Jaag Kashmir News


Jaagkashmir.com urdu news dadyal mirpur azad kashmir

نو منتخب وزیراعظم آزاد کشمیرفاروق حیدر اور عوامی توقعات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر۔ناصر عزیز چوہدری (جاگ کشمیر نیوز) 

Email.nasiraziz678@gmail.com

ریاست جموں و کشمیر ایک ا یسا خطہ ہے جسے ہم آزاد کشمیر کہتے ہیں ریاست کا حدوداربعہ تقریباََ 84ہزار مربع میل ہے جس میں سے صرف 4ہزار مربع میل بھارت سے آزاد پاکستان کی زیرنگرانی ہے ۔مقبوضہ کشمیر کی طرح آزاد ریاست کے اہم فیصلے بھی پاکستان میں ہو تے ہیں جو آزاد کشمیر میں بر سر اقتدار حکومت کو من و عن تسلیم کر نا پڑتے ہیں بھارت نے بھی مقبوضہ کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کیے رکھا ہے 8 لاکھ سے زا ئد بھارتی فوجی تعینات مقبوضہ کشمیر میں بھی بھارت کی مرضی سے حکومت وجود میں آتی ہے لیکن آزاد کشمیر کے حالیہ الیکشن میں وفاق میں ن لیگ کی حکومت ہو نے کی وجہ سے کشمیر میں بھی کلین سویپ کرکے 32سیٹیں حاصل کر لی ہیں مخصوص نشستوں کو ملا کر تقریباََ 39سیٹیں بنالی ہیں جس کے نومنتخب وزیراعظم راجا  فاروق حیدر ہیں جو ماضی میں مختلف ادوار میں بحثیت  وزیراعظم ،وزیر ،اور حال ہی میں اپوزیشن لیڈر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں آزاد کشمیر وزارت ِ عظمیٰ کے امیدواروں کی لمبی قطار تھی لیکن قسمت کی دیوی صدر جماعت راجہ فاروق حید ر پر مہربان ہو ئی اوربھاری اکثریت سے وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہو گئے حالیہ الیکشن میں حیران کن نتائج پوری دنیا میں موضوع بحث بنے رہے بھارتی چینلز پر بھی ہمارے الیکشن کے نتائج کا خوب چرچا کیا گیا خالد ابراہیم کے احتجا ج کو بھی اپنے چیبلز پر نشر کرتے ہو ئے یہ میسج دیا کہ مقبوضہ کشمیر میں اگر بھارت قابض ہے تو آزاد کشمیر میں بھی پاکستان کی مرضی سے فیصلے ہو تے ہیں موجودہ وزیراعظم نے وزارت کا قلمدان سنبھالتے ہی اہم اعلان بلدیا تی الیکشن کے انعقاد کا کیا ہے گڈگورننس میرٹ کی بالادستی کشمیریوں کے جا ئز حقوق کیلئے جدوجہد کریں گے لیکن جب فیصلے وفاقی حکومت کے نما ئندوں جانب سے لفافوں میں بند ہو کر وزیراعظم کے میز پر پہنچیں تو وزیراعظم کے اپنے فیصلوں کی اہمیت بالکل ختم ہو جا تی ہے اور وفاق کے فیصلے پر ہرحال میں لبیک کہنا پڑتا ہے ،2011میں پیپلزپارٹی کیی مرکزمیں حکومت کی وجہ سے آزاد کشمیر میں دوتہائی اکثریت حاصل کرکے حکومت بنا لی پورے پانچ سال وزیراعظم چوہدری عبدالمجید اور وزراء میرٹ کا دنڈورا پیٹتے رہے کشمیر کی تعمیر و ترقی کے بلند وبانگ دعوے کرتے رہے لیکن بدقسمتی سے ان کو عملی جامعہ پہنانے کی توفیق نہ ہو سکی حالیہ الیکشن میں عوام نے ووٹ کی پرچی سے پیپلزپارٹی کو مستردکردیا برسراقتدار رہنے والی جماعت تین سیٹوں پر آگئی ۔گزشتہ حکومت میں راجہ فاروق حیدر اپوزیشن لیڈر کا کردار ادا کر چکے ہیں اور حکومت کی کا گزاریوں سے بخوبی شناسائی رکھتے ہیں آنے والے دنوں میں وزیراعظم کو یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ موجودہ اور گزشتہ حکومت میں واضح فرق کیا ہے موجودہ حکومت میں وزارت عظمیٰ فاروق حیدر کیلئے کسی بڑے امتحان سے کم نہیں موصوف فرینڈلی اپوزیشن بھی اسمبلی میں لا چکے ہیں پیپلزپارٹی کو ووٹ اور سپورٹ کے ذریعے چوہدری یٰسین کو اپوزیشن لیڈر منتخب کروایا لیکن اپنے ہی ممبران اسمبلی ان سے سخت نالاں اور انگشت بدنداں ہیںفاروق حیدرنے بیگانوں کو اپنا ہم سفر بنا کر ان کے منہ پر پانچ سال کیلئے مہر لگا دی لیکن اپنوں کی سازش کا خطرہ پورے سال سر پر منڈلاتا رہے گا چونکہ میاں صاحب اور وفاقی وزراء کی ہدایت پر کابینہ تو مختصر کی گئی لیکن اس فیصلہ میں بے شمار سینئر پارلیمنٹیرین کابینہ میں شامل نہ ہوسکے بعض ممبران مختلف عہدوں اور مشاورت کی آفر کی گئی لیکن کو ئی بھی اس وقت تک وزار ت سے کم عہدے پر راضی ہو نے کیلئے تیار نہیں یہ بھی پیشن گوئی کی جاتی ہے اگر طویل مدت تک سینئر لوگ کابینہ میں شامل نہ ہو ئے تو بغاوت کا خدشہ بھی ہو سکتا ہے گزرت دنوں کے ساتھ راجہ فاروق حیدر کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے بلدیاتی الیکشن پر عملدرآمد ،ان کے فنڈز مختص اور فراہمی گزشتہ حکومت کے منظور شدہ منصوبوں کی تکمیل تک نئے پروجیکٹس کے اعلانات اور عملدرآمد انتہائی مشکل مرحلہ ہے ۔اگرچہ راجہ فاروق حیدر کو وزارت عظمیٰ ملنے پر ہر کشمیری اور ان کے دشمن بھی ان کی شخصیت اور محب وطن ہو نے پر فخر محسوس کرتے ہیں اور ان کیلئے دعا گو ہیں ۔موجودہ صورتحا ل میں آزاد کشمیر مسائلستان بنا ہوا ہے گزشتہ حکومت سے کشمیری سخت نالاں ہیں اور نو منتخب وزیراعظم پر توقعات لگا ئے بیٹھے ہیں کہ وہ کشمیریوں کی بھر پور نما ئندگی کریں گے کشمیریوں کو جا ئز حقوق دلوانے کیلئے کردار ادا کریں گے میرٹ کی بالادستی ،بحالی کو ممکن بنا ئیں گے آزاد کشمیر میں سب سے بڑے بحران سڑکوں کی خستہ حالی ،محکمہ صحت میں ملازمیں کی عدم توجہی اور سرکاری تعلیمی اداروں کے غیر تسلی بخش نتائج ہمارے لیے لمحہ فکریہ بنے ہو ئے ہیں امید کی جا تی ہے کہ نو منتخب وزیراعظم گزشتہ حکومت کی کا ر گزریوں سے سبق حاصل کرکے عوامی امنگوں کی ترجمانی کرتے ہو ئے ان کی امیدوں پر پورا اترنے کی کوشش کریں گے آزاد کشمیر حقیقی معنوں میں ماڈل اسٹیٹ بنا نے اور کرپشن سے آزاد نئی ریاست جیسے نظام کو متعارف کروائیں گے  عوامی مسائل کے حل کیلئے اپنے دروازے ہمیشہ کھلے رکھیں گے ۔ہماری نیک خواہشات اور ڈھیر ساری دعائیں وزیراعظم فاروق حیدر کے ہر ساتھ رہیں گی۔

 


Next News Previous News
By Waqas Ch
26/08/2016 170 views

Leave A Comment