکا ہے حالات یکساں نہیں رہتے  ہو سکتا ہے کہ کسی وقت حالات آپ کا ساتھ نہ دیں اور یہ عادت باہمی ملاقات میں حائل ہو جائے جو کسی طور پر مناسب نہیں ہے اگر کسی سنگی کا نذرانہ یا خدمت لو ٹا دی جائے تو اس کی آزردگی کا باعث ہو تاہے ۔

(26)  سنگیوں  اور ہمارے درمیان رشتہ اللہ اللہ کا ہے جب اس رشتہ پر دُنیوی مفاد کا سایہ پڑا تو یہ رشتہ باطل ہوگیا دوسرے یہ کہ اس دُرویش کو دُنیوی مال ومنال کی ہوس نہیں کوئی بنگلہ اور پلاٹ ہماری سوچ کا حصہ نہیں ،ہمارے بزرگوں نے مسجدوں اور ان کے حُجروں کو پسند فرمایاہمیں ان میں بسایا اور اب تک بس رہے ہیں ۔

(27)  صاحبزادہ اقصد صاحب مدظلہ العالی بیان کرتے ہیں کہ حاجی عبد الشکور خالدصاحب لاہور والے روایت کرتے ہیں کہ میں قبلہ حضرت صاحب رحمةاللہ علیہ کے ساتھ سفر میں تھا ایک جگہ آپ نے اپنے پاپوش مُبارک اُتارے میں نے اٹھانے کی کوشش کی تو آپ نے فرمایاسنگی ساتھ جُوتیاں اٹھانے کے لیے نہیں ہوتے ۔

(28)  ہماری تمام مشکلات، مُصائب اور تکالیف کا باعث اللہ تعالیٰ کے احکام میں کوتاہی اور اس کی یاد سے غفلت ہے اور ان تمام کا حل اللہ تعالیٰ کے احکام کی بجاآوری اور اس کی یاد میں مُضمر ہے۔

(29 )  تمام سیاسی جماعتیں  اور ان کے قائدین ہمارے لیے قابل احترام ہیں ہم کسی جماعت کی کاروائی میں حصّہ نہیں لیتے اور نہ  ہمیں اس سے کوئی دلچسپی ہے ۔

(30)ایک دفعہ قبلہ حضرت صا حب رحمة اللہ علیہ  نے مساجد اور مدارس میں دروازوں اور کھڑ کیوں کے لیے  اعلیٰ دیار کی لکڑی منگوائی لکڑی لانے والے نے گزارش کی کہ  یہ حکومت کے ڈپو سے ملی ہے اور حکومت نے قیمت نہیں لی، آپ  رحمة اللہ علیہ نے فر مایا ہم حکومت کا عطیہ نہیں لیں گے اور لکڑی کی قیمت خود ادا کریں گے، دربار شریف کا نمائندہ حُکم لے کر صدر اور وزیر اعظم سے ملااور واپس آ کر صدر یا وزیر اعظم کا نام لے کر بتا یا کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم لکڑی کی رقم اپنی ذاتی جیب سے ادا کریں گے تو قبلہ حضرت صاحب رحمة اللہ علیہ نے فرمایااقتدار کی کُرسی پر بیٹھنے والوں کی جیب ذاتی نہیں ہوتی اور رقم دربار شریف کی طرف سے خُودادا فر مائی۔

(31)قبلہ حضرت صاحب  رحمة اللہ علیہ نے عُمر بھر سادات کرام کے احترام و اکرام کو وظیفہ حیا ت بنائے رکّھا، آپ  رحمة اللہ علیہ کا ارشاد ہے کہ بندہ تک بزرگو ں کی یہی تعلیم ہے کہ اہل بیت حضرات اور علماء کرام کا بہ دل و جان احترامِ کریں کیونکہ احترامِ آدمیّت شرف انسانیّت ہے بندہ اسی تعلیم پرعمل کر نے کی کو شش کرتا ہے۔

(32)قبلہ حضرت صاحب  رحمة اللہ علیہ کا معمو ل تھا کہ  مجلس میں اگر کوئی عالم دین مو جود ہو تا تو سب سنگیوں کی اجمالی خیریّت دریافت کرنے کے بعداپنا روئے سُخن عالم دین کی جانب فرما لیتے۔ اور کسی سے ضرورت کے مطا بق گفتگو فرماتے، یہ سب اپنے احبا ب طریقت کے دلوں میں علُمائے کرام کی قدر و منزلت پیدا کرنے کے لیے ہوتا، سنگیوں کی تر بیّت کا ایک یہ انداز تھاجوعُلمائے کرام آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے رخصت کے وقت اُن کو بیش قیمت تحا ئف عطا فر ماتے نقدی کی صورت میں بھی اُ ن کی خد مت فر مایا کرتے بزرگ علُمائے کرام کی خدمت میں ایسے بیش قیمت تحا ئف سنگیوں کے ہاتھ روانہ فر ماتے اگر چہ ان سے بالمشا فہ ملاقا ت نہ تھی۔آپ  رحمة اللہ علیہ نے گڑ ھی شاہو جا معہ نعیمیہ (لاہور) کی مسجد میں مولا نا مفتی عزیز احمد بد ایونی  رحمة اللہ علیہ کی اقتداء میں ایک نماز ادا فرما ئی جو جا معہ نعیمیہ میں حدیث کے اُستاذ تھے بعد میں آپ  رحمة اللہ علیہ نے بابو دین محمد  رحمة اللہ علیہ کے ہاتھ اُن کو ایک کشمیری گرم لوئی بھیجی یہ صرف ایک مثال ہے ایسی مثا لیں کثرت سے ہیں۔  

(33)طالب علم ایک مقد س امانت ہیں والدین حصول علم کی خا طر اپنے جگر گو شو ں کو جُدا کر تے ہیں، اعلیٰ مقصد کے حصول کے لیے وہ ہم پر اعتماد کرتے ہیں، علم کی اہمیّت سے انکا ر ممکن نہیں حضور اکرم ۖ بھی   رَبِّ زِدنِی عِلمًا   کی دعا فرماتے رہے آپۖ کا یہ بھی ارشاد ہے کہ طالب علم جب علم کے لیے سفر کرتے ہیں تو فرشتے ان کے قد موں کے نیچے اپنے پر بچھا تے ہیں طالب علم کو اس نگاہ سے دیکھنا چاہیے آخر وہ بچّے ہوتے ہیںاُن سے غفلت، بے احتیاطی اور کبھی زیادتی کا مظا ہرہ بھی ہو سکتا ہے ان کے مقصد کی اہمیّت کے پیش نظر ان کو ایسی محبت اور شفقت دینی چا ہیے کہ وہ گھر کا ما حول بھُول جا ئیں اور پورے انہماک اور دلجمعی سے تعلیم میں مصرو ف ہو جائیں، اگر ماحول میں گُھٹن اور خوف پایا جائے تو اس عظیم مقصد کے فو ت ہو نے کا خدشہ ہے جس کے لیے والدین نے ہم پر اعتما د کیا ہے، طالب علم کی پرورش کا صِلہ اللہ تعالیٰ دیتا ہے انکی خد مت میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی مُضمر ہے۔

(34)بعض اساتذہ طلباء سے جس حُسن اخلاق کی توقع رکھتے ہیں خود اُس پر پورا اُترنے کی کوشش نہیں کرتے مثلاً اُستاذ چاہتا ہے کہ طلباء وقت کی پابند ی کریں تو اُستاذ کو اپنی زندگی میں عملی نمونہ پیش کرنا چاہیے، جو اخلاقی انقلاب اُستاذ طلباء میں لانا چا ہتا ہے اُ سے اُس کی عملی تصویر بننا چاہیے تا کہ طلبا ء اس سے اثر قبول کر یں۔

(35)طلبا ء سے امتیاز ی سلوک نہ کریںبعض طلباء سے اساتذہ ذاتی کام لیتے ہیںاس خد مت کے عوض ان سے دوسرے طلباء کے مقابلہ میں بہتر سلوک سے پیش آتے ہیں اور بعض اوقا ت اُن کو ناجائز مراعات دے دیتے ہیں اُستاذ کی اس روش کو دوسرے طلباء پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھتے بلکہ ان کے دلوں میں اساتذہ کے بارے میں غلط تاثر پیدا ہو جاتا ہے اس سے اُستاذ اپنا صحیح مقام کھو دیتاہے۔

(36)اپنی تقریر اور وعظ میں اصلاحی پہلو مدِِّ نظر ہو نا چاہیے زیادہ زور اصلاحی امور پر ہو نا چاہیے تاکہ معاشرتی ناہمواریا ں دور ہوں، اختلافی مسائل بیا ن کر نے سے گریز کر یںکسی کی دل آزاری والی بات نہ کہیں۔

(37) اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ ہم اہل سنّت والجماعت سے ہیںہمیں اپنے قول و فعل سے اپنی جماعت کی ساری ضروریات  پوری کرنا چا ہئیں اپنے مسلک کی حقانیّت پر ہماراا یمان پُختہ ہونا چا ہیے ایسا ایمان ہی اطمینان کا سرمایہ ہے، دوسروںکی  طعن و تشنیع سے ہمیں متاثر نہیں ہونا چاہیے  اس طعن و تشنیع سے مُشتعل ہو کر ترکی بہ ترکی جواب دینا کمال نہیں، نزاعی مسائل اپنے مسلک کی روشنی میں کسی دوسرے گروہ کو زیر بحث لائے بغیر بیان کر نا چا ہیے جو مذاہب عہدِ نبویۖ کے بعد پیدا ہو ئے وہ اعتبار کے لائق نہیںاور نہ ہی توجّہ کے قابل ہیں۔

(38)مُعلم اور خطیب حضرات عوام سے ایسا طریقہ اختیار کریں اور تبلیغ کا ایسا انداز اپنائیںکہ لوگ دُور ہونے کے بجائے دین کے قریب ہوں۔

(39)(نمازیں بالخصوص ) نماز جمعہ عُمدہ لباس پہن کر پڑ ھایا کرو کیو نکہ دُرویش کو عدالت میںقاضی، میدانِ کار زار میں غازی اور مسجد میں نمازی ہونا چاہیے  دُرویش کو لوگو ں سے ایسی حالت میں نہیں ملنا چاہیے کہ وہ اسے حقا رت کی نظر سے دیکھیں۔

(40)معلمین اپنے فرائض منصبی سے دلچسپی رکھیں، مقامی آبادی میں پیدا ہونے والی سیاسی  اور سماجی تبدیلیوں سے دلچسپی بالکل نہ رکھیںآپ کو اس سے دلچسپی نہیں ہو نی چاہیے کہ کو ن آیا کو ن گیا ،جو مدرسہ میں آئے اُس کی عز ت کریں، مدرسہ اور مسجد چھوڑ کر اُن کی قیام گا ہ پر خدمت کے لیے نہ جا ئیںخود اور بچوں سے اُن کے جلسے جلوس کی رونق نہ بڑ ھائیں۔ اپنے مصلّٰی اور منصب سے غرض رکھیں اور اللہ تعالی ٰکی طرف دھیان رکھیں  فاعل ِ حقیقی وہی ہے۔

(41)انسان کی عا فیّت اتباع شریعت میں ہے جب تک انسان احکام شرعیّہ کی پیروی کرتا رہتا ہے وہ محفوظ رہتا ہے جو نہی یہ توازن بگڑا اوردُنیا طلبی اور زر پرستی کا میلان غالب ُہوا،انسان خطرہ میں پڑ جاتا ہے پھر نفسِ امّارہ اور شیطا ن گھٹیا  مقا صد کے لیے طر ح طر ح کے ناجائزکام انسان سے کراتے ہیں۔جس کا مشاہدہ آج معاشرہ میں ہورہا ہے اس فساد سے بچنا چا ہو، جو چاروں طرف رونما ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو۔

(42)زندگی کا مقصود خوشحالی پر اترانا اوربدحالی کو بد نصیبی پر محمول کرنا نہیں ہے بلکہ زندگی ہر حال میں ایک امتحان ہے جو زندگی کی حقیقت کو پا لیتے ہیں وہ زندگی کے ُمصائب وآلام میں مایوس نہیں ہوتے، ان کا جسم دُنیوی امور میں مصروف ہوتا ہے مگر اُن کا قلب متوجہ الی اللہ ہوتا ہے زندگی کے گو ہرِ مقصود کو پانا چا ہیںتو شریعت مطہّرہ کی پیروی کو اپنا شعار بنا لیں متقدمین اہل سنت کی کتابوں سے دُرست عقائد کو معلوم کر کے اُن کو اپنائیں۔

(43)جنّا ت کا وجود بر حق ہے آدمیوں کو وہ اپنے تصرّ ف میں بھی لا سکتے ہیںلیکن آج کل جو سلسلہ چل نکلا ہے اس میں صداقت کم اور ملاوٹ زیادہ ہے ایک صاحب نے بیان کیا کہ ایک لڑ کی میرے پاس لائی گئی کہ اُس کو جنّ پڑا ہُوا ہے جب وہ میرے سامنے لائی گئی تو کہنے لگی یہ مُجھ کو کیا کرلے گا؟ حالا نکہ اس لڑکی کو دیکھ کر گمان نہ ہو تا تھاکہ وہ اتنی بات کہہ سکے گی اُ س کی یہ بات سُن کر مجھے غصہ آیا میں نے اُس کو ایک تھپڑ مارا وہ فوراً کہنے لگی مجھے نہ مارو مجھے جنّ وغیرہ کی کوئی تکلیف نہیں ہے۔

(44)ہم جنّات وغیرہ کے وجود کا انکار نہیں کرتے اللہ تعالیٰ کی مخلوق کا احاطہ کو ن کر سکتاہے البتہ انسان اشرف المخلوقا ت ہے عقیدہ اور عمل کی کمزوری کے باعث یہ ہمیں تنگ کرتے ہیںاور وہم و گمان کا بھی اس میں بڑا عمل دخل ہے ہمارا یہ عقیدہ پُختہ ہونا چا ہیے کہ نفع و نقصان صرف مالِک حقیقی کے قبضہ میں ہے جو لو گ پُختہ عقیدہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجّہ رہتے ہیں وہ اس قسم کے اوہام ا ور تکالیف سے محفوظ رہتے ہیں۔(45) شفا ء منجانب اللہ ہوتی ہے جب وہ ذات شفا ء دینا چاہے تو اسباب خود بخود پیداہو جاتے ہیں اور اشیاء میں تاثیر بھی پیدا ہو جاتی ہے بندہ کوراضی برضا رہنا چاہیے علاج اور تدبیر مسنون ہیں اس احساس سے علاج کرایا جائے کہ اِسے مئوثربنانے والی ذات اللہ تعالیٰ کی ہے۔

(46)دُنیا فانی ہے بڑے بڑے سلاطین جن کی رُوئے زمین پر حکمرانی تھی چل بسے،  اب اُ  ن کا نام و نشان بھی با قی نہیں چند روزہ زندگی پر بھروسہ کر کے آخرت سے غا فل نہ ہو ں اس کے دھو کے میں نہ آئیں اس کی ہر ادا، آخرت سے غافل کرنے والی ہے جبکہ عقل مند کی نظر انجام پر ہوتی ہے  وہ بقدر ضرورت اس سے نفع اُٹھاتا ہے اور آخرت کی تیاری کی فکر میں رہتا ہے۔

(47)یہ دُنیا جس سے ہمیں اتنی محبت ہے کتنی تغّیر پذیر ہے کتنے رنگ دِکھاتی ہے اس کی یہ بے ثباتی اس امر کی مُتقاضی ہے کہ اس سے ضرورت سے زیادہ دل نہ لگایا جائے اس کے حصول کے لیے جو بھی کو شش کی جائے گی وہ انجام کار حسرت ہو گی، اس لیے اس سے بقدر  ضرورت فائدہ اُٹھایا جائے رشتہ صرف اُس ذات سے اُستوار کیا جائے جو باقی رہنے والی ہے تا کہ یہاں سے رخصت کے وقت زیادہ حسرت اور قلق نہ ہو۔

(48)یہ دنیاہے رنج و راحت، آلام و اِنعام اور بیما ری اور صحت اس کی خصوصیّا ت میں سے ہیں، ان سے کسی کو مفر نہیں نہ کو ئی مُستثنیٰ ہے ہمیں ہر آن تیار رہنا چاہیے یہ چیز پیش نظر رہے کہ دم ِواپسی تک احکام الٰہی کی انجام دہی میں کو تاہی نہ ہو۔

(49)زندگی ایک معیّن وقت کا نام ہے جس میں کمی بیشی ممکن نہیں ہر لمحہ ہماری زندگی کو گھٹا رہا ہے لہٰذا ہمیں ہر لمحہ ہو شیار رہنا چاہیے کہ ہم سے کوئی  ایسی حرکت سر زد نہ ہو کہ کل پچھتاوا ہو پھر اس کی تلافی نہ ہو سکے گی۔

(50 )قبلہ حضرت صاحب رحمة اللہ علیہ کی خدمت میںآزاد کشمیر کے ایک وزیر اعظم حاضر ہوئے آپ  رحمة اللہ علیہ نے ان کو یہ نصیحتیں فر مائیں۔زندگی مُستعار ہے یہ ایک امانت ہے کوئی بھروسہ نہیں کب واپس طلب کر لی جا ئے!دنیا میں دوبارہ آنے کا موقع نہیں ملے گا اس لیے زندگی کا ہر لمحہ یاد خدا میں بسر کرنا چاہیے ۔ دُنیا کا مال و دولت یہیں دھرا رہ جا ئے گا صرف وہی لمحات کام آئیں گے جو اللہ تعالیٰ کی یاد میں بسر ہوئے اور اُس کی رضا کے کا مو ں میں صرف ہوئے اپنے آپ کو دھو کے میں نہیں رکھنا چاہیں۔

(مصاد ر  و مراجع ،ارمغانِ طریقت ، تذکرہ جاناں،نُورِ خانقاہِ ہدایت)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ترتیب و پیش کش حافظ محمد صدیق ساقی ساکن سہر منڈی تحصیل سہنسہ ضلع کوٹلی آزاد کشمیر

 

 

اگلی خبر پڑہیں پچھلی خبر پڑہیں

ایک ماہ کی مقبول ترین