Jaag Kashmir online news from Dadyal, Dudyal, Mirpur and Azad Kashmir
Jaag Kashmir online news from Dadyal, Dudyal, Mirpur and Azad Kashmir Sat, 25 Feb 2017

فون پر صرف uc browser میں کھولیں

Use UC Browser to open on mobile.

News from Dadyal, Mirpur and all Azad Kashmirآٹھویں سالانہ ختم شریف پرخافظ محمد صدیقی ساقی کی خصوصی تحریر

وقاص چوہدری نے یہ خبر 2016-10-04 کو pm01:16 پرcol کی کیٹیگری میں پوسٹ کی اور ابھی تک اس کو 83 قارئین نے پڑھا ہے۔
 

Jaagkashmir.com urdu news dadyal mirpur azad kashmir

 (جاگ کشمیر نیوز )                                   

 مینارہ نور قبلہ حضرت صاحب رحمتہ اللہ علیہ

                             آٹھویںسالانہ ختم شریف پر حافظ محمد صدیق ساقی کی خصوصی تحریر

وہ  زمانہ کتنا  مبارک تھا جب ہمیںاپنے مرشدو مربی شیخ الشیوخ حضور خواجہ عالم قاضی محمد صادق صدیقی

 نقشبندی المعروف قبلہ حضرت صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی صحبت کے مبارک لمحات میسر تھے آپ  کی نورانی مجالس دن میں کم و بیش تین مرتبہ ہوتیں صبح نو بجے تا قیلولہ بعد از نماز ظہر تا اذان عصر اور کبھی عشاء کے بعد تا دیریہ حلقہ قائم رہتا یہ محافل بڑی برکات و خصوصیات کی حامل ہوتیں جن کا احاطہ کرنا مشکل ہے چند ایک کا یہاں ذکر کیا جاتا ہے اس مجلس میں مختلف طبقات کے لوگ حاضر ہوتے جن میں علمائ، شیوخ ،طلبائ،عامی و ان پڑھ سبھی شامل ہیں اور اپنے ظرف کے مطابق اس علم و عرفان کے بحربیکراں سے سیراب ہوتے ہیں ۔ 

آپ کی گفتگو سونے کی ڈلیاں اور پھولوں کی کلیاں مختصر اور سادہ ہوتی گفتگو دلوں پر اثر کرتی مردہ دل زندہ

اور ویران،یاد باری تعالی سے آباد و شاد ہوجاتے آپ کی مجلس میں عقائد ،اعمال اور اخلاق کی اصلاح ہوتی تقویٰ ،محبت ،عجز و تواضع،ایثار اور توکل کا سبق ملتا ،آپ رحمتہ اللہ علیہ ایک عظیم مصلح امت اور بلند پایہ شخصیت ساز تھے ، شاہ و گدا،بلافرق وامتیاز  آپ کی صحبت سے فیض یاب ہوتے ،حاضرین کے دل دنیا سے سرد اور آخرت کی طرف متوجہ ہوجاتے ،طمانیت قلب محسوس کرتے اور دنیا کے غم بھول جاتے ۔یہ  مبارک حلقہ غیبت جیسے شنیع امور سے پاک ہوتا ۔ہر ایک کو اپنی اصلاح کا سبق ملتاایک مرتبہ آپ کی مجلس میں حاضر ہونے والے میں ایسی کشش پیدا ہوتی کہ بار بار حاضری کی تمناہوتی ۔خواجہ عالم حضرت قاضی محمد صادق صدیقی نقشبندی المعروف قبلہ حضرت صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے وجود مسعود میں اللہ تعالیٰ نے یہ تاثیر رکھی تھی کہ جو شخص چند بار عقیدت کے ساتھ آپ کی مجلس میں بیٹھا اور آپ کی گفتگو سنی بے نمازی تھا تو نمازی بن گیا اور اگر نمازی تھا تو عموماََاشراق ،اوابین اور تہجد کا عادی  بن گیا آپ کی مجلس میں بیٹھنے سے لوگو ں کی غیر محسوس انداز میں  اصلاح ہوجایا کرتی تھی گوکہ آج خواجہ عالم حضرت قاضی محمد صادق صدیقی نقشبندی المعروف قبلہ حضرت صاحب  رحمتہ اللہ علیہ ہم میں ظاہری اعتبار سے موجودنہیں ہیں لیکن آپ رحمتہ اللہ علیہ کے ارشادات ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں اس مضمون میں آپ  رحمتہ اللہ علیہ کے ارشادات کا ایک خوبصورت  اور مہکتا ہوا گلدستہ قارئین کرام اور سنگیان طریقت کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے ۔(1)اخلاص کے ساتھ عمل اگر تھوڑابھی ہو پہاڑں جیسا ہوتا ہے اور بغیر اخلاص کے اعمال اگر پہاڑوں کے برابر ہوں لکڑیوں کے ڈھیر کی مانند ہیں جن کو آگ آناََ فاَناََجلا کر خاکستر بنا دیتی ہے زندگی کا مقصود خوش حالی پر اترانا اور بد حالی کو بدنصیبی پرمحمول کرنا نہیں ہے بلکہ زندگی ہرحال میں ایک امتحان ہے جو زندگی کی حقیقت کو پالیتے ہیں وہ زندگی کے مصائب و آلام میںمایوس نہیں ہوتے ان کا جسم دنیوی امور میں مصروف ہوتا ہے مگر ان کا قلب متوجہ الی اللہ  ہوتاہے زندگی کے گوہرمقصود کو پانا چاہئیں تو شریعت مطہرہ کی پیروی کو اپنا شعار بنالیں متقدمین اہل سنت کی کتابوں سے درست عقائد کومعلوم کر کے ان کو اپنائیں۔

                               (2)  

 ہم درویش ہیں ہماری نگاہ ہر آن اللہ تعالی پر ہے وہی کارساز حقیقی ہے جو اس کشتی کو بطریق احسن چلا رہاہے اس ذات سے توجہ ہٹانا اور ماسوٰی کی خوشنودی کے پیچھے پڑنا ہم درویشوں کو زیب نہیں دیتا  ۔

                                    (3)

 کسی اللہ تعالیٰ کے ولی کے آخری لمحات تھے ،بیٹے نے ان کی حالت کو دیکھا تو رونے لگا ۔ اس بزرگ نے اسے روتے ہوئے دیکھا تو فرمایا بیٹا روتے کیوں ہو؟ میں اپنے ہمراہ کچھ لے کر نہیں جا رہا  یہ تسبیح ،لوٹا اور مصلیٰ ہے انہیں سنبھال لویہی کچھ میرے پاس تھے اللہ تعالیٰ بہتر کرے گا  ۔ 

                              (4)

 ہم اللہ تعالیٰ کے عاجز بندے ہیں ہم صرف بزرگوں کے تجربات اور ان کی تعلیمات جو ہم تک پہنچیں آپ لوگو ں تک پہنچاتے ہیں اس سے زیادہ تصرف کا دعویٰ نہیں ۔ہم بھی اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں اس کے دوستوں کو بطور وسیلہ استعمال کرتے ہیں اس مالک حقیقی کی رحمت کے ہر آن امید وار ہیں ۔کیوں کہ اس کی رحمت ہر چیز پر محیط ہے ۔

                          (5)

 شیطان پر اپیگنڈہ کا امام ہے وہ کوئی لمحہ فارغ نہیں بیٹھتا ہر آن و سوسہ اندازی میں مصروف رہتا ہے ۔ گناہوں اور نا فرمانیوں کو خو ش نما  اور خوش رنگ کر کے پیش کرتا ہے اس کا کام انسان کو گناہ کرنے کا شوق دلانا اور اس کی طرف راغب کرنا ہے عاقبت نا اندیش انسان لپک لپک کر اس کی اتباع کرتے ہیں گناہوں کی آلودگیوں میں آلودہ ہوتے جاتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و احسان سے ہمیں اس سے بچنے کے لیے شریعت مطہرہ کا مضبوط حصار عطا فرما رکھا ہے اس حصار میں رہ کر اس کی حفاظت اور مضبوطی ہم پر لازم ہے اگر انسان اس حصار کی مضبوطی کی فکر کرتا رہے تو شیطان اس کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا ۔

                           (6)

 لوگ دنیوی جاہ و حشمت اور اقتدار کے حصول کے لیے بڑی تگ و دو کرتے ہیں کوئی ایم ۔این ۔اے۔ بننا چاہتا ہے کوئی  ایم ۔ پی ۔ اے۔ بننا چاہتا ہے ایسے لوگ غور نہیں کرتے کے دنیوی اقتدار محض عارضی ہے لوگ آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں دنیوی اقتدار کسی کا ساتھ نہیں دیتا۔  دنیا فانی ہے اس کے حصول کی کوشش کرنے والے بھی فنا کی گھاٹ اتر جاتے ہیں جب کہ اللہ تعالیٰ باقی ہے اس کی رضا اور خوشنودی کے کام کرنے والے بھی باقی رہتے ہیں حادثات زمانہ ان کے ناموں اور ان کی عظمت کو نہیں مٹا سکتے ۔ 

      

                                  (7)

 بزرگان دین کے عرس کی تقریبات ان کی تعلیمات کو عام کرنے کا ذریعہ ہیں یہی ان تقاریب کی روح ہے ان مواقع پر حاضرین کے سامنے ان بزرگوں کی تعلیمات کو پیش کرنا چاہیے غیر شر عی امور سے ان کو آگاہ کر کے روکا جائے اب تو یہ تقریبات ایک رسم بن کر رہ گئی ہیں جو روح سے خالی ہیں ۔بلکہ ان میں لوگوں کی دلچسپی کا لحاظ رکھا جا تا ہے لوگوں کی کشش کے زیادہ سے زیادہ اسباب مہیا کیے جا تے ہیں ۔ہم اس کو خالص مذہبی تقریب سمجھتے ہیں لوگوں کی اصلاح کے لیے اسے منعقد کرتے ہیں ۔تاکہ ان کے ایمان و ایقان میں تازگی پیدا ہو اور ان کی توجہ اللہ تعالیٰ کی جانب ہو جائے 

                                     (8)

لوگ تلاش معاش میں بیرون ملک جانے کی کوشش کرتے ہیں یہ رجحان ایک وبا کی شکل اختیار کرچکا ہے لوگ اس کے لیے جعلی اسناد بینک اسٹیٹمنٹ پاسپورٹ وغیرہ کے حصول کے لیے ہر حیلہ بہانہ بروئے کار لاتے ہیں ۔یہ سب حیلے بہانے ایمان کی کمزوری کا نتیجہ ہیں ۔اللہ تعالی کی ربو بیت پر کامل ایمان ہونا چاہئے اور اس قسم کی حیلہ سازی سے پرہیز لازم ہے  ۔ 

                                 (9)

ایسی اولاد جس کے باعث انسان دین کو فراموش کردیتا ہے اور گناہ کو گناہ نہیں سمجھتا آخر میں اس کی جانب سے عدمِ توجہی کے باعث مایوسی حصے میں آتی ہے آئے دن اس کا مشاہدہ ہوتا رہتا ہے کتنے ہی ماں باپ اپنی اولاد کی بے وفائی اور سردمہری کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں ۔

     (10)  گیارویںشریف  برصغیر  پاک و ہند کے بہت سے مسلمان حضور سیدنا غوث پاک  رحمتہ اللہ علیہ  کے ایصال  ثواب کے لیے اس تقریب کا انعقاد کرتے ہیں  قرآن مجید ،درود پاک وغیرہ کلمات طیبات پڑھ کر کھانا یا شیرینی پر ایصال ثواب کی دعا کے بعد  اس کھانے یا شیرینی کو حاضرین میں تقسیم کیا جاتا ہے جو یقینا جائز ہے ۔خود خواجہ عالم حضرت محمد صادق صدیقی  المعروف  قبلہ حضرت صاحب   بھی متعدد با راس کا اہتمام فرماتے  رہے لیکن  آپ  کے دل میں تڑپ  تھی کہ مسلمانوں کا یہ پیسہ بہتر طریقہ پر خرچ ہو اور ایصال ثواب کی بہتر صورت پیدا ہو جائے۔اس سلسلہ میں آپ  نے فرمایا  ؛عام طور پر گیارویں شریف کے لیے کھانا پکا کر  تقسیم کرنے کا رواج ہے  یہ ایک مستحسن امر ہے  مگر اس میں قدم قدم پر احتیاط کی ضرورت ہے اس کھانے کے ادب کو ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے جس میں با لعموم کوتاہی برتی جاتی ہے  اس بے ادبی سے بچنے کے لیے متبادل طریقہ  یہ ہے کہ اس نذرانے کو کسی مسجد یا درس گاہ  کی تعمیر میں شامل کیاجائے یا پھر کسی درویش یا طالب علم کی ضرورت  پر خرچ کیا جائے ایصال ثواب کا یہ پسندیدہ طریقہ ہے :ِ

 11۔اللہ تعا لی کی یاد میں سب پر یشانیوں کا درماں ہے (11) ایک عقیدت مند نے جناب قبلہ حضرت صاحب سے اپنے حالات کی شکایت کرتے ہوئے لکھا، کسی نے بتایا کہ بڑے سخت تعویذ آپ پر ہوئے ہیں  دعا فرمائیے!اثر بد سے نجات ملے۔جواب میںآپ  نے یوں ارشاد  فرمایا ؛آپ جادو اور تعویذ کے وہم میںنہ پڑیں اللہ تعالی کے سوا کوئی کسی کو نفع یا نقصان نہیں پہنچا سکتا  آپ نماز کی پابندی کریں  اللہ تعالی کو اپنی توجہ کا مرکز بنائیں قرآن مجید کی تلاوت کریں اور وسوسوں سے نجات حاصل کریں : 12) (۔ اولاد کے لئے والدین کی دعا اکسیر ہوتی ہے ان کی اصلا ح کے لیے دعا کرتے رہیں ۔ (13)ا للہ تعالی کے احکا م بجا لاتے رہیں اوامرونوا ہی کا خیا ل رکھیں دارین کی سعادتت احکام شریعت  کی اتباع میں ہے ۔ 

(14 )۔  ہم درویش صلح جو ہیں ہم عفو و درگذر کی تعلیم دیتے ہیں معافی کو فتح قرار دیتے ہیں  نماز اور یاد خدا  سے وابستہ رہیں  یہ سکون کا واحد راستہ ہے۔(15)مومن کسی کی دل آزاری نہیں کرتا  خواہ دوسرے مخالفت ہی کیوں نہ کریں آپ کو اپنی ذا ت اور کا م سے مطمئن ہونا چاہئے۔(16)جہاں اخلا ص ہو گا وہاں بگڑے کام بھی سنور جاتے ہیں ۔(17)فاعل حقیقی اللہ تعالی کی ذات ہے اس پر بھروسہ کریں ۔(18)ہر کام کے لیے وقت معین ہے ذات باری تعالی وقت پر آسائش پیدا کر دیتی ہے  یہ عارضی زندگی ہے جو ہر طور گزر جائے گی  اخروی زندگی کی فکر رکھیں جو اصل مقصد حیات ہے  اس میں کوئی شک نہیں دنیا بھی  اہم ہے مگر آخرت کو اس پر قربان کرنا دیوانگی ہے ۔(19)نیک لوگوں کا اصول ہے کہ وہ دوسروں کو اپنے سے  بہتر سمجھتے ہیں ۔(20) دکھ سکھ سب عارضی ہیں اور زندگی کا امتحان ہیں ۔

 (21)اللہ تعالی  کی طرف  ہمہ وقت متوجہ رہیں  وہی ذات سب سے بڑا سہارا ہے( 22)اللہ تعالی کے ہر کام میں بہتری ہوتی ہے  کوئی حکمت اور مصلحت کار فرما ہوتی  ہے اس ذات پر کامل بھروسہ رکھیں اور پریشان نہ ہوں  اللہ تعالی کی خوشنودی   کے کاموں میں لگے رہیں  نا امیدی اور  اور ما یوسی کو قریب نہ آنے دیں ۔(23) اپنے وظائف اور عبادت کی طرف دھیا ن رکھیں ۔(24) دنیا فانی ہے ا وامرو نواہی پر عمل کریں وقت کی اہمیت جانیں ورنہ کل پچھتاوا ہو گا طبیعت ہر وقت نیکی کی طرف مائل ر کھیں  اور اولاد کو بھی تلقین کریں  ان کی ہدایت اور تلقین آپ پر ہے (25 (اللہ تعالی کی یاد اور ذوق ہی اصل زندگی ہے  ہر وقت مر ضیات الھی کو مد نظر رکھیں  اور نا مرضیات سے بچیں یہی تعلیم اپنے متعلقین کو دیں اور خیال رکھیں کہ وہ ان پر عمل کریں ۔(26)للہ تعالی آپ کو اپنی حفاظت میں رکھے پریشانیوں  سے نجات دے  وہی ذات فاعل حقیقی ہے ہم خدا کے عاجز بندے دعا گو ہیں  اللہ تعا لی آپ کے حسن ظن کے نتیجے میں آسانی  کرے

 (27)جس طرح اولاد کی دنیا وی زندگی کے لیے آپ کوشاں ہیں  ان کی اخروی زندگی کی بھی  فکر کریں ۔ (28)معمولات کو دھیان اور توجہ سے پڑھیں ذکر قلبی نقشبند یوں کا پسندیدہ عمل ہے ادھر ز یادہ توجہ دیں۔ (29)دنیاوی ذمہ داریاں بھی  اپنی جگہ اہم  ہیں مگر  انھیں اللہ تعالی کی ربو بیت  کے حوالے کر دیں ! وہ ذات  بہترین اسباب پیدا کرے گی ۔(30)موت کا وقت معین ہے اس میں تا خیر و تقدیم نہیں  اور مومن کو اپنی معراج تک پہنچنے کے لیے اس راہ سے گزرناپڑتاہے  

                               (31)                         

 چھوٹی چھوٹی آزمائشیں غفلت سے بیدار کرنے کے لیے ہوتی ہیں جو حضرات ان آزمائشوں پر چونک کر اپنا رخ سیدھا کر لیتے ہیں ، اللہ تعالیٰ انہیں عافیت کے ساتھ ساتھ نیکی کی توفیق دیتا ہے اور جو اس پر بھی اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے اور عیش کوشی میں بد مست رہتے ہیں انہیں غلط کاریوں پر بہکنے کے لیے چھوڑ دیا جاتاہے ۔

       )                                                  (32

دنیا فریب اور دھوکے کا گھر ہے ۔بظاہر بڑی حسین نظر آتی ہے مگر اس کا باطن زہر قاتل ہے۔انسان اس کے ظاہر پر فریفتہ ہو کر اس کے حصول کے لیے اپنی ساری توانائی ضائع کر دیتا ہے ۔آخر جب پوری طرح اس مین الجھ جاتا ہے تو پھر کوشش کے باوجود اس سے فرارمشکل ہے تمام پریشانیوں کا علاج صرف توجہ الی اللہ میں ہے ۔

                     ( 33 )                      

 اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس ک احکام کی بجاآوری ہمیشہ مدنظر رہنی چاہے۔  اس مختصر سی زندگی کی صحیح راہ شریعت حقہ ہے اگر اس کو نظر انداز کر دیا اور زندگی فضولیات اورلغویات میں گزار دی تواس سے بڑھ کر کوئی بدنصیبی نہیں  ۔ 

                    (34)                                                  

 ایک پریشان حال سنگی کو ذکر کی تلقین فرمائی اور فرمایا بڑی برکت خدا کے نام میں ہے ۔

            (35)                                               

 لوگ دنیاداروں کی برسیاں مناتے ہیں یہ فعل کسی کو اجنبی محسوس نہیں ہوتا وہاں دنیوی جاہ وجلال کا اظہار ہوتاہے مگر عرس بزرگان دین کی تعلیمات کو اجاگر کرنے کی تقریب ہوتی ہے اس پر انگشت نمائی ہوتی ہے حالانکہ دونو ں میں فرق اتنا ہے کہ برسی دنیوی عظمت کے اظہار کا ذریعہ ہے اور عرس دینی اقدار کی تبلیغ کا ذریعہ ہے ۔

        (36 )                                               

 نقشبندی، قادری ،سہروردی ،اور چشتی تمام سلاسل کے اولیاے کرام ہمارے مشائخ میں سے ہیں ۔کیوں کہ حضرت مجددالف ثانی کو تمام سلاسل سے فیض حاصل تھا ۔اس طرح وہ بھی ہمارے پیران کرام سے ہیں ۔اپنے سلسلہ شریف کی طرف دھیان رکھیں ۔اگر آپ کی موجودگی میں کسی   اور سلسلہ کے بزرگ آجائیں تو ان کا ادب بجالائیں ۔

            (37)                                           

بزرگوں کانام احترام سے لینا چاہیے ۔درویش کے سایہ کا بھی احترام کرنا چاہیے ۔

                                                         ) (38

 اس دور میں بے حیائی اور بے لحاظی اپنے عروج پر ہے ۔کوئی کسی کی قدر نہیں کرتا اسلاف صالحین اور آج کے لوگو ں کے خیال میں بعد المشرقین ہے ۔لوگ اپنے بڑے بڑے محسنوں کو خاطر میں نہیں لاتے اس حالت پر بے حد افسوس ہے ۔

        (39)                                                

  ہمارے سلوک کی بنیاد ادب و احترام پر ہے ۔امن اور آشتی ہمارا مسلک ہے ۔ہماری  تعلیم نیکی اور رواداری کی تعلیم ہے۔ہم ہر قسم کی قیل وقال اور جدل سے گریز کرتے ہیں ۔

          (40)                                               

 ولایت موروثی شے نہیں کہ باپ سے بیٹے کو منتقل ہوجائے ۔ اس کا انحصار عبادت ریاضت زہدوتقویٰ ہے ۔رزقِ حلال کو اس میں کلیدی حیثیت حاصل ہے یہ اللہ تعالیٰ کی امانت ہے یونہی اولاد کو منتقل نہیں ہو جاتی ۔

           (41)                                                             

 اہل سنت کا عقیدہ پاسے کے سونے کی مانند کھرا ہے جس میں کوئی کھوٹ نہیں اور یہی رسول کریم ۖکا طریقہ ہے ۔

                                                         (42)

  کامل توحیداولیاء اللہ کے پاس ہوتی ہے لوگ یونہی توحید توحید کی رٹ لگاتے پھرتے ہیں ۔

                                                            (43)

 زندگی کتنی غیریقینی اور عارضی ہے قدم قدم پر عبرت کا سامان مہیاکر رہی ہے ۔اے انسان !تجھے کس چیز نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے ۔ 

                                                       

 (44)مساجد کی رونق بڑھانے کے لیے وعظ و تبلیغ کی مجالس منعقد کرنی چاہیے ۔

 (45)مساجد کی صفائی کرنا بڑے ثواب کا کام ہے حضرت قبلہ عالم خود اپنے ہاتھ سے مسجد میں جھاڑو دیاکرتے تھے۔

(46) دعا کے دو پر ہیں ایک سچ بولنا دوسرا رزق حلال (یعنی حلال کھانا)

 (47)اگر والدین وفات پاچکے ہوں تو ان کے ایصال ثواب کے لیے صدقہ و خیرات اور نیک اعمال کرتے رہیں انھوں نے بڑی مشکل سے تمہاری پرورش کی ہے ۔دعا کے وقت ان کو یاد رکھا کریں ۔ 

(48) اتباع نبی اکرم ۖ اور محبت شیخ یہ دو چیزیں پختہ ہوں کشف و کرامات نہ ہوں کوئی حرج نہیں ۔

(49)قبلہ عالم خود ساری زندگی اللہ اللہ کرتے رہے اور جو آیا اسے بھی اللہ اللہ بتایا ۔نہ خود اُڑے نہ کسی کو اُڑایا ۔

 (50)ضروری امر یہ ہے کہ بزرگان دین کی تعلیمات کو عام کیا جائے ۔لوگ ان کی تعلیمات سے متعارف ہوں تاکہ ان میں ارفع و اعلیٰ مقامات کے حصول کی تحریک پیدا ہو ،اور رضاے الٰہی حاصل ہو کہ انسانی زندگی کا مقصود یہی ہے ۔ 

قارئین کرام! آپ کی خدمت میں خواجہ عالم  حضرت قاضی محمد صادق صدیقی نقشبندی المعروف  قبلہ حضرت صاحبکے ارشادات  مبارکہ  کا ایک خوبصورت اور مہکتا ہواگلدستہ پیش کر دیا گیا ہے آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم آپ  کے ارشادات پر عمل پیرا ہو کر  اپنی زندگی کی تعمیر و تشکیل کریں ۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالی خواجہ عالم  حضرت قاضی محمد صادق صدیقی نقشبندی المعروف  قبلہ حضرت صاحبکے مزار پر کروڑوں  رحمتوں کا نزول فرمائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (آمین ثم آمین )

 

اگلی خبر پڑہیں پچھلی خبر پڑہیں

ایک ماہ کی مقبول ترین