Jaag Kashmir News


Jaagkashmir.com urdu news dadyal mirpur azad kashmir

ڈڈیال (وقاص چوہدری سے) 

شہر اور مضافاتی آبادیوں میں قائم فحاشی کے اڈے شرفاء کی زندگیاں اجیرن ، نوجوان نسل تباہی کے دھانے پر پہنچ گئی فحاشی کے اڈوں کے خلاف کاروائی نہ کرنا انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ؟ ڈڈیال کا ایک افغانی پٹھان لڑکیوں کی سپلائی میں ملوث فوٹو اور ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنے لگا باوثوق ذرائع کے مطابق تھانہ پولیس ڈڈیال کے پاس جعلی شناختی کارڈ رکھنے والے افغانی پٹھان کے موبائیل فون سے ملنے والی ویڈیو اور تصاویر ہونے کے باوجود کاروائی سے گریزاں پکڑ کر چھوڑ دیایہ پٹھان لوگوں سے پیسے لیکر لوگوں پرکالا جادو کروانے کے بھی انکشافات ہوئے ہیں تفصیلات کے مطابق ڈڈیال شہر اور گردونواح میں عرصہ دراز سے شہری اور مضافاتی آبادیوں میں چلنے والے فحاشی کے اڈے قانون کے رکھوالوں کے نظروں کے سامنے ہونے کے باوجود ان کا نظر انداز کر دیا جانے لگا نوجوان روز بروز بے راہ روی کا شکار ہو کر معاشرے میں بڑھتی ہوئی گندگی کی وجہ سے چوری م ڈکیتی ، لوٹ مار نوسر بازی اور سٹریٹ کرائم میں اضافے کا سبب بننے لگے جس سے ہنستے بستے گھرانوں کا سُکھ چھن چکا ہے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ  جسم فروشی کا دھندہ کروانے والے عناصر گاہگ کی ڈیمانڈ کے حساب سے دیگر شہروں سے بھی بے سہارہ مجبور لڑکیاں سپلائی کرتے ہیں انہی فحاشی کے اڈوں کی وجہ سے مذکورہ آبادیوں کے بچوں اور بچیوں کی شادیاں بھی تاخیر کا سبب بن رہی ہیں جسم فروشی کے دھندہ میں ملوث اکثر افراد کرائے کے مکانوں اور کوٹھیوں میں رہائش پذیر ہیں اور رات گئے تک شراب کے نشے میں دھت افراد ہیوی سائونڈ کے گانوں پر خود ناچتے ہیں اور کرائے پر لائی گئی لڑکیوں کو بھی نچواتے ہیں جس کی وجہ سے سے پولیس سب کچھ جاننے کے باوجود تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے اس وقت سب ڈویثرن ڈڈیال میں درجنوں فحاشی کے اڈے کام کر رہے ہیں فحاشی میں ملوث افراد غیر ریاستی یا غیر مقامی ہیں جن کے بارے میں متعلقہ پولیس بخوبی آگاہ ہیں اور رات گئے متعدد پولیس اہلکار ان ڈیروں کے ارد گرد منڈلاتے دکھائی دیتے ہیں شہری ، سماجی رفاعی تنظیموں کے عمائدین نے آئی جی آزاد کشمیر سمیت دیگر ارباب اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈڈیال کے اندر بڑے پیمانے پر آپریشن کر کے فحاشی کے اڈوں کا خاتمہ کیا جائے تاکہ نوجوان نسل کا مستقبل تاریک ہونے سے بچ سکے ۔ 

 


Next News Previous News
By Waqas Ch
03/01/2017 2150 views

Leave A Comment