Jaag Kashmir online news from Dadyal, Dudyal, Mirpur and Azad Kashmir
Jaag Kashmir online news from Dadyal, Dudyal, Mirpur and Azad Kashmir Sat, 25 Feb 2017

فون پر صرف uc browser میں کھولیں

Use UC Browser to open on mobile.

News from Dadyal, Mirpur and all Azad Kashmirآزاد کشمیر کی سیاست میں بھونچال :تحریر :عبدالرحمن

وقاص چوہدری نے یہ خبر 2016-08-12 کو pm04:58 پرcol کی کیٹیگری میں پوسٹ کی اور ابھی تک اس کو 233 قارئین نے پڑھا ہے۔
 

Jaagkashmir.com urdu news dadyal mirpur azad kashmir

آزادکشمیر کی سیاست میں بھونچال

تحریر :سردار عبدالرحمن خان(جاگ کشمیر نیوز )

1985ء سے تسلسل کے ساتھ آزاد کشمیر میں مروجہ ایکٹ1974ء کے تحت انتخابات کے ذریعے عوامی نمائندوں کا انتخاب کا عمل جاری ہے اور اب تک آٹھ انتخابی مرحلے مکمل ہو چکے ۔ آخری 2016ء کا الیکشن حال ہی میں اختتام پذیر ہوا اور اس کے افٹر شاکس کا سلسلہ جاری ہے۔ ان انتخابات کو سیاسی تاریخ میں بھونجال (زلزلہ ) کہ سکتے ہیں ان کے ذریعے معرض وجود میں آنے والی سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن نے سلائیڈ وکٹری حاصل کی اور اس میں ان لو گوں نے زیادہ حصہ ڈالاجو کہ مسلم لیگ (ن)کے وجود کے مخالف تھے۔2011-16کے دوران بر سر اقتدار پارٹی پیپلز پارٹی کو  آزاد کشمیرمیںقائم ہوئے چالیس سال سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے اور1975ء کے متنازعہ انتخابات میںاس کو بھی بڑی کامیابی دلائی گئی تھی ۔بعد ازاں آٹھ انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی کو1990,1996اور 2011میں عوامی خدمت کا موقع ملا ہر سہہ بار اس پارٹی کی  ناقص کارگردگی کی بنیاد پر عوام سے مسترد ہونے کی سند حاصل کی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اب تک جو بھی پارٹی آزادمیں برسر اقتدار ائی  اس کا اختتام برا ہی ہوتا رہا ہے۔حالیہ انتخابات میں کئی سیاسی سورمااور بڑے قد کاٹھ والے سیاست کے ماہرین ایسے ویسے ہوئے اور جو اپنے آپ کو ناگزیر سمجتھے تھے وہ شکست سے دو چار ہوئے دوسری جانب 49میں سے 39مسلم لیگ ن کے حصے میں آنا بھی خود مسلم لیگ کے لیے بھی حیرت کی باعث ہے اس قدر بھاری مینڈیٹ کو سنبھالنا ایک نیا مسلہ ہو گیا ہے۔ ہر ایک منتخب ممبر اسمبلی اپنے اندر ایک سے بڑھ کر ایک بڑا اور حکومت میں بطور جھنڈی بردار بننے کی مکمل اہلیت رکھتا ہے ۔ وزیر شذیر سے کم پر کوئی بھی کمپرومائز نہیں کر رہا ہے ۔تا دم تحریر پہلے مرحلہ میں 39میں سے ایک وزیراعظم ایک سپیکر ایک ڈپٹی سپیکر اور9وزراء کو اپنی گاڑیوں پر جھنڈیاں لہرانے کی اجازت دی گئی ۔وزراء کی حلف برداری کی تقریب میں صدر آزاد کشمیر نے جان بوجھ کر یا بھول کر وزراء کرام سے دوبار حلف لیا اس وقت 27بغیر جھنڈی کے مایو سی کے عالم میں اپنے حلقومیں واد ہوئے ہیں ۔اور مظفرآباد سے واپسی پر کسی قسم کے استقبالی پروگرام دیکھنے میں نہیں آئے ۔ادھر ان انتخابات کے زریعے ایک نئی تاریخ بھی مرتب ہوئی کہ مسلم لیگ ن کے منتخب ممبران نے اپنی مرضی کی اپوزیشن بنائی ہے۔اسپیکر اسمبلی نے اپنا ووٹ دیکر سابق سنیئروزیر چوہدری محمدیاسین کو اپوزیشن لیڈر بنا کر سرکاری مراعات اور پروٹوکولسے نوازہ گیا اور اپوزیشن کا منہ پہلے فوری طور پر بند کر دیا تا کہ حکومت کی مکمل حمایت جاری کر دے ۔ دوسری جانب انتخابات سے پہلے آزاد کشمیر میں سہہ جماعتی انتخابی اتحاد مسلم لیگ ن جموں وکشمیر پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی نے ایک دوسرے کی مدد کرتے 39کا عدد تک پہچ پائی مگر خواتین کی مخصوص نشتوں میں سے معاہدہ کے مطابق جمو ں کشمیر پیپلز پارٹی کو شیکست دیکر اتحاد کے پر خچے اڑا ئے گے۔ دوسری جانب جماعت اسلامی کو وعدے کے مطابق دو نشستں دیکر اس کو چپ کرا دیا گیا۔ جموں کشمیر پیپلز پارٹی کے صدر سردار خالد ابراھیم خان اپنی اصول پسندی کی وجہ سے ایک بار پھر اپوزیشن میں چلے گئے۔اور مسلم لیگ کی بے  اصولی سیاست کو ہدف تنقید بنایا ہواہے۔ نو منتخب وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان نے اسمبلی میں پاکستان میں مقیم مہاجرین کی سیٹو ں کو آزاد کشمیر کی سیاست میں بے جا مداخلت دبائو کے لیے ان کی موجودگی سے چٹکارہ پانے کے لیے  اعلانات کر رکھے ہیں ۔مسلم  لیگ ن آزاد کشمیر کی پالیمانی جماعت میں بھی سازشوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ضلع کوٹلی کے حلقہ ایل ۔اے 10کوٹلی3سے پانچ بار تسلسل سے منتخب ہونے کا اعزاز حاصل کرنے والے راجہ نصیر احمد خان کو وزارت کا نہ دینا بھی حلقہ بھر میں مسلم لیگ مقامی کارکنو ں اور راہنمائوں کو پر یشان کر گیا اور وزارت کا نہ ملنا سالار جموریت سردار سکندر حیات خان کے کھاتے میں ڈالا جا رہاہے۔البتہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے سہنسہ کو وزارت نہ دی مگر پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے خواتین کی نشست  پر محترمہ شازیہ اکبر جن کا تعلق سہنسہ سے ہے۔ کو اسمبلی کی نشست تک پنچانے میں اپنا بھر پور حصہ ڈالا۔یہ حلقہ اب تک تین بار دودو ممبران اسمبلی کا حامل رہاہے۔موجودہ حکومت کے لیے اس قسم کے اقدامات سے کئی مشکلات جنم لے چکی ہیں۔ اور یہ مشکلات اپنی حکومت کے لیے بیماری بنتی جا رہی ہیں۔ 2016ء  کے انتخابات میں انتظامی کنٹرول سسٹم قابل ستائش رہاہے۔ ووٹرز کے لیے شناختی کاردڈ اصل ساتھ ہونا لازمی ہونے کی بنیاد پر اور ساتھ پولیس اور انتخابی عملہ کی نگرانی کے لیے  پاک فوج کا  شاندار کردار روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ یہ انتخابات شفافیت کیاعتبارسے ہی الیکشن کمیشن کے انتظامات اور راہنمائی بھی اطمینان بخش ہے۔

 

اگلی خبر پڑہیں پچھلی خبر پڑہیں

ایک ماہ کی مقبول ترین