Jaag Kashmir News


Jaagkashmir.com urdu news dadyal mirpur azad kashmir

                                                          آرٹیکل۔۔۔۔۔۔(جاگ کشمیر جاگ )

                      عنوان:وہ اک شخص تھاجو بچھڑ گیا۔۔۔۔۔۔معروف عالم دین مولانا حسین احمدحسان

                                                 تحریر:شیرازخان صراف 

زمانہ وروئے گا برسوں ہمیں یاد کرکے 

گنے گئے خوبیاں اہل چمن جب ہم نہ ہوں گئے

دنیا کا قانون ہے کہ جو بھی اس دنیا میں آتاہے وہ جانے کے لیئے ہی آتا ہے یہاں کسی کو بقاء حاصل نہیں اپنے اپنے وقت پر آتے ہیں اور اپنی عمر پوری کرکے دوبارہ حق تعالی کے جواررحمت میں چلے جاتے ہیں یہ ایک عالمگیرسچائی ہے جس کو موت کا نام دیا ہے دنیا کا واحد متفقہ سچا پیغام ہے جس پر کسی کو کوئی اختلاف نہیں مسلمان ہو یا غیرمسلم ہر ایک اس حقیقت کو تسلیم کرنے والا ہے یہ وہ قانون ہے جو اللہ کے برگزیدہ بندوں انبیاء ورسل اصحاب اہلبیت اور اولیاء کرام سے لے کر ہر ذی روح پر لاگو ہوتا ہے ہزاروں سال جیئے بندہ مگر پھر موت ہے موت ہے موت ہے یہ سوچیں کہ قانون اگر فخر رسل ۖ مولائے کل ہادی برحق کونین کے سرور ساقی کوثر شافی محشرپرلاگوہوا تو کائنات کے اندر اللہ کے بعد کوئی ذات ہستی نہیں جو ان کی شان رفعت مقام بلندی کا مقابلہ کرسکے تو لوگوں جان لوکہ اگر آمنہ کے لعل بھی کفن پاک پہن کر گنبدحضری میں اللہ کے مہمان بن گئے تو یہ دنیا عارضی یہ دنیا فانی و دھوکہ ہے باقی رہنے والی ذات ایک رب لم یزل کی ذات ہے ایک شاعر نے کیا خوب فرمایا۔۔

یہ دنیا سدا ایک حالت پر قائم نہیں رہتی

جو حالت آج ہے مان لو یہ حالت دائم نہیں رہتی

کبھی رفعت کبھی پستی کبھی گلشن کبھی سحرا

ہمیشہ زندگی کا راستہ یکساں نہیں رہتا 

ہمیشہ کے لیئے رہنا نہیں کسی نے اس دارفانی سے 

بھئی جو بھی کرنا چار دن کی زندگانی میں

ابراہیم خلیل اللہ،اسماعیل ذبیح اللہ نہ رہے 

قارئین وہی 27اکتوبر تھا جس دن چناری کے درودیواروں کو ہی نہیں بلکہ پورے مظفرآباد ڈویژن سوگوار ہوگیا جس نے ہر مکتبہ اور ہر مسلک کوآبدیدہ کردیا ہر کوئی دھاڑئیں مار مار کے رو رہا تھا کہ آج ان سے ان کا بھائی ان کا دوست ان کا مربی ان کا ہمدرد ان کا غمخوار حسین احمدحسان یہ عارضی دنیا چھوڑ کر اللہ کے جواررحمت میں چلے گئے قارئین مولانا حسین احمد حسان مرحوم خطہ کشمیر کی مایہ ناز علمی شخصیت اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت آزادکشمیر مولانا محمدالیاس خان صاحب کے فرزند اور جامع مسجد قدیمی امام اعظم چناری کے نائب خطیب تھے مولانا محمدالیاس خان کے شاگردوں اور مریدوں کی تعداد لاکھوں میں ہے جو ملک کے اند اور بیرون ملک دین محمدی ۖ کا پرچار کرتے نظرآئیں گئے اور انہیں بڑھاپے میں مولانا کو حسین احمد حسان کی موت جدائی کا جو صدمہ پہنچا اور چوٹ لگی یقینا وہ ان کی ہی ذات ہے جو کہ رضائے الہی سمجھ کر برداشت کیا وہ منظر دیکھنے کے لائق تھا کہ جوان بیٹے کی میت سامنے رکھی ہے لوگ رو رہے ہیں اورمولانا محمدالیاس اپنے نبی ۖ کا دیا ہوا درس صبر کی عملی تصویر نظرآرہے تھے مولانا حسین احمدحسان اپنی ذات میں ایک پوری کائنات تھے آج بھی لوگ ان کو یاد کرتے ہیں کوئی بھی معاملہ ہو کسی کا بھی معاملہ ہو آپ کو مولانا حسین احمدحسان صف اول میں نظرآتے تھے فرقہ بازی کی لعنت نے جہاں بڑے بڑوں کو ہلادیا لیکن ضلع ہٹیاں بالا کے اندر پیارومحبت رواداری بھائی چارے کی جو وضاحت حسین احمدحسان نے قائم کی اس کی مثال ملنا مشکل ہے تقریبا چار دہایئوں سے چناری میں ربیع الاول میں دوروزہ سیرت کانفرنس کا انعقاد ان کے والد گرامی زیرسرپرستی ہوتا جس میں ملک بھر کے مایہ ناز علماء خطاب کرتے اور بھائی چارے کی فضاء قائم کرتے ہیں اورسادات سے خصوصی تعلق کی بناء پر عالم اسلام کی مایہ ناز شخصیت علامہ سیدعبدالمجیدندیم شاہ ،علامہ محمداسماعیل شاہ کاظمی،علامہ سید حافظ الرحمان شاہ بخاری،اب امیر شریعت سید عطاء المومن شاہ بخاری،مولانا سید نورحسن شاہ ،سیداعجاز حسین کاظمی،سمیت مختلف علماء کرام یہاں آکرمخاطب کرتے رہے اور یہ مولانا حسین احمدحسان کی رواداری روشنی وپیار تھا کہ ان جلسوں میں بریلوی مکتبہ فکر،اہلحدیث،اہل تشیع مکتبہ فکر کے لوگ بھی تشریف لاتے اور علماء کرام کے مواعظ حسنہ سے مستفیدہوتے اور یہی رواداری اور محبت کا مظاہرہ مولانہ حسین احمدحسان کے جنازے پر ڈگری کالج گرائونڈ چناری دیکھنے میں آیا کہ وہاں پر ہرمسلک کے ممتاز علماء کرام صف اول میں کھڑے تھے اور چناری والوں کی محبت بھی لازوال تھی اس دن مکمل اہلیان چناری نے بازار بند کرکے مولانہ حسین احمد حسان کے سفرآخرت کی تیاری و نماز جنازہ میں شریک ہوئے مولانا حسین احمدحسان اپنے دوست احباب کا ایک بہت بڑا حلقہ رکھتے تھے لیکن بہت زیادہ جس سے تعلق تھا چناری سے باہر مولانا مختیارکیانی،ریٹائرصدرمعلم شیخ غلام محمدعارف،پروفیسرنذیدجاوید،سعیدعارف،عاشق اعوان،صابراعوان،شیخ عبدالقیوم ،سیدعدنان فاطمی ودیگر شامل تھے جو آج بھی ان کا نام ان کا ذکر سن کر آبدیدہ ہوجاتے ہیں 27اکتوبر معروف عالم دین قاری محمد یامین کی امامت میں مولانا حسین احمدحسان کی نماز جنازہ ادا کی گئی موجودہ وزیراعظم راجہ فاروق حیدرخان ،ممبراسلامی نظریاتی کونسل مفتی کفایت نقوی،مرزاآصف مغل،سیداسلم کاظمی،مولانا عبدالمالک توحیدری،مولانا قاضی محمودالحسن،صدرمسلم لیگ فریدخان مفتی سید محمودالحسن مسعودی،مولانا شیخ الطاف،مفتی جمیل احمدحاجی سمیت ہزاروں مذہبی سیاسی سماجی افراد نے نماز جنازہ ادا کی ایک سورج تھا جو غروب ہوگیا جس کی ضیاء بارکرنیئں تادم آکر چمکتی رہے گئی،مولانا حسین احمدحسان کے بعد اب ان کے صاحبزادے حافظ عبدالشکور اپنے باپ کی عملی تصویر بن کر اپنے والد کے ادھورے مشن کو مکمل کررہا ہے اللہ مولانا الیاس خان کی عمر میں برکت اور حسین احمدحسان کے درجات بلندفرمائے۔۔

گلستان میں جاکر ہر اک گل کو دیکھا 

نہ تیری سی رنگت نہ تیری سی خوشبو 

 

 


Next News Previous News
By Waqas Ch
30/10/2016 170 views

Leave A Comment