Jaag Kashmir online news from Dadyal, Dudyal, Mirpur and Azad Kashmir
Jaag Kashmir online news from Dadyal, Dudyal, Mirpur and Azad Kashmir Mon, 16 Jan 2017

فون پر صرف uc browser میں کھولیں

Use UC Browser to open on mobile.

News from Dadyal, Mirpur and all Azad Kashmirسیاستدان نوجوان نسل کو کیا سیکھا رہے ہیں کیا آج کا نوجوان بہتری کی طرف جا رہا ہے ؟ وقاص چوہدری

وقاص چوہدری نے یہ خبر 2016-11-05 کو pm11:11 پرcol کی کیٹیگری میں پوسٹ کی اور ابھی تک اس کو 64 قارئین نے پڑھا ہے۔
 

Jaagkashmir.com urdu news dadyal mirpur azad kashmir

جاگ کشمیر نیوزwww.jaagkashmir.com

تحریر :وقاص علی چوہدری 

سیاستدان نوجوان نسل کو کیا سیکھا  رہے ہیںکیا آج کا نوجوان بہتری کی طرف جا رہا ہے ؟ 

کسی قوم کی تقدیر اور اس کا مستقبل باصلاحیت اور تعلیم یافتہ نوجوان نسل سے وابستہ ہوتا ہے فتح و نصرت کا عالمی نشان نوجوان ہے جس شعبے میں ہو اسے محنت کرنی چاہیے کیونکہ مسلسل محنت اور عمل تقدیر کو بدل دیتے ہیں نوجوان طبقے کو قوم کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے اگر کسی قوم کے نوجوان ہی سست اور کاہل ہو جائے تو شاید ہی وہ قوم کامیاب ہو سکے اگر کسی قوم کے نوجوان بدعنوانی اور تخریب کاری میں ملوث پائے جائے تعلیمی اداروں کے سامنے جو کہ طالب علموں کی بہترین تربیت گاہ ہوتی ہے وہاں توڑ پھوڑ کرنا شروع کر دیں۔ لوگوں کو آرام کی سہولت فراہم کرنے کے بجائے ان کی تکالیف میں اضافے کا باعث بنے اپنے حقوق کی جنگ لڑنے کے لیے خاموشی اختیار کر لیں ۔ سچ کو سچ کہنے کی ہمت نہ رکھتے ہوں ،دوسروں کے غلام ہوں یا ایک زخمی کو اسپتال پہنچانے کے بجائے اس کو سڑک پر مرنے کیلئے چھوڑ دے تو تباہی و بربادی اس قوم کا مقدر بن جائے گی آج کے اس جدید دور میں ہر طرف افرا تفری ہے ہر کوئی اپنا لوہا منوانے کی کوشش میں مصروف ہے جب بھی الیکشن قریب آتے ہیں سیاستدان نوجوانوں کو اپنی کمپین میں شامل کر لیتے ہیں اور نوجوانوں کو ایک ہی بات سکھائی جاتی ہے یہ جماعت ملک کے لیے ٹھیک ہے اور یہ جماعت ملک کے اندر بدنا م ہے 68سالوں سے سیاسی جماعتیں بنتی جا رہی ہیں ۔ہر کوئی جماعت اپنے فائدے کے لیے سوچتی ہے اور ملک و قوم کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے میں مصروف ہے اور نوجوان نسل کو بھی یہی باتیں سکھائی جا رہی ہیں ۔ کئی ایسے بھی سیاستدان ہیں جنہوں نے نوجوان نسل میں منشیات،شراب جیسی لعنت میں ڈبو دیا ہے اپنے مفاد کی خاطر کسی کی بھی دنیا اجاڑنے میں ایک منٹ بھی دیر نہیں لگا رہے ہیں کیا سیاستدانوں کی یہ ذمہ داری نہیں بنتی کے وہ نوجوانوں کے اسلام و دین پر چلنے کی باتیں کریں نوجوانوں کو یہ بات ذہین نشین کروائیں کہ تعلیم ہی سب سے بڑی دولت ہے پڑھو لکھو گے تو ہی ملک کا نام روشن ہو سکے گا لیکن ایسا نہیں ہو رہا ہے ۔ 

اگر تاریخ اٹھا کردیکھیں  تو جن ملکوں نے بھی ترقی کی ہے وہ صرف اور صرف تعلیم ہی کی بدولت کی ہے ہمارے اسلامی ممالک ایک رپورٹ کے مطابق 48کے قریب ہیں ان تمام مسلم ممالک میں یونیورسٹیوں کی کل تعداد500ہے یعنی30 لاکھ مسلمانوں کے لئے صرف ایک یونیورسٹی اس کے برعکس امریکہ میں 5758یونیورسٹیاں موجود ہیںمسلم ممالک کی کوئی ایک بھی یونیورسٹی اپنی جگہ نہ بنا سکی آپ اس سے خود ہی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ تمام مسلم ممالک میں 500یونیورسٹیا ں اور ایک اکیلے ملک امریکہ میں 5758یونیورسٹیاں موجود ہیں ۔ 

کیا پاکستان اور آزاد کشمیر کے سیاستدانوں نے اپنے ملک اور اپنے خطے کے نوجوانوں کے لیے کچھ کیا ہے اگر کیا ہوتا تو آج پاکستان کی مثال بھی کوئی دے رہا ہوتا ؟ 

سیاستدانوں کو تعلیم کی طرف خصوصی توجہ دینی چاہیے آخر کار سب نے جان دینی ہے اور اللہ کو بھی جواب دینا ہے کہ عوام نے اختیار دیا تھا تو کیا کیا تھا ؟ نوجوان نسل کو تباہی سے بچانے کے لیے صرف ایک ہی حل ہے کہ ان کی بہتر سے بہتر راہنمائی اور تربیت کی جائے

میں اس کالم میں نوجوانوں اور سیاستدانوں کے حوالے سے مختلف موضوعات پر مختصر روشنیڈالی ہے  لیکن میری یہ باتیں نوجوانوںاور سیاستدانوں کو بری لگیں  گی لیکن دوستوں میں تنقید برائے تنقید نہیں بلکہ تنقید برائے اصلاح کرنے کی کوشش کر رہا ہوں اگر پھر بھی کسی کے دل کو ٹھیس پہنچی ہو تو پیشگی  معذرت۔ موبائل فونز جدید دور کی اہم ضرورت میں سے ایک لیکن نوجوان طبقے نے موبائل فونز کو بے حیائی کے کاموں کیلئے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے دوسری طرف موبائل فونز کا اس قدر عام ہونے سے نوجوان نسل کی پڑھائی پر بڑے اثرات مرتب ہو رہے ہیں خاص طور پر تعلیمی اداروں میں موبائل فون پر پابندی کے باوجود اس کی یلغار کو روکنا ممکن نہیں ہے اکثر لیکچر کے دوران فون پر بیل بجنے لگتی ہے جس کی وجہ سے پڑھائی کا تسلسل ٹوٹ جاتا ہے کلاس روم میں عجیب سا ماحول پیدا ہو جاتا ہے اور بے جا ایس ایم ایس کی وجہ سے بھی لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اگر مساجد میں نظر دوڑائیں تو نماز یا خطبے کے دوران بھی فونز استعمال کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔اس جدید دور میں انٹر نیٹ کا استعمال عام ہو گیا ہے نوجوان نسل سوشل میڈیا میں مصروف نظر آ رہی ہے ۔دنیا و اسلام سے دوری کی وجہ سے مسلمان اس وقت پوری دنیا میں ذلیل و خوار ہو رہا ہے ۔ 

ون ویلنگ اور موٹر سائیکل کے سلنسروں سے دھماکے بھی نوجوان طبقے میں زور پکڑتے جا رہے ہیں  خصوصا اہم مواقع پر ون ویلنگ کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ جس کی وجہ سے ہزاروں نوجوان زندگی کی بازی ہار چکے ہیں دراصل ہم نے یہ سوچنا چھوڑ دیا ہے کہ ہمارے والدین ہمیں کتنی مشکلات اور مصائب سے جوان کرتے ہیں پھر تعلیم دلواتے ہیں تاکہ ان کا بیٹا ایک اچھا انسان اور بڑا افسر بن سکے لیکن یہ غلط حرکات کی وجہ سے جب لخت جگر جدا ہو جائے تو پھر درد وہی جان سکتا ہے جو صاحب اولاد ہو کتنے ایسے نوجوان دیکھے ہیں جو ان حرکات کی وجہ سے معذور ہو کر پچھتا رہے ہیں ہمیں ان سے نصیحت حاصل کرنی چاہیے۔ ہمارے نوجوان منشیات کا عادی ہوتا جا رہا ہے جہاں اس کے ہاتھ میں قلم ہونی چاہیے تھی وہاں سگریٹ دکھائی دے رہا ہوتا ہے اور اس کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ اہم مواقع مثلا 14 اگست، عید کے دن، 23 مارچ ،چاند راتوں میں پارکزاور بازاروں میں ہلہ گلہ چھیڑ چھاڑ لڑکیوں پر آوازیں کسنا معمول بن چکا ہے جس کی وجہ سے بہت کم فیمیلز اہم مواقع پر پارکزاور بازاروں کا رخ کرتی ہیں آج کے نوجوان نے انٹرنیٹ کو صحیح استعمال کرنے کے بجائے اس کا غلط استعمال شروع کر رکھا ہے۔

حالانکہ انٹرنیٹ زندگی کا اہم جزو بن چکا ہے کیونکہ آج کی نئی نسل کو اگر مغرب زدہ کہیں تو مضائقہ نہیں ہو گا آج کی نئی نسل میں دوسروں کی تقلید کرنے کا جذبہ ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کی طرح موجود ہے لیکن حیرت کی بات ہے کہ نوجوان نسل صرف برائیوں میں تقلید کیلئے ذہانت کو اپناتے ہیں اگر اچھائی کی تقلید کرنے کا کہا جائے تو پرانے زمانے اور دقیانوسی قرار دیا جاتاہے۔ ہماری آج کی نوجوان نسل میں قائداعظم محمد علی جناح، محمد بن قاسم، صلاح الدین ایوبی، نیوٹن بننے کے جذبات ایک فیصد جب کہ عامر خان، سلمان خان بننے کے جذبات 99 فیصد ہیں۔

 ہماری نوجوان نسل نے اتنی جلدی اور تیزی یہ فیشن اپنایاہوا ہے کہ بس اللہ بچائے، ہمارا نوجوان طبقہ اپنا کلچر اور اسلام کی حدود کو بھولتا جا رہا ہے۔ نوجوان تو وہ ہے جو حقیقی جذبے سے سرشار ہو کر لوگوں کے دکھ درد سمجھنے والا ہو اور اگر تعلیم سے فارغ ہو چکا ہے تو فلاحی کاموں پر توجہ دینی چاہیے۔

شاعر نے کیا خوب کہا ہے

نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشتا دیراں سے 

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

جو زیر تعلیم ہیں انہیں قائداعظم محمد علی جناح کے اس فرمان پر عمل پیرا ہونا چاہیے۔

ایمان، اتحاد، نظم، کام کام اور بس کام

قائد اعظم وہ شخصیت ہیں جنہوں نے ملک پاکستان کو آزاد کرنے کے لیے دن رات ایک کی نوجوان نسل کی بہترین انداز سے راہنمائی کی ْاگر ملک بننے کے بعد قائداعظم محمد علی جناح دس سال تک اور زندہ رہ جاتے تو آج ملک پاکستان کے لوگوں کا دنیا کے سامنے اپنا سر اونچا ہوتا مسلمان اگر نبی اکرم ۖ کی دی ہوئی اسلامی تعلیمات اور ان کے فارمولوں پر عمل پیرا ہوں تو ایک بار پھر مسلمانوں کا پوری دنیا پر راج ہو گا 

اگر کوئی نوجوان قائداعظم محمد علی جناح کے اس فرمان پر دل و جان سے عمل کرے تو یقینا میں یہ کہوں گا کامیابی اس کے قدم چومے گی۔ ہمارا آج کا نوجوان تخریب کاری اور ڈکیتی میں ملوث کیوں پایا جاتا ہے۔ وہ اس لئے کہ ایک تعلیم یافتہ نوجوان جب اپنے روزگار کے حصول کیلئے کسی محکمے میں جاتا ہے تو بجائے تعلیمی قابلیت دیکھنے کے لئے وہ لوگ اثر و رسوخ اور دولت کی بنا پر نوکری دیتے ہیںجب یہ واقعات طالب علم کے ساتھ پیش آتے ہیں تو وہ انتقامی کارروائی پر اتر آتا ہے۔ قلم کے بجائے ہتھیار اٹھاتا ہے، بے گناہ لوگوں کو اپنے انتقام کا نشانہ بناتا ہے اور اس کے دل میں وطن کے خلاف نفرت ابھر آتی ہے ہمارے ملک کی ترقی کیلئے وہی جذبے نوجوانوں میں بیدار کرنا ہوں گے جو آج سے 68 سال پہلے قائداعظم محمد علی جناح نے بیدار کیا تھا۔ اس لئے ہمارے آج کے نوجوان کو بہتر بنانے کیلئے بزرگوں کو انہیں راہ راست پر لانا ہو گا۔ انہیں قیمتی نصیحتوں سے نوازیں۔ والدین بچوں کی سوسائٹی کا خیال رکھیں تاکہ یہی نوجوان مستقبل میں وطن کی سلامتی کیلئے جان کو دا ئو پر لگا دے تاکہ اپنے ملک کے بچے بوڑھے اور عورتوں کا سر فخر سے بلند ہو اور شہدا پاکستان کی روح کو سکون ملے۔ آخر میں میں ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کا ایک شعر بیان کرنا چاہوں گا جس پر عمل کرنے سے ایک نوجوان کی زندگی میں روشنی ہی روشنی آ سکتی ہے۔

سبق پڑھ پھر عدالت کا شجاعت کا صداقت کا

لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

 

اگلی خبر پڑہیں پچھلی خبر پڑہیں
Click on image to Enlarge
Jaag Kashmir urdu news mirpur azad kashmir

ایک ماہ کی مقبول ترین