Jaag Kashmir online news from Dadyal, Dudyal, Mirpur and Azad Kashmir
Jaag Kashmir online news from Dadyal, Dudyal, Mirpur and Azad Kashmir Mon, 16 Jan 2017

فون پر صرف uc browser میں کھولیں

Use UC Browser to open on mobile.

News from Dadyal, Mirpur and all Azad Kashmirقبلہ ماسٹر جی دامت برکاتہ اور ہم گناہ گار؟تحریر عاشق حسین

نے یہ خبر 2017-01-06 کو pm07:40 پرcol کی کیٹیگری میں پوسٹ کی اور ابھی تک اس کو 184 قارئین نے پڑھا ہے۔
 

Jaagkashmir.com urdu news dadyal mirpur azad kashmir

قبلہ ماسٹر جی دامت برکاتہ اور ہم گناہ گار؟

تحریر:عاشق حسین(چکسواری آزادکشمیر/رادھرم انگلینڈ)

سوشل میڈیا پرمعصوم بچوں کر اُستاد کے ہاتھوں مار والی ویڈیو کو دیکھ کر نجانے کیوں اپنے ہی بچوں کے چہرے پر کراہت و ترس دیکھ کرہم نے غلطی سے بتا دیا کہ بیٹا آپ کے پِتَّا جی بھی کروڑوں ہم وطنوں کے ساتھ اِس بچے کی طرح روزانہ شفقت پدری کے ماحول سے گزرا کرتے تھے اور ضدی بچوں کی ماں میری پرانی صندوقچی سے میری گورمکھی تحریر والی دو دہائی پُرانی کاپی اُٹھا لائی مجبوراً کچھ لائنیں لکھ رہا ہوں لیکن خبردار یہ تحریر عوام الناس کے لیے ہر گز نہیں صرف میرے ''شہتوت کی پھانٹ کے ساے میں پلے بڑے''معصوم دوستوں کے لیے ایک تاریخی یادہانی ہے۔

 3مارچ 1991ء جب میری عمرساڑھے گیارہ سال تھی اور میرا گورنمنٹ سکول ڈھانگری بالا ضلع میرپور میں چھٹی کلاس میں پہلادن تھا مختلف پرائمری سکولوں سے 46نئے طالب علم آگے پیچھے بیٹھے ہوے تھے اور ٹاٹوں پر بیٹھ کر پرائمری پاس کرنے کے بعد پہلی بار ہم ڈیسکوں پربیٹھے گویا ہوا میں اُڑ رہے تھے۔پہلی گھنٹی پر سفید کپڑوں اور واسکٹ میں ملبوس ایک ماسٹر جی کلاس میں تشریف لائے اور آتے ہی ہمیں انگلش پڑھانی شروع کر دی زندگی میں پہلی بار ہم سب بلیک بورڈ اور پھر اُس پرABCDEلکھی دیکھ کر ورطہ حیرت میں تھے بھلا ماسٹر جی یہ کیا لکیریں سی پھیر رہے ہیں کہ میرے ساتھ ڈیسک پر بیٹھے ہوئے جمیل (مقیم سعودی عرب)ولد صوفی طالب مرحوم(مسجد میں میرے قرآن کے انتہائی شفیق اُستاد) اور حفیظ (پچھلے سات سالوں سے ذہنی توازن کھو چکا ہے)ولدمشہور و معروف صوفی باعمل فقیر محمد(منسلک دربار عالیہ فیضپور شریف) آپس میں کسی بات پر ہنسے اور ماسٹر جی کا ہم سے ہمکلام ہونے کا وہ پہلا فقرہ آج بھی مجھے یاد ہے''تم ہو تینوں آگے آجائو''ہم نے تعمیل کی حکم ہوا ''فوری کان پکڑلو'' اور آپ قبلہ کمرے سے باہر نکل گے۔بھرے کمرے میں پہلے ہی دن گیارہ بارہ سالہ بچوں (اب اپنے بچے دیکھ کر اپنے اوپر ترس آتا ہے)کا ساری کلاس کے سامنے مرغا بننا کِس قدر شرمندگی اور ندامت کا باعث ہوتا ہے فیصلہ آپ پر۔شاید ایک منٹ میں ہی ماسٹر جی ایک عدد تازہ تازہ شہتوت (تُوت) کے درخت کی چھڑی (پھانٹ)لے کر حاضر ہوئے اور مرغا بنے ہوئے تین بچوں کے جسم میں غالبا گوشت والی جگہیں ڈھونڈ ڈھونڈ کرایسا مارا اور مارتے ہی چلے گئے مجھے اچھی طرح یاد ہے ماسٹر جی نے پانچ سے سات منٹ تک مسلسل سینکڑوں سوٹیاں برسانے کے بعد ہمیں ''ہوے فوری اونچے ہوو ہوے''کہہ کر باقی کو متوجہ کر کے پھر بلیک بورڈ پر لکھنا شروع کر دیا مسلسل کان پکڑے رہنے سے ٹانگوں میں طاقت نہیں تھی چہرے خون کی اُلٹی گردش سے مکمل سُرخ اور باقی تینتالیس نونہال کِس کرب سے گزر رہے تھے فیصلہ پھر آپ پر۔ظاہری صفائی اورخوش لباسی کے مرقع قبلہ ماسٹر رمضان صاب دامت برکتہ کا یہ سلسلہ ہائے(پھانٹ کمائی ٹھکائی اور مرغا بنانے کے بعد گوشت ٹٹولائی) روزانہ کی بنیاد پر سردی و گرمی میں جاری و ساری رہا تاوقتیکہ سن 1992ء میں قبلہ ماسٹر نواز صاب دامت برکاتہ نے ساتویں کلاس میں ہماری نکیل پکڑی اور کچھ کم وہیں سے بلکہ اضافے کے طور پر مارو کم اور گھسیٹو زیادہ کا اُصول نمبر دو بھی شامل تفتیش کرلیا گیا ۔وہ دن اور آج کا دن باوجود نیلے درختوں سے عشق کی حد تک پیار کرنے کے مجھے شہتوت(توت) کو دیکھ کرکپکپی طاری ہو جاتی ہے دوسرے لفظوں میں مجھے شہتوت کے ہرے ہرے پتوں میں ماسٹر رمضان جی کا چہرہ نظر آنے لگتا ہے اگر پرانے وقتوں میں بادشاہ کے مرنے پر جس کے مونڈھے ایک مخصوص پرندہ بیٹھتا وہی بادشاہ ٹھہرایا جاتا جیسے حالات سے گزر کر بادشاہ بننے کا موقع ملتا تو میں کم از مسند اقتدار پربیٹھنے کے ٹھیک تین سیکنڈ بعد ساری فوج کو حکم دیتا ''اے وطن کے سجیلے جوانو شہتوت کے درخت تو درخت بیج تک نہ چھوڑو میرے دیس میں''ماسٹر جی تو ہمارے روحانی باپ ٹھہرے مگر شہتوت سے تو ہم انتقام لے سکتے ہیں ہم کو اب جب ادھیڑ عمر بھی ڈھلنے لگی بالوں میں چاندی بھی تقریبا اپنا ہاتھ مکمل کرنے کو ہے احساس بُری طرح کھاے جا رہا ہے کہ اگر مستقل نامی کوئی زمانہ دنیا کے داناؤں نے اپنی اپنی کتابوں میں لکھا تھا اور ہمارے روحانی باپ جو بالغ و عاقل اور تعلیم کی دولت سے مزین تھے سرکار سے اِس پیشہ پیغمبری کا بھرپور معاوضہ لیتے تھے وہ اِس مستقبل سے کیا مُراد لیتے رہے زیور تعلیم کا طریقہ واردات ڈالتے وقت یہ کیوں نہ سوچا گیا یہ نو دس گیارہ بارہ سال کے بچے بھی اگلے سالوں میں بیس تیس اور پھرچالیس کے ہوں گے۔ہمیں بطور مجرم کیوں ڈیل کیا گیا۔قانون فطرت و قانون دنیا تو یہ تھا ہمیں مستقبل کے اُستاد،پروفیسرز،ڈاکٹرز،انجینئرز،سیاستدان،عالم،قانون ساز اداروں کے کرتا دھرتا سمجھ کر کچھ تو احترام دیا جاتا۔مانا ہم انسان اُس وقت کے بچے تھے مگر یہ مان لینے میں کیا امرمانع تھا کہ اللہ نے یہ انسان کسی مقصد کے لیے پیدا کیے ہیں اور اِن کا کِس کِس کے گھر پیدا ہونا منظور قدرت تھا بعینہ اِن انسانوں کی تعلیم و تربیت کے لیے پرودگار نے ہمیں چُنا اور ہم یہ فرض احسان نہیں قرض کے طور پر چکائیں گے۔احسان تو آپ کی معیت میں ہم نے آج تیس سال بعد بطور فرض چکانا تھا جوخود آج الٹا لٹکے ہوئے ہے۔

کس نے دیوار کی ساری اینٹیں ہی اُلٹی رکھ دیں کِس کی وجہ سے یہ عمارت عمارت نہیں بنی بلکہ اس کی بنیاد ہی کھنڈر پر رکھ دی گئی۔ارشاد جود و سخا والی کائنات''میں کائنات کے لیے استاد بنا کر بھیجا گیا ہوں''واضح اور صریحاًہونے کے باوجود ہماری زندگیوں میں ہمارے بچپن پر مسلمان استاد ہوتے ہوئے یہ اُصول کیوں نہیں لاگو کیے گئے۔کمی کہاں تھی اُدھر یا ہم ننھے منے بچوں کے ہاں۔سینتیس سال کی عمر میں بھی کھرچ کھرچ کر یہ تصویر صاف کیوں نہیں ہو رہی اُستاد جی اگر فرائض کی انجام دہی میں پہلو تہی کر ہی رہے تھے تو ہیڈماسٹر صاحب سکول میں کس مرض کی دوا تھے آپ کی تنخواہ اور تجربہ ڈبل تھا آپ پورے ادارے کے سربراہ تھے ہم آپ کی رعیت میں تھے معصوم تھے بچے تھے ہم سے پیار آپ کی طرف فرض تھا ورنہ فرمان نبی''وہ ہم میں سے نہیں جو بڑوں کا احترام اور چھوٹوں سے شفقت سے پیش نہیں آتا''کو لاگو کر کے ماضی کِس کے کھاتے میںڈالیں؟

 

اگلی خبر پڑہیں پچھلی خبر پڑہیں
Click on image to Enlarge
Jaag Kashmir urdu news mirpur azad kashmir

ایک ماہ کی مقبول ترین