Jaag Kashmir online news from Dadyal, Dudyal, Mirpur and Azad Kashmir
Jaag Kashmir online news from Dadyal, Dudyal, Mirpur and Azad Kashmir Sat, 25 Feb 2017

فون پر صرف uc browser میں کھولیں

Use UC Browser to open on mobile.

News from Dadyal, Mirpur and all Azad Kashmirگائوں کے ایک بابے کی بہادری کی داستانیں !اس بابے کی حالت کشمیر جیسی !مزید پڑھیئے

وقاص چوہدری نے یہ خبر 2017-01-01 کو pm09:40 پرcol کی کیٹیگری میں پوسٹ کی اور ابھی تک اس کو 95 قارئین نے پڑھا ہے۔
 

Jaagkashmir.com urdu news dadyal mirpur azad kashmir

(جاگ کشمیر نیوز )

تحریر:انوارالحق(برطانیہ)

گاؤں کا وہ باہمت بابا بستر مرگ  پہ پڑے پڑے ہر آنے والے تیمادار کو اپنی بہادری کی داستانیں سنا? جا رہا تھا۔ سلسلسہ وار واقعات اور ان سے منسلک اس کے اپنے  قصے تیماداروں کو تازگی، فرحت اور جوانمردی کا احساس دلا رہے تھے۔ بابا نے کیسے پڑوس میں لگی آگ کے شعلوں کے بیچوں بیچ  گزر کر انسانی زندگیوں کو بچایا تھا۔۔۔۔ انہی پڑوسیوں کے گھر پر وڈیرے نے جب اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ قبضہ جمایا تھا تب بابا ہی گاؤں کا وہ پہلا آدمی تھا جس نے پڑوسیوں کو احساس دلایا  کہ اگرچہ قابض وقتی طور پر طاقتور ہے لیکن  وہ ان کے گاؤں کا باسی نہیں ہے اور غیرمقامی اس وقت تک طاقتور رہتا ہے جب تک مقامی  باشندوں کو اپنی قوت پر بھروسہ نہیں ہوتا۔۔۔یوں یہ مفت کا مشیر بابا آس پاس کے دیہات کو غیرمقامی قابض سے نجات دلانے میں پیش پیش رہتا۔

بابا کو وقت سے پہلے بستر مرگ پر پہنچانے میں  ان  پڑوسیوں کی دونوں بچوں کا بڑا ھاتھ شامل تھا جن کی خاطر بابا نے اپنا سکون، وقت اور اپنے مفادات قربان کیے تھے۔  غیر مقامی قابض کو اپنی دیگر مجبوریوں کے سبب پڑوسی کا گھر خالی کرنا پڑا کیونکہ اسے دوسرے علاقوں میں جاری  بے تکی لڑائیوں سے بیش بہا نقصان ہوا تھا۔ اس عقلمند قابض نے گھر خالی کیا بھی تو بڑی مہارت کے ساتھ۔۔۔۔ گھر کے بچے جو ایک طویل عرصہ تک وڈیرے قابض کے زیر پرورش رہے اور مخصوص ماحول میں پل بڑھ کر جوان ہو?، تقسیم کر دئیے گئے۔ گھر کے آنگن میں اک دیوار کھنچی، کمرے تقسیم ہو?، تیر تلوار اور خنجر تقسیم ہو? اور ابدی دشمنی کی شروعات ہو گئیں۔ 

اس تقسیم میں اگر کوئی کمی رہی تو بس پانی کی منصفانہ ترسیل کی جو عجلت میں قابض وڈیرہ شائد بھول گیا کیونکہ پانی کا کنواں اس بابا کے صحن میں تھا جس پر وڈیرے سائیں کا اختیار ہی  نہیں تھا۔ وڈیرے سائیں نے اپنے قبضے کے دوران  بابا سے درخواست کر رکھی تھی کہ وہ معمولی معاوضے کے بدلے اس مقبوضہ گھر کو پانی کی سپلائی جاری رکھیں گے۔ 

اب چونکہ وڈیرہ سائیں اپنا بوریا بستر باندھ کر جا چکا تھا لیکن پڑوسی کے غیر تربیت یافتہ بچے گھر کے تقسیم ہونے پر پانی کے لئے پریشان ہو گئے۔ نرم مزاج خدا ترس بابا نے ان بچوں کو بتانے کی کوشش کی کہ کس طرح  قابض سائیں اس سے پانی خریدا کرتا تھا لیکن دونوں پیاسے بچے بابا کی بات سمجھنے کی بجا? اس کے صحن میں گھس کر توڑ پھوڑ کرنے لگے۔ بابا نے چونکہ اپنا زیادہ تر وقت باہر کے مسائل سلجھانے میں صرف کیا تھا اور اپنی اولاد پر کم توجہ دی تھی سو اس کی اولاد پڑوسیوں کے اس اچانک تخریب کاری کی وجوہات کو سمجھ نہیں سکی۔ اور پڑوس کے لالچی بچوں کے بہکاوے میں آگئی۔ یوں  بابا اپنی ہی اولاد کے سامنے ولن بن گیا۔ 

سادہ مزاج بابا جوہمیشہ پڑوسیوں کا خیرخواہ بنا رہتا ضرورت کی ہر چیز مہیا کرتا اس کش مکش کی وجہ سے صدمے سے دو چار ہو کر بستر پر پڑ گیا۔ پڑوس کے پیاسے بچے اس کی اولاد کو اپنے ساتھ ملا کر اپنے محسن بابا کا گھر جلانے لگے۔ 

اس بابے کی حالت کشمیر جیسی ہے جو اپنے باشندوں کو صحیح طرح سمجھا نہیں پا رہا کہ اس کے اصل دشمن کون ہیں۔ بلکہ اب بابا عمر کے اس حصے میں چلا گیا ہے جہاں نقاہہت کی وجہ سے اس کی زبان ہل نہیں رہی اس کی بہادری کے سبھی قصے ماند پڑتے جا رہے ہیں۔ 

 

اگلی خبر پڑہیں پچھلی خبر پڑہیں

ایک ماہ کی مقبول ترین