Jaag Kashmir News


Jaagkashmir.com urdu news dadyal mirpur azad kashmir

www.jaagkashmir.com

پاکستان کے دو سیاستدان دو جرنیل

تحریر: قیوم بخاری سہنسہ آزاد کشمیر

0342-5398889

محمدعلی جناح(قائد اعظم) کراچی میں ایک تاجر خاندان میں پیدا ہوئے۔ عام اداروں میں تعلیم حاصل کی اور آخر میں قانون کی اعلیٰ تعلیم انگلستان سے حاصل کر کے وطن واپس لوٹے۔ وہ خالی ہاتھ گئے تھے اور اعلیٰ ڈگری لے کر آئے ۔ کوئی اور ہوتا تو شاید واپس نہ آتا۔ واپس آکر ملکی حالات و واقعات کا بغور جائزہ لیا اور سیاست میں آنے کا فیصلہ کیاوکالت اور سیاست ساتھ ساتھ جاری رکھنے کا مصمم ارادہ عظیم قائد کا منشور ٹھہرا۔

 ایک وقت  آیا کہ کانگریس کو خیرباد کہہ کر مسلم لیگ میںباقاعدہ شمولیت کر کے قوم کو آزادی کے حصول کے لیے منظم کرنا شروع کر دیا۔یہ کوششیںشب و روز پھیلتی اورزور پکڑتی گئیں۔قائد کا پیغام گھر گھر پہنچنے لگا ۔جہاںجہاں محکوم ومظلوم مسلمان آباد تھے وہاں آزادی کا پیغام پہنچایا گیا۔قائد کا ایک ہی نعرہ  تھا لے کے رہیںگے پاکستان ،بن کے رہے گا پاکستان۔اس نعرے نے قوم کو متحدکر دیا۔یہ نعرہ پسے ہوئے پسماندہ محکوم طبقہ کو بیدار کرنے میںچوکیدار ثا بت ہوا ۔لوگ اپنے بنیادی سیاسی حقوق کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔برصغیرپرایسٹ انڈیا کمپنی نے بڑی چالاکی اور ہوشیاری سے قبضہ کر کے یہاں کے حالات کو گھمبیر کیا اورعوام کو محکوم بنا لیا۔ہندوستان کو غلامی کی زنجیروںمیںجکڑاگیا ۔ذ ہنی و جسمانی غلامی سے قوم کو آزاد کرانا آسان نہ تھا لیکن قائد ٰعظم نے اس چیلنج کو صرف قبول کیا بلکہ اس پر اپنی انتھک جدوجہد سے کامیابی حاصل کرکے دنیاکو دیکھا دی ۔بکھرے ہوئے غریب اور محکوم تعلیم یافتہ مسلمانوںکو باشعورو منظم کرنا پہلا محاذتھا ۔اپنی قوم کے علاوہ عظیم قائد کا براہ راست واسطہ دو قوموں سے پڑ رہا تھا ۔ایک طرف انگریز کی سیاسی چالیں اور دوسری طرف ہندو مکا ّر کی سازشیں۔سب محازوں پر عظیم قائد نے بھر پور توجہ دی اور فتح حاصل کی ۔ قائد کا پیغام اتحاد اور تنظیم کا تھا ۔آزادی اور حقوق کا تھا۔اس لیے قوم نے قائد کی آواز پر لبیک کہا ۔اس صورت حا ل کو  دیکھ اور بھانپ کر انگریزوں کے پا ئوںاکھڑنے لگے اور ہندوڈوگروں کی سازشیںڈگمگانے لگیں۔بالآخر  1947ء میں بّرصغیر کی تقسیم عمل میں آئی ۔آزادی کی تحریک کے پیچھے ایک مخلص بے باک نڈر خوددار با حوصلہ اور باکردار قیادت تھی۔ ایسی قیادت شاید قسمت ہی سے ملتی ہے قائد اعظم ایک زندہ ضمیر و کردار کا نام ہے قیادت میں حوصلہ اور قوت فیصلہ بدرجہ اتم موجود تھی مفاد پرستی مصلحت کاری انا پرستی بکنے جُھکنے اور ڈرنے کا وہ دورنہ تھا اور نہ ہی محمد علی جناح  ان خامیوں سے آشناتھے یہ خامیاں بعد کے دور سیاست کی پیداوار ہیں موجودہ سیاست میں خامیاں جزولاینفک بن چکی ہیں جب سیاست میں جھوٹ اور ریاست میں لوٹ کے نظریات پروان چڑھیں تو پھر خیر اور ترقی کی امید رکھنا عبث ہے موجودہ دور ہماری سیاست و ریاست میں اسی طرح کا ہے۔ قیادت مخلص اور محب وطن ہو تو تاریخ میں عزت وقار اور احترام کی حقدار ہوتی ہے۔جھوٹ کرپشن فراڈ سے پاک باکردار فرد ہی قوم کی قیادت کرنے کا اہل ہوتا ہے۔

قائد اعظم محمد علی جناح  ایک سچے کھرے اور مخلص قائد تھے کردار اتنا واضح تھا کہ مکار و عیار مخالفین کو بھی انگلی اٹھانے کی جراء ت نہ ہو سکی ۔موجودہ دور کے منتخب جمہوری نمائندگان اور قائدین پر کون انگلی نہیں اٹھاتا۔ کرپشن آج کا فیشن بن چکا ہے۔ اکثر سیاست دان اس میں لت پت ہیں ۔ قائد اعظم محمد علی جناح بھی ایک سیاست دان تھے وہ اس گنگا میں کیوں نہیں نہائے۔ شایدیہ روایت بعد کی پیداوار ہے قائد کا دور و کردار مثالی تھا آج سیاست ایک سیاسی بیوپار کی شکل اختیار کر چکی ہے لوٹ کھسوٹ میں سبقت نہ لے جانے والا سیاست دان سیاست دان ہی نہیں ہے آج کے سیاستدان کا سیاسی کردار محمد علی جناح کے سیاسی کردار سے بالکل مختلف اور متضاد ہے قوم کو قائد اعظم محمد علی جناح جیسے کردار اور حوصلہ کی ضرورت ہے۔

سیاسی حقوق کی جدوجہد قوم کی تنظیم کرپشن سے پاک کردار حب الوطنی سے سرشار فرد ہی قوم کی قیادت کا حقدار ہوتا ہے سیاستدان کو عزت وقار اور احترام کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ موجودہ دور کے سیاستدان صرف دولت بٹورنے اور مال بنانے میں مصروف نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کونسا فورم باقی ہے جہاں ہماری سیاست اور سیاستدانوں کے تذکرے نہیں ہوتے۔

مسٹر ذوالفقار علی بھٹو قائد اعظم  کے بعد خداداد مملکت پاکستان کو ملنے والے دوسرے سیاستدان ہیں۔ خود سندھ کے بہت بڑے نواب اور جاگیر دار وڈیرے تھے لیکن سوچ جاگیرداروں والی نہیں تھی۔ عام آدمی کی ترقی اور ملک کی خوش حالی منشور تھا۔ مسٹر بھٹو ایوب خان کی وزارت سے نکلے تو عام آدمی کی روٹی کپڑے اور مکان کی فکر لاحق ہوئی مسٹر ذوالفقار علی بھٹو نے سب سے پہلے اپنی ذاتی جاگیریںغرباء مساکین اور بے گھر مستحق افراد میں تقسیم کیں پھر مسٹر بھٹو کا ہاتھ بڑ ے بڑے جاگیرداروں کی جائیدادوںتک جا پہنچا۔ ان سے جائیدادیں لے کر بے گھر افراد کو مالکانہ حقوق کے ساتھ حوالے کیں۔بھٹوصاحب کے ان اقدام اور سلوک و رویّہ سے جاگیرداروں کے ذہنوں میں بھٹو مخالف جراثیم نے جنم لینا شروع کر دیا۔ بھٹو نے کسی کی مخالفت کی ذرا پروا نہ کی اور اپنے پروگرام کو جاری رکھا۔ نتیجتاً وڈیروں کی زمینیں ان کے ہاتھ سے نکل کر مستحقین کے ہاتھوں میں آگئیں۔ بھٹو نے غریب پروری کا یہ منشور جاری رکھا عام آدمی کو اس کے حقوق سے آگاہ کیا اور اس میں اتنا شعور بیدار کر دیا کہ وہ غریب اور محکوم شخص اپنے حقوق کے حصول کے لیے آواز بن گیا بقول اقبال

لڑا دوممولے کو شہباز سے ، پر عمل ہونے لگا۔ یہ درست ہے کہ بھٹو کے دور حکومت میں عام آدمی کو جینے رہنے سہنے اور بولنے کی زبان ملی پسے ہوئے محکوم انسانوں کو سیاسی حقوق کے حصول کی روح ڈال کر متحرک کر دیا گیا۔غصب شدہ حقوق کے حصول کی جدو جہدکا طریقہ آ گیا۔ بھٹو کا سب سے بڑا کارنامہ 1973ء کا متفقہ آئین ہے یہ جمہوری بھی ہے اور اسلامی بھی۔ افسوس یہ ہے کہ بھٹو کے بعد آنیوالی حکومتوں نے آئین کو تہس نہس کر کے رکھ دیا۔ بھٹو کے دور میں بین الاقوامی خصوصاً اسلامی ممالک سے روابط بڑھے۔ اسلامی سربراہان کانفرنس لاہور میں بھٹونے ان اسلامی ممالک کو افرادی قوت فراہم کرنے کا عندیہ دیا ۔ لاہور کی سربراہ کانفرنس منعقد کرانے کا سہرا مسٹر بھٹو کے سر ہے اس کے نتیجہ میں پاکستان کے بہت سے ہنر و غیر ہنر مند افراد عرب کے مختلف ممالک میں گئے اور پیسہ پاکستان کھینچ لائے۔ ملکی معیشت بہتر ہوئی۔ بھٹو ہی تھے جنہوں نے 1971ء میں پچانوے ہزار پاکستانی فوجی قیدیوں کو معاہدہ شملہ کے تحت انڈیا سے آزاد کروا کر پاکستان لایا۔

مسٹر ذوالفقار علی بھٹونے اپنے ایٹمی پروگرام کو جاری رکھااور کسی بیرونی ملک کا دباؤ قطعاً قبول نہ کیاسائنسدانوں کی حوصلہ افزائی کی اور دنیا کو یہ واضح پیغام دیا کہ بے شک گھاس کھانی پڑے ہم ایٹم بم ضرور بنائیں گے۔ بھٹو کے اس اعلان سے قوم کی جان میں جان آگئی۔ اتحاد بڑھا قوم یک جان و زبان ہوگئی پاکستان ایٹمی ملک بن گیا۔مسلم امّہ کی یک جہتی اور بھٹو کی قومیانے کی پالیسی وڈیروں کی مخالفت 1977ء الیکشن میں اپوزیشن کی طرف سے دھاندلی کا الزام نواب محمد احمد خان کا قتل یہ سارا طوفان ملبے کی شکل میں بھٹو کے سر تھونپا گیا جس کے نتیجہ میں جنرل ضیاء الحق کو ملک میں مارشل لاء لگانے کی جوازیت مل گئی۔وقت کی نزاکت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مسٹر بھٹو کو قید کر لیا گیا اور نواب محمد احمد خان کے قتل میں مسٹر بھٹو کو1979ء میں پھانسی دے کر اپنے مارشل لاء کے اقتدار کو طول دینے میں اپنی عافیت سمجھی۔ 

یہ سچ ہے کہ مسٹر بھٹو کی رہائی میں ضیاء الحق کی موت پوشیدہ تھی۔عام آدمی آج بھی بھٹو کی پھانسی کو عدالتی قتل ہی سمجھتا ہے۔ جو ہوا سو ہوا بہر حال مسٹر بھٹو کو پھانسی دے کر نہ صرف پاکستان بلکہ عالم اسلام کو ایک عظیم لیڈر سے محروم کر دیا گیابھٹو کے اندر ایک قومی اور اسلامی ترقی کا ایک بڑا ویژن تھااس ویژن کو پروان چڑھانے کا خاطر خواہ موقع نہ مل سکابھٹو کی پھانسی پر اسلامی دنیا میں رنج و الم کا اظہار ہوا جبکہ مخالفین اور مخالف مغربی ممالک میں خوشی کے شادیانے بجائے گئے۔ بھٹو جیسے قابل لیڈر کی موت قوم کی موت تھی جسے آج تک لوگ یاد کرکے سر دھنتے ہیں اس کی موت کے بعد مملکت خداد ادسے امن و سکون روٹھ گیا۔ حالات روزبروز بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیںاللہ ملک کی خیر فرمائے(آمین)

فیلڈ مارشل محمد ایوب خان پاکستانی افواج کے ایک عظیم دلیر بے باک سپہ سالار تھے گو کہ وہ مارشل لاء کے ذریعے اقتدار میں آئے تھے اور یہ قوم کی آزادی کے لیے دی گئی قربانیوں کے بالکل متضاد روٹ تھا۔قوم نے تو آزادی کے لیے بے شمار قربانیاں دے کر یہ منزل حاصل کی تھی۔ ناقابل بیان مصائب اور تکالیف کا سامنا کیا تھا اور یک لخت قوم پر مارشل لاء کا تسلط قائم ہو جانا ایک غیر جمہوری سی بات تھی لیکن ایوب خان نے آتے ہی چند اقدامات ایسے اٹھائے جن کی بدولت قومی و ملکی سطح پر خاطر خواہ بہتری آئی۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اس میں پانی کی بہتات ہے۔ فیلڈ مارشل نے زراعت کی طرف خاص دھیان دیتے ہوئے زرعی اصلاحات لانے کا فیصلہ کیا اور تھوڑے عرصہ میں عملی طورپراصلاحات لا دکھائیں۔ چنانچہ زمینداروں کا زراعت کی طرف رحجان بڑھا۔ ملک میں زرعی اجناس اگانے اور کاشتکاری کی حوصلہ افزائی ہوئی۔ ملک خاصی حد تک زرعی لحاظ سے خوش حال اور خود کفیل ہو گیا۔

دوسرا بڑا کارنامہ1962ء کا آئین ہے جس میں بنیادی جمہوریت کو متعارف کرایا گیا۔ بلدیاتی نظام کے نفاذ سے اختیارات نچلی سطح پہنچ پاتے ہیں اور ملک ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو جاتا ہے۔ بنیادی جمہوریت ملک کی ترقی کی بنیادی جڑ ہے۔ اس امر سے کوئی انکار نہیں کر سکتابلدیاتی نظام سے روگردانی اور سستی  نے ملک کو شدید نقصان پہنچایاہے۔ فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے دیئے گئے بلدیاتی نظام پر عمل درآمد نہ ہونے سے آج ملک میں طرح طرح کے سیاسی بحران جنم لے چکے ہیں۔1965ء کی جنگ کی فتح کا سہرابلاشبہ فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے سر ہے۔ یہ الفاظ تاریخ کا ایک حصہ ہیں کہ آج دشمن کو پتہ چل جائے گاکہ "اس نے کس قوم کو للکارا ہے"ایوب خان نے ریڈیو پر قوم سے ایک تاریخی خطاب کر کے قوم میں اتحاد اور ایسا جذبہ پیدا کر دیا کہ پوری قوم اپنی بہادر فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہو گئی اور قوم کے اس اتحاد و جذبہ سے دشمن کو عبرت ناک شکست ہوئی۔

قوم نے عظیم جرنیل کی قیادت میں یک جان و زبان ہو کر ہندوستان کو ایسا دندان شکن جواب دیا جو نسلوں تک دشمن کو یاد رہے گا۔اس دور میں منگائی پر کنٹرول کرنے اور اشیاء کے نرخوں میں توازن رکھنے کے لیے پرائس کنٹرول کمیٹیاں بنائی گئیں۔ مقامی نمائندوں کو اشیاء کے نرخوں پر گہری نظر رکھنے کی تاکید کی گئی ۔ان ہدایات و احکامات پر سختی سے عملدرآمد ہوااور فیلڈ مارشل کے دس سالہ دور حکومت میں بڑے بڑے کاروباری لوگ اوراسمگلرز خوفزدہ رہے کہ کہیں پکڑے نہ جائیں ۔آج ملک میں منگائی کا ایسا طوفان برپا ہے کہ غریب کا جینا محال ہے۔دو وقت کی روٹی نا ممکن ہے۔ملک کی کل آبادی کا ایک بڑا حصہ آج بھی رات کو بھوک کا سامناکر رہا ہے ۔ کاروباری حضرات اور اسمگلرز اپنی مرضی سے سب کچھ کر رہے ہیں۔زخیرہ اندوزی سے کئی گنا زیادہ منافع کمایاجارہا ۔ پرائس کنٹرول کمیٹیاں آج بھی موجود ہیں لیکن کارکردگی کہیں نظر نہیں آتی ۔لوٹ کھسوٹ ملاوٹ اور جعلی اشیاء وادویات کی روک تھام کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے فوجی سربراہ ہوتے ہوئے ملک کا دارالخلافہ کراچی سے اسلام آباد منتقل کیا ۔یہ بہت بڑا کارنامہ ہے۔قوم کو متحد کرنے ملک کو خوشحال بنانے کے اقدامات دور ایوب میں ہوئے۔ ایوب خان باعزت  طور پر اپنی سروس سے ریٹائر ہوئے اورعوام کی خدمت سے سبکدوش ہوئے ۔لوگ آج بھی اس فوجی حکمران کو اچھے لفظوں میں یاد کرتے ہیں اور کہتے ہیں تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد اور واقعی وہ ان الفاظ کے حقدار بھی ٹھہرتے ہیں ۔

ایوب خان کے بعد بہت سے جرنیل یکے بعد دیگرے آئے مگر حالیہ ریٹائر ہونے والے جنرل محمد راحیل شریف کا نام کام اور مقام الگ اور ممتاز ہے۔ جنرل محمد راحیل شریف کوانتہائی نامساعد حالات میں فوج کی کمان سنبھالنا پڑی ۔ اندرونی حالات دہشت گردی قتل و غارت بھتہ خوری ٹارگٹ کلنگ اغوا برائے تاوان دھماکے لوٹ کھسوٹ افراتفری والے تھے اور بیرونی سطح پر ازلی دشمن بھارت کی سازشیں بارڈرز کی صورت حال اور دنیا بھر میں پاکستان کا گرا ہوا سیاسی امیج مزید الجھن کا شکار بناہواتھا۔جنرل محمد راحیل شریف نے سپہ سالار مقرر ہونے کے فوری بعد ان تمام اندرونی حالات اور سازشوں کا جائزہ لیا اور کور کمانڈر کی مشاورت سے مضبوط منصوبہ بندی کر کے تدراکی اقدامات شروع کر دئیے۔ضرب عضب دہشت گردوں کے لیے پیغام موت ثابت ہوا۔نامساعد اور ناموافق حالات کے باوجود آرمی چیف نے اس مشن کو اپنایا ۔ شہادتیں دیں ۔نیشنل ایکشن پلان پر آرمی کی طرف سے کوئی کو تاہی دیکھنے میں نہیں آئی ۔ ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان کے باقی حصے بھی آرمی کے نقطہء نظر سے انتہائی اہمیت کے حامل تھے۔ان پر کما حقہ عملدرآمد کرنے کی ضرورت تھی ۔ مگر حکومت اور حکومتی اداروں کی طرف سے آرمی کو شاید وہ تعاون نہ ملا جو ملنا چاہیے تھایا جن کی انہیں توقع اور امید تھی۔بعض دینی و سیاسی جماعتیں اور بعض سیاست دان ان پر عملدرآمد میں درپردہ رکاوٹ بنے۔ یہ حقیقت اپنی جگہ اٹل اور ناقابل تردید ہے کہ قیام پاکستان سے لے کر کبھی اتنا موثر آہنی ہاتھ نہیںڈالا گیا جو جنرل راحیل شریف کے دور میں ہوا۔ ہزاروں کے حساب سے دہشت گرد تخریب کار اور ملک دشمن عناصر کا صفایا ہوا۔پاکستان آرمی کے جوانوں اور آفیسرز نے بڑی قربانیاں دیں جنرل صاحب ہر پوسٹ پر فوجیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے پہنچتے رہے تا کہ فوجی جوانوں کا حوصلہ اور مورال بلند رہے۔ پہلی بار فوج کو محسوس ہوا کہ ان کا کوئی سربراہ موجو د ہے۔ جوفوری طورپر خطرات بھرے علاقوں اور حالات میں ان کے پاس حوصلہ افزائی کے لیے بے دھڑک پہنچ جاتا ہے۔ فوجی جوان اور آفیسرز اگلے پر خطر مورچوں اور علاقوںمیں یوں محسوس کرتے تھے کہ جنرل صاحب ان کی پشت پر کھڑے ہیں اور ان کی کارکر دگی کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ جنرل صاحب کا یہ خلوص بھراجذبہ اور پیشہ ورانہ "عشق"لائق صد تحسین ہے۔جنرل صاحب کے اس جذبہ کو دل کی گہرائیوں سے پوری قوم سلام پیش کرتی ہے کہ آپ نے اپنی جان اور آرام کی پروا کیے بغیر ہر فوجی مورچے اور محاز پر بے خوف خطر بہ نفس نفیس حاضر ہو کر اپنے جوانوں کے حوصلوں کو تازہ خون فراہم کیااور ایک عظیم روایت قائم کی۔

سی پیک ایک بین الاقوامی ترقی کامنصوبہ ہے ۔ جسکی مخالفت ہمارے ازلی دشمنوں کا ایجنڈا تھا جو پاکستان کو ترقی کرتے نہیں دیکھ سکتے ۔ کمزور پاکستان ان کے مفاد میں ہے۔ حقیقت ہے کہ اگر جنرل محمد راحیل شریف صاحب اس منصوبہ میں گہری دلچسپی نہ لیتے اور اس پر کمر بستہ نہ ہوتے تو یہ عظیم ترقی کا منصوبہ دیگر منصوبوں کی طرح منصوبہ ہی رہتا ۔ سی پیک منصوبہ جہاں ملحقہ ریاستو ں کے علاوہ بین اقوامی سطح کے لیے کارآمد ہے وہاں پاکستان کو اس منصوبہ کی تکمیل سے سب سے زیادہ فوائد حاصل ہوناہیں سب رکاوٹوں اور مشکلات کا مردانہ وار مقابلہ صرف جنرل محمد راحیل شریف صاحب نے کیا اور اس عظیم قومی منصوبے پر عملدرامد کروانے کے لیے اپنا بھر پور کردار ادا کیا ۔ سیاسی حکومتیں کمزور ہونے کے ساتھ بیرونی دبائو کے آگے ڈھیر ہو جاتی ہیں ۔سی پیک منصوبہ پر عملدآمدسے پاکستان حقیقی معنوں میں ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو گیا ہے۔ قوم کوجنرل صاحب کا شکریہ ادا کرنا چاہیے ۔ بین الاقوامی روابط قائم کرنے میں پاکستان کے کسی جنرل نے اتنے دورے نہیں کیے اور نہ ہی اتنی کوشیش کیں جتنی راحیل شریف نے کیں ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ سیاسی قیادت کے فرائض بھی جنرل صاحب نے ادا کیے ۔ وقت  کی نزاکت کے مطابق تمام  ممالک کے دورے کر کے پاکستان کی ساکھ کو بحال،مضبوط  اور فعال رکھنے کے لیے بھرپور کردار کیا کراچی کا امن انہی کی 

مر ہو ن منت ہے  ملک کے دیگر حصوںا ور علا قو ں میں بھی امن بحال ہوا  ۔ ضرب عضب کے خاطرخواہ نتائج برآمد ہوئے ۔ دہشت گردوں اور ٹارگٹ کلرز کی سزائے اموات میں تیزی آئی ورنہ برسوں سے دہشت گردوں کی سزائے  اموات پر عملدرآمد سیاسی مصلحتوں کا شکار  تھا ۔ جنرل صاحب نے التواء میں پڑے ہوئے کیسون پر تیزی سے عملدآمد کروایا جس سے دہشت گردی کی حوصلہ شکنی ہوئی ۔

یہ حقیقت ہے کہ قیام پاکستان سے لے کر کسی دور میں بھی فوج کا اندرونی احتساب کبھی نہیں ہوا۔ جنرل محمد راحیل شریف کو یہ کریڈٹ بھی جاتا ہے۔ کہ اس عظیم سپہ سالار نے پہلی بار فوج کے حاضر سروس آفیسرز کے خلاف کرپشن کی انکوائری کروائی ۔ جرم ثابت ہونے پر سروس سے بدوں پنشن اور مراعات  سبکدوش کیا ۔ فوج جیسے طاقتور ادارے کا عملی احتساب کر دکھایا۔ جنرل صاحب کو حکومت وقت نے مختلف عہدوں سروس میں توسیع و دیگر مراعات کی پیشکش کی اور اپنے سیاسی انداز میں فتح کرنے کی کوشیش کیں مگر پیشہ ور سپہ سالار نے کسی لالچ میں آئے بغیر اپنے مقرر وقت پر اپنے اعلان کے مطابق ریٹائرمنٹ لے لی ۔ انہوں نے باعزت ریٹائرمنٹ لی ۔ اپنی سروس شاندار اور یادگار انداز میں سر انجام دی ۔ حکومت نے جنرل صاحب کی ریٹائرمنٹ پر وقار اور شایان شان تقاریب کا انقعاد کیا اور ان کی کامیابیوں پرانہیں مبارک باد دی ۔ یہ اچھی روایت ہے کہ جانے والے کو باعزت طورپر الودع کہا جائے اور ان کی خدمت کا اعتراف کیا جائے ۔یہ بڑے اعزاز اور فخر کی بات ہے ۔ کہ جنرل صاحب نے اپنے فرائض  منصبی نہایت دیانت داری اور خوداری سے انجام دیئے۔جنرل راحیل شریف صاحب کا تعلق ایک فوجی خاندان سے ہے۔اس خاندان کے اکثر فوجی آفسیر ہیں جو مختلف جنگوں میں رتبہ شہادت بھی حاصل کر چکے ہیں ۔جنر ل ریٹائر محمد راحیل شریف صاحب نے اپنی ریٹائر منٹ پر یہ اعلان فرمایا کہ وہ آئندہ شہداء کے ورثا کے لیے ایک بڑا ٹرسٹ قائم کرنا چاہتے ہیں ۔ اللہ کرے وہ ایسا ہی کر سکیں ۔ جنرل صاحب کی فو جی وقومی خدمات پر پوری قوم انہیں خراج تحسین پیش کرتی ہے اور سلام پیش کرتی ہے ۔ہماری دعا ہے کہ بعد میں آنے والے پاکستان آرمی کے جرنیل ان جیسے باہمت اور قومی جذبہ سے سرشار ہوں ۔بالآخر اسلامی ممالک نے جنرل راحیل شریف کو مشترکہ افواج کا سربراہ مقرر کر لیا۔ اللہ تعالیٰ جنرل صاحب کو دراز عمر صحت وسلامتی عطافرمائے۔ویلڈن جنرل صاحب آپ کو لاکھوں سلام ۔ آپ کے یاد گار کارناموں کو لاکھوں سلام آپ کی عظمت کو سلام پوری قوم کی طرف سے لاکھو ں سلام (آمین)

 


Next News Previous News
By Waqas Ch
07/01/2017 47 views

Leave A Comment